انگلستان کا ڈوور کاسل اور انگلش چینل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند سال پہلے گرمیوں کے ایک چمکدار اور سُنہری دِن کو میں اور چند دوست ڈوور Dover کے ساحل پر پُہنچے، دوستوں کا مقصد انجوائے کرنا تھا جبکہ میرا مقصد انگلش چینل ( سمندر کے اِس حصے کو انگلش چینل کہا جاتا ہے ) کو تاریخی، سٹرٹِیجک اور جنگی اعتبار سے دیکھنا تھا۔ یہ وُہ جگہ ہے جہاں سے فرانس محض اکیس میل دُور ہے، رات کو یہاں سے فرانس کے شہر Calais کی روشنیاں صاف دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ دفاعی اعتبار سے انگلینڈ داخل ہونے کی چابی ہے۔ قبل ازمسیح وقت میں جُولیس سیزر Julius Caesar بھی اپنے فوجی قافلوں کے ساتھ یہاں ہی آیا تھا۔ اُس وقت جُولیس سیزر کے وقت کا رومن لائیٹ ٹاور ابھی بھی یہاں مشرقی سمت میں موجود ہے۔ اِس کو فاروس Pharos کہا جاتا ہے۔ انگلینڈ پر جتنے بھی بیرونی حملے ہُوئے ہیں سب کے سب یہاں سے ہی ہُوئے ہیں۔

ڈوور کا ساحل انگلینڈ کے خُوبصورت ترین ساحِلوں میں شُمار ہوتا ہے، آپ جب بھی یہاں آئیں عُموماً سمندر آپ کو گرم جوشی دِکھاتا مِلے گا۔ سیگلز Seagulls کی قیں قیں جو سمندر کے ساتھ ازلوں سے جُڑی ہے وُہ بھی یہاں پانیوں پر بکثرت نظر آتے ہیں اور دیگر کئی اقسام کے پرندے بھی اپنی سرگرمیوں میں مگن ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں یہ ساحِل بُہت مصروف اور سیاحوں سے بھرا ہوتا ہے، آپ کِسی بھی دِن آئیں لوگ یہاں ہنستے کھیلتے اور وقت کو بہترین انداز سے گُزارتے نظر آئیں گے۔ پہاڑوں کے اُوپر کھیت بنے ہیں جہاں اُس وقت گندم کی فصل تیار تھی۔

ڈوور اپنی سفید رنگ کی ساحلی پہاڑیوں اور اُس پر بنے ڈوور کاسل Dover Castle کی وجہ سے بُہت مشہور ہے۔ برطانیہ میں بُہت سارے قلعے ہیں جِن میں ایک ڈوور کاسل بھی ہے اور دفاعی نُقطہ نظر سے سب سے زیادہ اِہم بھی ہے۔ یہ قلعہ کنگ ہنری دوئم نے 1180۔ 1170 کے دوران یعنی دس سالوں میں ڈوور کاسل کا وُہ اندرونی حصہ تعمیر کرایا جو آج تک قلعے کی پہچان ہے۔

اپنے وقتوں میں اِس قلعے نے فرانس کے حملہ آور چاہے وُہ کنگ لُوئی ہو یا نپولین ہو یا دُوسری جنگِ عظیم میں ایڈولف ہٹلر اُن کے حملے سے انگلینڈ کو محفوظ رکھا۔ لیکن ڈوور قلعے کی کہانی اِن سب سے کہیں پُرانی ہے۔ جب ولیم دی کنکرر William The Conqueror نے انگلینڈ پر حملہ کیا تھا اور سیکسن قلعے کو روند ڈالا تھا، اُس کو اِس کی اہمیت کا اندازہ ہُوا اور 1066 میں دوبارہ تعمیر کا حُکم دیا، اُس کے پڑپوتے ہنری دوئم نے یہ تعمیر مکمل کی، بارہویں صدی کے آخر میں ہنری دوئم تیس سال اقتدار میں رہا۔ ہنری دوئم کا تعمیر کردہ قلعہ جو کہ اُس وقت سے دفاعی اعتبار سے انتہائی اہم جگہ پر ہے۔ قلعے میں سینٹر پیس، ایک میل لمبی گریٹ بیلی وال اور چودہ دفاعی ٹاورز تعمیر کیے ۔ ہنری دوئم نے اور بھی کئی بڑے قلعے تعمیر کرائے جو اُس کی بادشاہت کی شان و شوکت کا اعلان کرتے تھے۔

اِس قلعے کی تعمیر میں ہنری دوئم کی دفاعی اور شاہی ضرورت کے ساتھ ساتھ اُس کا اپنا ملامتی ضمیر اور شرمندگی بھی شامِل تھی۔ یہ قلعہ ایک محل بھی تھا۔ مہمانوں کے لئے کمرے بھی بنائے گئے تھے اور بادشاہ کے لئے بھی۔ دُوسری منزل پر ایک تنگ راستہ ایک ایسے کمرے کی طرف جاتا ہے جو بادشاہ کے لئے ایک مستقل ضمیر کی شرمندگی کا باعث رہا۔ اِس کمرے کی تعمیر میں بادشاہ نے خُود حصہ لیا تھا۔ یہ ایک سینٹ Saint ٹامس بیکٹ Thomas Becket کے لئے بنایا گیا تھا۔

یہ کوئی عام سینٹ نہیں تھا۔ اِس سینٹ کو بادشاہ ہنری دوئم کے ذاتی حُکم اور انا کی تسکین کے لئے قتل کیا گیا تھا۔ ٹامس بیکٹ کبھی ہنری دوئم کا بہترین دوست ہُوا کرتا تھا۔ اور آرچ بشپ بننے سے پہلے یہاں بھی رہتا تھا۔ ہنری دوئم نے جب بیکٹ کو آرچ بشپ اوو کینٹربری Canterbury بنایا اور اُس کو کہا کہ انگلش چرچ پر بھی شاہی قانُون نافذ کرنے میں اُس کی مدد کرے تو بیکٹ نے انکار کردیا اِسی بنا پر بادشاہ نے اُس کو 1170 دسمبر کی آخری تاریخوں میں اپنے سپاہیوں کے ہاتھوں کینٹربری میں قتل کروادیا۔ یہ ایک ایسا بھیانک جُرم تھا جس نے پُورے یورپ کو ہِلا کر رکھ دیا۔ دو سال بعد بیکٹ تو ایک سینٹ کا درجہ ہوگیا لیکن ہنری دوئم ایک نفرت بھرا کردار بن گیا تھا۔

ہنری نے اپنی عزت بحال کرانے اور بدنامی کو کم کرنے کے لئے اور شاید اپنے جُرم کا احساس ہونے پر بوری والا لباس پہن کر اور ننگے پاؤں کینٹربری گیا اور وہاں موجود اَسی راہبوں سے کہا کہ سب اُس کو لکڑی کے ڈنڈے سے تین تین بار ماریں۔ پُوری رات بادشاہ وہاں اکیلا اُس کی قبر پر بیٹھ کر معافی مانگتا رہا۔ اُس وقت سے بیکٹ کا یہ مقبرہ یا چرچ یورپ کا سب سے مشہور سیاحی مرکز ہے اور آج بھی پُورے یورپ سے یہاں سینٹ بیکٹ کے مقبرے پر مسیحی حضرات زیارت Pilgrimage کرنے آتے ہیں۔ اگرچہ کینٹربری کی اپنی ایک الگ اور بُہت پُرانی تاریخ ہے لیکن تھامس بیکٹ کا کینٹربَری میں ایک بڑے ولی کا درجہ ہے۔ جیفری چوسر Geoffrey Chaucer ( چوسر / چاسر دونوں ہی صحیح تلفظ نہیں، اصل تلفظ ”و“ اور ”ا“ کو ملاتے ہُوئے ساؤنڈ ہے ) کی مشہورِ زمانہ کینٹربَری ٹیلز بھی تھامس بیکیٹ کے مزار پر جانے والے مقدس سفرکا ذکر ہے جِس سفر کے دوران ہر کردار نے اپنے ”ذاتی کردار“ سے مِلتی جُلتی کہانیاں سُنائی تھیں۔

فرانس کے بادشاہ لُوئی ہفتم Louis VII نے 1179 اپنے شدید بیمار بیٹے کی صحتیابی کی دُعا کے لئے تھامس بیکٹ کی درگاہ پر حاضری کا پروگرام بنایا۔ پہلی بار فرانس کا بادشاہ بطور مہمان آرہا تھا اور یہ انگلینڈ کی تاریخ کا پہلا غیر مُلکی دورہ بھی تھا۔ ہنری دوئم کے لئے یہ شرم اور ہتکِ عزت تھی کہ اُس وقت ڈوور قلعہ اِس قابِل نہیں تھا کہ فرانس کے بادشاہ کا استقبال وہاں کیا جاتا یا اُس کو وہاں ٹھہرایا جاتا۔ بادشاہ ہنری دوئم نے کنگ لُوئی ہفتم کا ساحِل پر جا کر استقبال کیا اور پھر اُس کے ساتھ کینٹربری گیا۔

اِسی شرمندگی کی وجہ سے بھی ہنری دوئم نے اپنا بے تحاشا پیسہ لگانا شروع کیا تاکہ ڈوور کاسل جلد سے جلد تعمیر ہو۔ اِس قلعے کو فوجی قلعہ بھی بنانا ضروری تھا تاکہ دفاع مضبوط رہے۔ ہنری دوئم کبھی اِس قلعے کو جنگ میں نہ آزما سکا لیکن اُس کے بیٹے کنگ جون ( 1199 ) جو انگلینڈ کا سب سے زیادہ قابل نفرت بادشاہ رہا ہے اُس کا کافی وقت جنگوں میں اور سِول وار میں یہاں اِس کاسل میں ہی گُزرا۔

زیادہ تر لوگ کنگ جون کو روبن ہُڈ کی کہانیوں سے جانتے ہیں لیکن اُس کا کردار انگلینڈ کی تاریخ میں اُن کہانیوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اُس کی وجہ سے تقریباً ڈوور قلعہ اور پُوری انگلش سلطنت تباہ ہونے کے دہانے پر پُہنچ گئی تھی۔ ایسا کیوں ہُوا تھا اِس کا جواب ڈوور کاسل سے متعلقہ نہیں ہے بلکہ ایک سو ساٹھ میل مغرب کی طرف واقع سیلسبری کیتھڈرل Salisbury Cathedral میں موجود ہے۔ یہاں ایک ایسا معاہدہ موجود ہے جِسے دُنیا میگنا کارٹا Magna Carta کے نام سے جانتی ہے۔ یہاں پر میگنا کارٹا کی چار اصل کاپیوں میں سے ایک کاپی موجود ہے۔

یہ معاہدہ 1215 میں ہُوا تھا۔ یہ مغرب کی پُوری تاریخ کا سب سے اہم ڈاکیو مینٹ ہے۔ انصاف، انسانی حقوق، انگلش انسانوں کی شخصی آزادی حتیٰ کہ امریکہ کا آئین بھی اِسی کی بُنیاد پر ہے۔ بہرحال یہ 1215 میں ایک اَمن کا معاہدہ تھا۔ بادشاہ جون اور باغی زمینداروں نوابوں کے درمیان ایک طرح سے اَمن کا مُعاہدہ تھا۔ بادشاہ جون اپنی ناکام فوجی مُہمات کو سپورٹ کرنے کے لئے ٹیکس پر ٹیکس لگا رہا تھا اور یہ سب اُس سے بُہت تنگ تھے۔ میگنا کارٹا میں کوئی لگ بھگ چار ہزار الفاظ ہیں اور 63 شقیں۔ زیادہ تر شقیں اُس وقت کے ٹیکس وغیرہ سے متعلقہ ہیں جو آج اہم نہیں لیکن شِق نمبر 61 بُہت اہم ہے۔ اُس کے مُطابق اگر بادشاہ نے کِسی بھی شِق کی خِلاف ورزی کی تو 25 بیرنز کی کاؤنسل بادشاہ کے خِلاف جنگ شُروع کردے گی۔ بادشاہ نے پوپ کو خط لِکھا کہ یہ معاہدہ نہ صرف بادشاہ کے اختیارات بلکہ چرچ کے اختیارات پر بھی ایک ضرب تھی۔ پوپ بھی قائل ہوگیا۔

اب سول وار شروع ہوگئی۔ باغی نوابوں وغیرہ نے فرانس کے کنگ لُوئی کو انگلینڈ پر حملے کی دعوت دی۔ انگلش کے لئے یہ بات بالکل بھی نئی نہیں تھی۔ پچھلے ایک سو پچاس سالوں میں تین بار ایسا ہوچُکا تھا۔ بہرحال فرانس کے بادشاہ نے حملہ کیا اور جلد ہی کینٹربری، رو چیسٹر، ونچیسٹر اور لندن پر فرانس کا قبضہ مکمل ہوگیا تھا۔ بادشاہ لُوئی کو اپنا قبضہ انگلینڈ پرمستحکم کرنے کے لئے فرانس اور انگلینڈ کے درمیان ایک مضبوط رابطے اور کمیونیکیشن سینٹر کی ضرورت تھی اور ڈوور کاسل یہ ضرورت پُوری کرسکتا تھا اور بادشاہ جون بھی یہ بات اچھی طرح سے سمجھتا تھا۔

کنگ لوئی نے کاسل پر جنوبی طرف سے دیوار توڑنے کی کوشش کی لیکن قلعے کی جنوبی دیوار مضبُوط رہی اور یہ حملہ ناکام ہوگیا۔ اب فرانسیسی افواج نے قلعے کی بُنیادوں کو نیچے سے کمزور کرنے کے لئے سُفید چُونے کی چٹانوں میں سُرنگ بنانی شُروع کردی اور قلعے کے اندر گُھس گئے لیکن انگلش مزاحمت کافی زیادہ تھی تو فرانسیسی سپاہیوں کو پسپا ہونا پڑا۔

تین مہینوں کے محاصرے اور جنگ سے تنگ آکر کنگ لُوئی نے 14 اکتوبر 1216 کو جنگ بندی کا معاہدہ کیا اور واپس چلا گیا اُس کے چار دِن بعد کنگ جان بھی انتقال کرگیا۔ نارتھ گیٹ کی کمزوری سامنے آگئی تھی جِس کو دُور کیا گیا۔ آنے والے کئی بادشاہوں نے ڈوور کاسل کو مزید مضبوط اور وسیع کیا لیکن اِس کا استعمال تقریباً چھ سو سال بعد 1803 / 4 میں سامنے آیا جب فرانس کے بادشاہ نپولین بوناپارٹ نے یورپ میں اپنے دُشمنوں کو کُچلتا ہُوا آگے بڑھ رہا تھا اور اب اگلا پُڑاؤ ڈوور کی طرف تھا اور وُہ بھی ایک لاکھ تیس ہزار کی فوج کے ساتھ ڈوور سے محض ساٹھ میل کی دُوری پر تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •