تحریک انصاف سے سبق سیکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں ردوبدل کرکے اچھا کیا۔ اسد عمر کی تبدیلی سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ تھا۔وہ پارٹی کے چہیتے تھے۔ وزیراعظم انہیں امرت دھار کی طرح استعمال کرنا چاہتے تھے۔افسوس! آٹھ ماہ میں وہ عوام کو راحت پہنچانے میں بری طرح ناکام رہے۔

مہنگائی کے طوفان نے اسد عمر ہی نہیں بلکہ پارٹی کی نیک نامی کو بھی خش وخاشاک کی طرح بہا دیا۔ ایک مختصر سے وقت میں حکمران جماعت اور وزیراعظم عمران خان غیر مقبولیت کی ڈھلوان پر سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔باہمی ناچاکی اور پارٹی کے اندر جاری سرپھٹول کی کیفیت نے اچھی حکومت کی فراہمی کی توقعات اور امیدوں کومایوسیوں اور ناامیدیوں میں بدل دیا۔

درست ‘ تحریک انصاف کو خزانہ خالی ملا۔ قرض دینے والے عالمی ادارے غیر مشروط طور پر مزید رقم ادھار دینے کو تیار نہ تھے لیکن رواں معاشی اور سیاسی بحران سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آئی کہ تحریک انصاف سمیت سیاسی جماعتوں میں معیشت منظم کرنے اور داخلی سیکورٹی کے انتظام وانصرام کی صلاحیت ہے اور نہ لگن ۔

تحریک انصاف ہی نہیں لگ بھگ تمام سیاسی جماعتوں کی تنظیمی صلاحیتوں کا حال پتلاہے۔ شخصیات کے گرد گھومتی پارٹیاں بدقسمتی سے انجمن ستائش باہمی سے زیادہ کچھ نہیں۔تحریک انصاف جوتبدیلی کی علمبرداربن کر ابھری‘ ابتدائی برسوں میں اگرچہ بڑی جماعت نہ تھی لیکن لوگوں کو عمران خان سے امیدیں بہت تھیں۔

حالیہ چند برسوں میں یہ بھان منتی کا ایک کنبہ بن گیاجس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔اقتدار کے بچاریوں نے ایسی بے رحمانہ یلغار کی کہ پارٹی کی شناخت ہی بدل گئی۔ پارٹی اقدار، اس کا منشور اور تبدیلی کے دعوے سب کچھ اقتدار کی دوڑ میں دھرے کے دھرے رہ گئے۔ شکر ہے کہ تحریک انصاف کے اندر جاری کشمکش نے وزیراعظم عمران خان کو اپنی غلطیوں کا احساس دلایا۔انہیں ادراک ہوچکا ہے کہ ایک منظم تنظیم کی موجودگی کے بغیر وہ کوئی قابل ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دے سکیں گے۔

محض حکومت بنالیناکافی نہیں ہوتا۔ سیاسی اور فکری طور پرہم آہنگ ٹیم کی موجودگی کے بغیرتبدیلی کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں کیاجاسکتا۔الیکٹ ایبلز حکومت بنانے میں مدد کرسکتے ہیں لیکن بوسیدہ نظام کو عوام دوست بنانے میں انہیں دلچسپی ہے اور نہ یہ ان کا مسئلہ ہے۔

اندر کی خبر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے طویل نشستوں اور مشاورت کے بعد پارٹی کا پورا ڈھانچہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اگلے چند دنوں میں یوم تاسیس کی تقریب میں اس کا اعلان متوقع ہے۔وزیراعظم نے اپنے رفیق کار سیف اللہ خان نیازی کو پارٹی کا چیف آرگنائز مقرر کیا ہے۔

وہ کافی عرصے سے گوشہ نشین اور غیر متحرک ہوچکے تھے ۔ ان کاشمارتحریک انصاف اورعمران خان کے اولین ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ سیف اللہ کو ہدف دیاگیا کہ وہ پارٹی کو ازسرنو منظم کریں۔ منصوبہ یہ ہے کہ پارٹی اور پارلیمانی سیاست کو دوحصوں میں تقسیم کردیا جائے ۔

ایک گروہ پارٹی کو منظم کرے ۔ ایک خودکار نظام تشکیل دیاجارہاہے جو پارٹی عہدے داروں کی کارکردگی مانپے اور جانچے گا۔ پارٹی کے ذمہ داران کے لیے باقائدہ تربیتی کورسز بھی مرتب کیے جارہے ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی کے صوبائی صدورکو حکومتی عہدے نہیں ملیں گے البتہ عمران خان چونکہ بانی چیئرمین ہیں لہٰذا انہیں استثنیٰ حاصل ہوگا۔

اس طرح پارٹی آزادانہ طور پر سرگرمیاں، حکومت کی مدد اور راہنمائی کرنے کے قابل ہوسکے گی۔ یہ ایک آئیڈیل نظام ہے ۔ مغرب بالخصوص برطانیہ جو جمہوریت کی ماں کہلاتاہے وہاں یہ ہی سسٹم کارفرما ہے۔پارٹیاں طاقتور ہوتی ہیں اور شخصیات ان کے نظم کی پابند۔تحریک انصاف نے گزشتہ آٹھ ماہ میں دیکھ لیا کہ سارا نظام عمران خان کی شخصیت کے گرد گھومتاہے۔

اللہ نہ کرے اگر عمران خان منظر پر نہ رہیں تو تحریک انصاف کی بالائی لیڈرشپ کی جوتیوں میں دال بٹے گی۔ دوسری جانب یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ صدیوں سے شخصیات کے گرد گھومنے والے معاشرے میں مغربی طرز جمہوریت کے انجکشن کا ’’ری ایکشن‘‘ بھی ہوسکتاہے۔ستر برسوں سے سیاسی پارٹیاں جماعتیں کم اور چند خاندانوں یا شخصیات کی جیب کی گھڑی اورہاتھ کی چھڑی زیادہ رہی ہیں۔

نون لیگ شریف برادران اور پیپلزپارٹی بھٹو خاندان ہی کا دوسراچہرہ ہے۔ ان خاندانوں کے بغیر ان جماعتوں کو یکجا رکھنے والا کوئی نظریاتی یا سیاسی فیکٹر نہیں۔ ایم کیوایم اور جماعت اسلامی نے مضبوط پارٹی سسٹم بناکر دکھایا۔ دھونس او ردھاندلی کے ذریعے ایم کیوایم نے کراچی اور حیدر آباد کی سیاست پر غلبہ پایا۔

مافیا کی طرح طاقتور گروہوں کو ایک چھت تلے جمع کیا۔ بدقسمتی سے ملک کے طاقتور اداروں نے بھی اس کی پیٹھ ٹھونکی اور شریک اقتدار کرلیا۔اس کے برعکس جماعت اسلامی نے دعوت، تبلیغ اور خدمت کے ذریعے لوگوں کو ہمنوا بنانے کی کوشش کی۔ ملک کے طول وعرض میں پارٹی کی شاخیں قائم کیں۔ پارٹی میں ابلاغ کا موثر داخلی نظام قائم کیا اور پورے ملک کو اپنے مرکز منصورہ سے مربوط کیا۔پارٹی مضبوط ہوئی اور شخصیات کمزور چنانچہ اس کا ڈھانچہ بڑی حدتک بقول پلڈیٹ کے جمہوری خطوط پر استوار ہے۔

تحریک انصاف دوسری جماعتوں کے تجربات سے استفادہ کرسکتی ہے۔وہ بھی اپنی تنظیم کو منظم، موثر اور سرگرم کرسکتی ہے بشرطیکہ حکمران اور بالخصوص وزیراعظم پارٹی لیڈرشپ اور فیصلوں کو اہمیت دیں۔ منتخب ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی قیادت کے تابع کریں۔ من مانی نہ کرنے دیں۔

یورپ میں پارٹیوں کو حکومت پارلیمنٹ میں نمائندگی کے تناسب سے فنڈز مہیاکرتی ہے۔ جماعتوں کے پاس اپنے مالی وسائل بھی ہوتے ہیں۔ مخیر خواتین وحضرات بھی پارٹی کو عطیات دیتے ہیں۔پارٹیاں افراد یا کاروباری اداروں کی دی ہوئی ’’خیرات‘‘ پر انحصار نہیں کرتیں۔ تحریک انصاف اس جدید ماڈل کو متعارف کرانے کی کوشش کرسکتی ہے۔ وقت ضرور لگے گا لیکن یہ اقدامات ملک کے سیاسی کلچر کو بدلنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 134 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood