کمسن گھریلو ملازمین پر تشدد
”ہاتھ ٹوٹے ہوئے ہیں تمھارے؟ دیکھ کر کام نہیں کر سکتی؟ “ فیروزوالہ کی رہائشی، خاتون نے اپنی 10 سالہ ملازمہ ”جینا“ کو بری طرح جھڑکنے کے بعد اس پر کھولتا ہوا پانی پھینک دیا۔ مزید یہ کہ اس جارحانہ عمل کے بعد بھی جینا کو آہنی سلاخ سے مارا پیٹا گیا۔ بعد ازاں، اس کو ہسپتال لے جانے کے بجائے، شاہدرہ چوک پر بے یار و مددگار پھینک دیا گیا۔ ابتدائی طبی امداد نہ ملنے پر بچی کا ستر فیصد جسم جھلس گیا۔ اس تشدد کی جو وجہ سامنے آئی وہ یہ تھی کہ ملازمہ سے اس خاتون کے ”قیمتی ڈنر سیٹ“ کی ایک پلیٹ ٹوٹ گئی تھی۔ خاتون کے نزدیک یہ ایک ناقابل معافی عمل تھا، جس کے بعد بیچاری ملازمہ کو سبق سکھانا ضروری تھا۔
Read more

