او آئی سی، بھارت اور اسرائیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

12 اگست 1969 ؁ء کو مسجد اقصیٰ میں آگ لگادی جاتی ہے۔ اس واقع سے مسجد اقصیٰ (قبلہ اول) کا بہت زیادہ نقصان ہوا تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال پرانی مسجد جس کے ساتھ مسلمانان عالم کی روحانی و ابستگی تھی۔ اُس کا۔ ”منبر“ اور لکڑی سے تعمیر کیا گیا حصہ جل کر خاکستر ہو جاتا ہے اس سے سارے عالم اسلام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ اور زبردست اشتعال پھیل گیا۔ یروشلم کے ایک سابقہ مفتی امین الحسینی نے اسے یہودی حرکت اور سازش قرار دیا۔

اور اس سلسلے میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کا اجلاس بلانے کی اپیل کی جو اسی سال 25 ستمبر کو مراکش کے شہر رباط میں منعقد ہوا جس میں 24 اسلامی ممالک کے نمائندوں نے جن میں اکثریت سربراہان مملکت کی تھی شرکت کی شاہ مراکش نے اس دوران ہندوستان کو بحیثیت مبصر اجلاس میں شرکت کی دعوت دی مگر حکومت پا کستان نے اس پر سخت موقف اختیار کیا کہ اگر بھارت اجلا س میں شریک ہو گا تووہ اجلاس سے واک آؤ ٹ کر ے گا۔ جس پر یہ دعوت واپس لے لی گئی۔ بہرحال مسلمانوں کے سربراہوں کایہ اجتماع بعد ازاں 1972 ؁ء میں او آئی سی کی شکل اختیا ر کر جاتا ہے۔

اس طویل واقع کے بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ او آئی سی کے قیام کی بنیادی وجہ بھی یہ تھی کہ مسجد اقصیٰ کو آگ لگائی گئی تھی۔ اور آئندہ ان جیسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔ اور یہ صرف اُسی صورت ممکن ہے کہ مسلمان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جا ئیں۔ دنیا میں جہاں بھی اس قسم کے واقعات رونماہوں تو اُس کے خلاف مشترکہ لا ئحہ عمل اختیار کیا جا ئے۔

او آئی سی کا عروج 1974 ؁ء کا لا ہور اجلا س تھا۔ جس میں دنیا کے تمام اسلامی ممالک نے جن میں بہت بڑی اکثر یت ان ممالک کے سربراہان کی تھی، شرکت کی اور اجلاس کی سربراہی اُس وقت کے وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے کی۔ اس کے انتہائی کامیاب انعقاد پر ہندو ستان کو یہ باور ہو گیا کہ خواہ پاکستان دولخت ہو گیا ہے۔ لیکن وہ تنہا نہیں ہے۔ دنیا کے اہم ترین ممالک کے ساتھ اُ س کے انتہا ئی قریبی دوستانہ تعلقات ہیں۔

اس کانفر نس نے مسلم دنیا میں اپنے وسائل کی بے پناہ اہمیت سے بھی آگاہی ملی۔ جو تیل کی صورت میں تھا۔ فلسطین کے مسلے کو بنیا دی اہمیت دی گئی۔ واضح کر دیا گیا کہ یو روشلم مسلمانوں کے لیے مذہبی طور پر مقد س اہمیت رکھتا ہے۔ اس کانفرنس نے عربوں خصوصا مصر کو 1973 ؁ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد مذاکر ات میں بہت مضبوط کر دیا۔ اور اسلامی دنیا کے وقارمیں زبردست اضافہ کیا۔

او آئی سی کا لا ہور اجلاس دراصل اسلامی ممالک کی وہ حقیقی اور اصل روح تھی جس بنا پر او آئی سی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ جس کی ابتداء مسجد اقصی میں آتشزدگی کے واقع سے ہوئی۔ کہ آئندہ ایسے واقعات جنم نہ لیں۔

اب ذرا 2019 ؁ء کے واقعات پر غور کریں۔ حالیہ ہفتوں میں متحدہ عرب امارات میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلا س منعقد ہوا جس میں اسلام ممالک کے وزرا خارجہ نے شرکت کی اس اجلاس کا اہم ترین واقع یہ ہوا کہ او آئی سی کی تاریخ میں جب سے اُس کا قیام عمل میں لا یا گیا ہے، پہلی مر تبہ ایسا ہوا کہ پاکستان جیسے انتہا ئی اہم اسلامی ملک نے اُس کا با ئیکا ٹ کر نے کا اعلان کیا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس میں شرکت نہ کی۔

اس کا سبب حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور بھا رتی جنگی جنون تھا۔ جس کے باعث سرحدوں زبردست کشیدگی پیدا ہوئی اور فوجی جھڑپیں اور فضائی معرکہ ہوا (جس میں اللہ نے افواج پاکستان اور پاکستانی عوام کو سرخرو کیا۔ اور دشمن کو زبر دست ہزیمت کا سامنا کر نا پڑا) دونوں ممالک جنگ کے دہا نے پر کھڑے تھے۔ بھارت نے پاکستان سرحدوں کے کھلی اور جارحانہ خلاف ورزی کی اوردوسر ی طرف او آئی سی کے رکن ملک متحدہ عرب امارات کی جانب سے پانچ دہا ئیوں میں پہلی مرتبہ بھارت کو بحیثیت مبصر مدعو کیا گیا۔

بھارت جس نے بحیثیت مبصر (منظمتہ التعاون الا سلامی ) او آئی سی میں شرکت کی اُسکا ماضی تاحال ایک اہم اسلامی ملک اور خود بھارت کے اندر مسلمانوں کے خلاف ریکارڈ انتہا ئی خوفناک ہے۔ بھارت نے مسلم اکثریتی کشمیر پر اول روز سے بندوق کے زور سے قبضہ جاری رکھا ہوا ہے۔ کئی ہزار مسلمان نوجوان بوڑھے، بچے، اور خواتین کو بے دردی سے قتل کر چکا ہے۔ پاکستان کے خلاف اُس نے چار جنگیں لڑیں۔ دنیا میں پاکستان کو تنہا کر نے کا کوئی موقع فروگزاشت نہیں کیا۔

سرکاری تعاون سے مسجدوں کو ہندو شدت پسندوں کے ہا تھوں مسمار کروا دیا جا تا ہے۔ ہندو انتہا پسندی کو مسلمان مخالف جذبات میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ جہاں گاؤ رکھشاکے نعرے بلند کر کے مسلمانوں کو قتل کر دیا جا تا ہے۔ ہزاروں غریب مسلمانوں کو ایک با قاعدہ منظم منصوبہ بندی کے تحت تہہ تیغ کر دیا جا تا ہے۔ اور اُن کے گھروں کو آگ لگا دی جا تی ہے۔ جہاں بچوں تک کو پیلٹ گنز سے زخمی اور ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ کشمیر میں روزانہ نوجوانوں کے شہید کر دیا جا تا ہے۔ ٹرین بم دھماکوں میں شہید ہونے والے پاکستانیوں کے قاتلوں کو بھارتی عدالتیں باعذت بری کر دیتی ہیں۔ اور دشمنی کی انتہا یہ ہے کہ پاکستان کے بسنے والوں سے کھیلنے تک کا حق چھیننے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتا ہے۔

اسرائیل کی خوفناک سازش کہ مسجد اقصی میں آتشزدگی کا واقع رونماہوا۔ جس کے نتیجہ میں او آئی سی کے اندر 1974 ؁ء لا ہور میں فلسطین کے مسلے میں نہ صرف نئی روح ڈال دی گئی بلکہ یاسر عرفات یہاں تک کہنے پر مجبور ہوگیا کہ ”فلسطین کی پیدائش دراصل ہوئی لا ہور میں تھی“۔ بعین اس طرح بھارت میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا راج ہے۔ اور دوسر ی طرف او آئی سی ہے۔ جس کا ماٹو ہی ”مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہے“۔ بھارت کو بحیثیت مبصر مدعو کر تا ہے۔ اور عالم اسلام کا ایک اہم ترین ملک پاکستان احتجاج اور بائیکاٹ ہی کر تا رہ جاتا ہے۔ اگر 15 % مسلم آبادی والا ملک بھارت او آئی سی کا مبصر بن کر شرکت کر سکتا ہے۔ تو 18 % مسلم آبادی والا ملک اسرائیل بھی مبصر بن کرہی شرکت نہ کرلے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •