گمشدہ چیزوں کے درمیان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’گمشدہ چیزوں کے درمیان‘‘ محمد سلیم الرحمٰن کے عالمی ادب سے انتخاب کردہ افسانوں کا مجموعہ ہے جو تراجم کی صورت میں ’’آج کی کتابیں‘‘ کے زیرِ اہتمام کراچی سے چھپا ہے۔ ترجمہ کسی بھی زبان و ادب کی ثروت مندی میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کا اندازہ آپ اُس زبان میں کیے جانے والے تراجم کی اہمیت اور کیفیت سے لگا سکتے ہیں۔ اس خیال کا اطلاق اردو زبان میں کیے جانے والے تراجم پر کیا جائے تو اس کا جواب تسلی بخش نہیں ملے گا۔

بھلا اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کیا ہچکچاہٹ ہو سکتی ہے کہ ہم نے ترجمے کو سنجیدہ عمل نہیں سمجھا۔ اگر ہم تراجم کو واجب اہمیت دیتے تو اس کے لیے کوئی منصوبہ بندی بھی کرتے لیکن ایسی کوئی صورت دیکھنے میں نہیں آتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم موضوعاتی سطح پر چیزوں کو دہراتے رہتے ہیں۔ اس دہراؤ کے نتیجے میں ہمارے فکشن اور شاعری میں بے لوچ تحریریں غلبہ حاصل کر چکی ہیں۔ تاہم ہمیں ناامید ہونے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ زبانوں کی تاریخ میں عروج و زوال آتا ہی رہتا ہے۔ اگر ہم باقاعدہ طور پر اردو نثر کا ارتقائی جائزہ لیں تو اول اول تحریریں بھی تراجم کی صورت میں ملتی ہیں۔ باغ و بہار، آرائشِ محفل، مذہبِ عشق، داستانِ امیر حمزہ یہ ترجمہ نہیں تو اور کیا ہے۔ آپ انھیں آزاد ترجمہ کہہ لیں لیکن یہ ہیں ترجمہ ہی۔

ترجمہ کئی سطحوں پر ہماری مدد کرتا ہے۔ ترجمہ متن کو غور سے پڑھنے کا سلیقہ بخشتا ہے۔ ترجمہ ہی ایسا ہنر ہے جس کی مدد سے آپ اپنی لکھنے کی استعداد میں بہتری لا سکتے ہیں۔ ترجمہ ایک استاد کی طرح اپنے مترجم کی مدد کرتا ہے۔ ترجمے کو اگر ہادی اور رہنما سمجھ لیا جائے اور اسے ایک سلوک کی منزل سمجھ لیا جائے تو محمد سلیم الرحمٰن ایک سالک کی طرح پیش آمدہ منازل کو طے کرتے نظر آتے ہیں۔ محنت، صبر، بے ریائی، استقامت غرض سالک کے لیے راہِ سلوک میں جتنی بھی ریاضتوں کی ضرورت پیش آتی ہے مترجم کو مترجم کو مالک نے تمام خوبیاں عطا کر رکھی ہیں۔ اپنے آبا کی علمی وراثت کے امین محمد سلیم الرحمٰن شاعر، افسانہ نگار، نقاد، محقق، مترجم، لغت نویس اور مدیر کے طور پر اردو اور انگریزی زبان و ادب کی تخلیق میں باوقار تسلسل کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

’’گمشدہ چیزوں کے درمیان‘‘ میں کل چودہ افسانوں کے تراجم موجود ہیں۔ ان میں ڈی۔ایچ۔لارنس اور ایناکیون کی دو دو کہانیاں جب کہ ہرمن ہیسے، کارل چاپیک، ڈورس لیسنگ، ایوان بونین، یوحان وولف گانگ گوئٹے، جوزف کانریڈ، اے ایس بایٹ، ولیم ٹین کی ایک ایک کہانی کو ترجمے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں شامل دو کہانیاں ایسی بھی ہیں جن کے منصفین کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں۔ ان میں دو دوستوں کی کہانی اور نکولیت اور اوکاسن کی کہانی شامل ہے۔

ترجمہ نگاری نظری و عملی دونوں سطحوں پر ایک مشکل فن ہے۔ اس میں لمحہ لمحہ دقتیں مترجم کا راستہ روکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ مترجم جس متن کا ترجمہ اپنی زبان میں کر رہا ہے اس کی تمام لفظیات و اصطلاحات کا تعلق ادب سے ہو۔ علم کے دیگر شعبے بھی اسی متن کی بنت میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ مترجم کو چاہیے کہ وہ ادب کی مختلف اصناف کے مطالعے کے ساتھ ساتھ تاریخ، آثاریات، سائنس، مخفی علوم اور بچوں کی کتابوں کو اپنے لیے اجنبی نہ سمجھے۔ دوسری صورت میں مترجم متن کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تجارتی ضرورتوں کو پورا کرنے والے مترجمین ان باتوں کا خیال نہیں کرتے اور ان کے ترجمہ کردہ متن قابلِ اعتبار نہیں ہوتے۔ وہ متن کی کامل اطاعت نہیں کرتے۔ جہاں بھی مشکل پیش آئے وہ متن کا اتنا حصہ چھوڑ کر آگے ترجمہ کرنا شروع کر دیتے ہیں یا پھر اتنا بھٹک جاتے ہیں کہ متن کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ محنت نہیں کرتے اور اُن کے ترجمے میں کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے۔ تجارتی ضرورت کے تحت کیے جانے والے تراجم کے معیار میں مترجم کی بے دلی کا بھی دخل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ناول یا افسانہ یا کسی بھی اور صنف کا متن اس کا پسندیدہ نہیں ہوتا اور وہ جیسے تیسے اُسے ختم کرنا چاہتا ہے۔ محمد سلیم الرحمٰن متن کے انتخاب میں اپنی پسند کو اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ پبلشر کی منشا پر اپنی پسند کو قربان کر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ متن کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہیں اگر منشائے مصنف کو بیان کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو لفظ کی تمام اشتقاقی حالتوں کو دیکھتے ہیں۔ بڑی محنت اور صبر کے بعد کوئی نہ کوئی ایسا لفظ مل جاتا ہے جو منشائے منصف کے قریب ہو۔

محمد سلیم الرحمٰن کا متن کی پسند کا بھی اپنا طریقہ ہے۔ ’’گمشدہ چیزوں کے درمیان‘‘ پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ وہ ایک سطح پر قاری کو فکشن کی مختلف صورتوں سے متعارف کرواتے نظر آتے ہیں۔ ترجمے کے لیے چنے گئے فن پارے محض واقعیت نگاری یا رومانوی رجحان کے حامل افسانے نہیں ہوتے بلکہ سائنس، فکشن اور طلسمانہ (Fantasy) کا بھی اس پسند میں عمل دخل ہوتا ہے۔ کتاب کا عنوان ’’گمشدہ چیزوں کے درمیان‘‘ سائنس فکشن ہے جسے ایناکیون نے تخلیق کیا جب کہ اس کے مصنف کی دوسری کہانی ’’واردات‘‘ طلسمانہ ہے۔ ’’گمشدہ چیزوں کے درمیان‘‘ میں ڈی۔ایچ۔لارنس کی دو کہانیاں شامل ہیں۔ ’’سورج‘‘ اور ’’پادری کی بیٹیاں‘‘۔ لارنس کے فن کو اسی کے الفاظ میں بیان کیا جائے تو لارنس کا خیال ہے: ’’ایک ناول نگار کے بطور، میں خود کو کسی بھی جتی ستی سے، کسی بھی سائنس دان سے، کسی بھی فلسفی سے اور کسی بھی شاعر سے بالاتر سمجھتا ہوں۔ یہ سب لوگ زندہ انسان کے مختلف اجزا کے عظیم ماہر ہیں مگر ان اجزا کی سالم صورتوں کا کوئی ادراک نہیں رکھتے۔‘‘

’’پادری کی بیٹیاں‘‘ میں میری، لوئیزا اور ’’سورج‘‘ میں ماری نینا اور جولیٹ کے کردار انسانی اجزا کی سالم صورتوں کو بیان کرنے کی عمدہ کاوشیں ہیں۔ محمد سلیم الرحمٰن ترجمے کے لیے انتخاب کردہ متن میں معروضی سچائیوں اور دکھی انسانوں کے ساتھ جڑت کا اظہار بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ ڈورس لیسنگ کی کہانی ’’بوڑھا سردار مشلانگا‘‘ افریقہ میں بسنے والے کالوں کے ساتھ نسلی تفاوت کا پردہ چاک کرتی ہے۔ اس کہانی سے پتا چلتا ہے کہ گورے لوگ جو آج انسانی حقوق کے ٹھیکے دار بنے بیٹھے ہیں اپنی اصل میں کیا ہیں اور ماضی میں ان کا طرزِ زندگی کیا رہا ہے۔

’’فارم پر جو کالے رہتے تھے، وہ بھی اتنے ہی دور پرے تھے جتنے کے درخت اور چٹانیں۔ وہ ایک گھچ پچ ڈھیر تھے جو آپس میں گھلتا ملتا اور اکٹھا ہوتا رہتا ہے، جیسے وہ مینڈکوں کے بچے ہوں، بے چہرہ، جو صرف اس لیے جی رہے تھے کہ خدمت بجا لائیں، ’’جی حضور‘‘ کہیں، تنخواہ لیں اور چلتے بنیں۔ وہ موسم بہ موسم ادلتے بدلتے رہتے۔ آج اس فارم پر ہیں، کل اگلے فارم پر جا ٹکے، اپنی بدیسی ضرورتوں کے تحت جنھیں سمجھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی، مارے مارے پھرتے۔‘‘

ہرمن ہیسے کی تخلیق کردہ کہانی ’’ڈاکٹر فاؤسٹ کے ساتھ ایک شام‘‘ میں پیش بینی کی دلچسپ صورتیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایک لمحے کے لیے ایک ایسا نظر آتا ہے کہ کوئی مر کر دوبارہ زندہ ہوا ہے اور اگلی دنیا کی خبریں دے رہا ہے۔ ’’گرگے نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’ہم نے سچ مچ شیطانی آوازیں سنی ہیں۔ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب یہ دنیا جو نصف سے بھی کچھ زیادہ اس وقت بھی ابلیس کی جاگیر ہے۔ کلی طور پر اس کی ملکیت بن جائے گی۔ یہ دوزخ کا ایک حصہ، ایک صوبہ ہو جائے گا۔ حضرات، آپ نے اس ارضی دوزخ کی، لفظ و صورت پر مبنی، زبان کے بارے میں قدرے سخت اور حقارت آمیز کلمات استعمال کیے ہیں۔ میری رائے میں یہ معلوم ہو جانا کہ دوزخ میں بھی موسیقی اور شعر و شاعری ہو گی، خوشگوار امر ہے اور دلچسپی سے خالی نہیں۔ اس شعبے کا نگران ابلیس ہے، میں یہی کہوں گا کہ وہ اسے بہت عمدگی سے چلا رہا ہے۔ ‘‘

ترجمے میں متن کی صحت اور روح مجروح کیے بغیر اس روانی کے ساتھ اردو کا پیرہن عطا کرنا محمد سلیم الرحمٰن کا ہی خاصا ہے۔ دھوپیلی، مہکیلی، دھوپیلا، ویلا، نبیڑے، ترچھیا ایسے کئی الفاظ ’’گمشدہ چیزوں کے درمیان‘‘ سے ملنے والے جواہر پارے ہیں جنھوں نے متن کی اطاعت میں مترجم کا ساتھ دیا ہے۔ یہ محمد سلیم الرحمٰن کی ذہنی اختراعات ہیں جو اپنے نئے پن کے ساتھ اردو کے دامن کو وسیع کر رہی ہیں۔ ہم اگر بدیسی متون کی دنیا میں داخلہ چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے تراجم کو اپنا ہمدم بنانا ہوگا اور یہ ہمدمی ہمیں بھٹکنے سے بچا لے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •