کراچی کی قیادت کا المیہ
المیہ یہ نہیں کہ کوئی نمائندہ جماعت مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں، المیہ یہ بھی نہیں کہ ماضی میں جو لوگ نمائندگی کرتے تھے ان لوگوں نے کراچی کے مسائل حل کرنے کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی، تحریک ایک پرتشدد رخ اختیار کر گئی اور کراچی کے عوام کو ایک دودھ دیتی گائے سمجھ لیا جس سے بھتے لئے جاتے تھے، کھالیں چھینی جاتی تھیں۔ المیہ یہ ہے کہ مستقبل کے لئے کوئی واضح لائن بھی نہیں، کراچی کے عوام نے اس بار پی ٹی آئی کو اپنا مینڈیٹ دیا اور جو دوسری نمائندہ جماعتیں تھیں وہ بھی مرکز میں پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھ گئی سو ہونا تو یہ چائیے تھا کہ ایک سنجیدہ بات چیت کی شروعات ہوتی اور کراچی اور اس کے رہنے والوں کے مسائل کے سولیوشن ڈھونڈے جاتے۔
اس میں صوبائی سطح پر ایک جدوجہد کا آغاز ہوتا جس میں کراچی کو ایک میٹروپولیٹن سٹی کے درجہ دینے کی بات چلتی، ایک ایسے پاورفل بلدیاتی نظام کی بات ہوتی جس میں کراچی کے لوگوں کے روزمرہ مسائل کا حل ہوتا۔ کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ریوایول ڈسکس ہوتی۔ 18 ترمیم کی روح کے مطابق اختیار، وسائل اور ادارے مزید نچلی سطح پر منتقلی پر کوئی لائحہ عمل مرتب طے پاتا۔
مگر ایسا ہو نہیں پایا، کراچی کے پی ٹی آئی کے نمائندہ، کراچی کا مسائل کے حل کی بجائے چار ہفتوں میں اربوں نوکریوں کا منجن بیچ رہے ہیں، کوئی صدارتی نظام کا پرچار کر رہا ہے اور کسی کو 18 ویں ترمیم میں کیڑے نظر آرہے ہیں۔ متحدہ پاکستان کے خالد مقبول صدیقی نے 18 ترمیم کے خلاف بات کی اور سندھ کی تقسیم کے حوالے سے ایک شوشہ چھوڑا۔ یقیناً کسی پارٹی کو حق پہچھتا ہے کہ وہ ملکی آئین کے تحت نئے صوبوں کا مطالبہ کرے اور اس میں جو جائز دلیلیں ہے متروکہ سندھ کے حوالے سے اس کا پرچار کرے۔ مگر جمہوریت کی روح، اختیارات کا نچلے سطح پر منتقلی ہے اور 18 ترمیم اسی مقصد کے قیام کے لئے حل ہے، اگر کوئی سیاسی جماعت 18 ترمیم کو یکسر ختم کرنے کی بات کرے تو وہ کس کا ایجنڈا پورا کر رہی ہے۔
جب آپ ایک سانس میں نئے ایڈمنسٹریٹری یونٹ کی بات کریں اور دوسرے سانس میں 18 ترمیم کے خاتمے کی بات کریں تو یہ تو تضاد ہے کیونکہ اپ اختیار دوبارہ مرکز کو منتقلی کی بات کر رہے ہیں۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ مرکز کو اختیار کا مجموعہ بنانے پر بضد رہی ہے کیونکہ ان کو کنٹرول کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور اسی کنٹرول کی وجہ سے نچلی سطح پر محرومیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماضی میں جب ون یونٹ بنایا گیا تھا اور صدارتی نظام کے ذریعے مرکز کو مضبوط تر بنا دیا گیا تھا تو بنگالیوں کی محرومیوں کی اس معراج پر پہنچا دیا گیا جس سے ملک ٹوٹ گیا۔
18 ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ کاوش تھی، یقینن نفاد میں غلطیاں ہوئی ہوں گی، یقینن بہت سی چیزوں پر ابہام ہوگا، یقینن نا اہلی کے بھی مسائل ہوں گے مگر مجموعی طور پر یہ ترمیم جمہوری اداروں کی مضبوطی کی طرف قدم تھا، اختیار نچلی سطح پر جانے کی سبیل تھا۔ وقت کے ساتھ غلطیوں، نا اہلیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر کی پڑھی لکھی قیادت کو تو اختیار اور ادارے مزید نچلی سطح پر دینے ایک جمہوری قیادت فراہم کرنی چائیے نہ کہ پھر کسی کا آلہ کار بن کر ان قوتوں کی نمائندگی کرنی چائیے جن کی پالیسیز کی وجہ سے معاشرے میں محرومیوں میں اضافہ ہوا


