جنسی زیادتی اور لڑکیوں کی بے بسی کا تماشا

کل کلاس میں ایک موضوع زیر بحث لایا گیا جس میں ایک موصوفہ کہہ رہی تھیں کہ زیادتی کے واقعات میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا بھی قصور ہوتا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جنسی زیادتی کے واقعے میں قصوروار کون؟ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہو کہ جس میں…

Read more

عورت کے چست کپڑے اور مرد کا شیطان

ایک خاتون کا کہنا ہے کہ اگر کپڑے مسئلہ ہیں تو برقعے والی کے ساتھ جنسی زیادتی کیوں کی جاتی ہے۔ جبکہ میرا خیال ہے کہ اصل مسئلہ کپڑے ہی ہیں۔ جب ایک مرد چست کپڑوں والی لڑکی کو دیکھے گا، تو اس کے دل میں برے خیالات ہی جنم لیں گے۔ مزید یہ اس…

Read more

بچوں سے جنسی زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت

جب کبھی فیس بک، انسٹاگرام، ٹویٹر اور دیگر ویب سائٹس سے فرصت ملے اور بڑوں کے پاس بیٹھ کر وقت گزارا جائے، تو ایسے بہت سے واقعات سننے کو ملتے ہیں جس میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ وہ لوگ اپنے بچپن میں محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ پورا محلہ ایک ہی…

Read more

غیرت کے نام پہ فقط بیٹی ہی قتل کیوں

غیرت کے نام پہ فقط بیٹی ہی قتل کیوں
مارا ہو باپ نے کوئی بیٹا مثال دو

لڑکی اپنے گھر والوں کے سامنے کسی کا نام محض تجویز کے طور پہ پیش کر دے تو قتل ! کسی کو پا لینے کی خواہش کر بیٹھے، تو قتل ! اور تو اور اگر گھر والوں کو شبہ ہو جائے کہ وہ کسی کو پسند کرتی ہے، تو بھی قتل !

Read more

کمرہ جماعت میں جنسی ہراسانی

چند روز پہلے ایک دوست کی یونیورسٹی کا واقعہ سننے کو ملا جس کا احوال کچھ یوں تھا کہ ایک پروفیسر کلاس میں کھڑے ہو کہ طلبہ کو دیگر اساتذہ کے بارے میں بتا رہے تھے کہ کس طرح وہ طالبات کو اپنے آفس میں بلا کر جنسی طور پہ ہراساں کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر…

Read more

عورتوں کے جسم کی زیبائش: مردوں کے لئے ذہنی اذیت

کل ایک خاتون کا کالم نظر سے گزرا۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ مردوں کا اپنے مخصوص اعضاء کو چھونا بھی عورتوں کے لئے جنسی تشدد کے ضمرے میں آتا ہے۔

انھوں کی بات بالکل بجا ہے۔ مردوں کی اکثریت واقعی عورتوں کو ہراساں کرنا اپنا فریضہ سمجھتی ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ شکایت صرف عورتوں کو ہی مردوں سے نہیں ہے بلکہ مرد بھی اس معاملے میں عورتوں کی طرف سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ بات فرض کر لی جاتی ہے کہ ہر دفعہ مرد ہی قصوروار اور عورت ہی مظلوم ہو گی۔ جبکہ سچائی یہ نہیں ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ کچھ واقعات میں مرد مظلوم اور عورت قصوروار بھی ہوتی ہے۔

Read more