فاٹا انضمام یا فاٹا انتشار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتنا بڑا قدم اُٹھانے سے پہلے کیا ہوم ورک اور منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی تھی؟

ڈیڑھ سو سالہ نظام جو وھاں کی سماجی زندگی اور اجتماعی خدوخال کی تشکیل کرتا اور آگے بڑھاتا رہا اسے اکھاڑنے سے پہلے کیا ضروری نہیں تھا کہ اگلے مرحلے کے لئے تیاری تمام تر جزئیات کو مدنظر رکھ کرکی جاتی، لیکن ایسے تکلفات میں پڑنا چونکہ ہمارا قومی مزاج ہی نہیں اس لئے حسبِ توقع اندھیرے میں چھلانگ لگادی اور فاٹا انضمام کا اعلان بغیر کسی تیاری کے کر لیا گیا۔

اور اب ”بھگتو“ والی کیفیت سے دوچار ہیں۔

اکتسویں ترمیم پارلیمنٹ نے منظور کر لی اور فاٹا میں پرانا نظام لپیٹ دیا گیا ظاھر ہے ہر صاحب عقل اور باشعور شخص نے اس اقدام کی تائید اور ستائش کی کیونکہ ایف سی آر جیسا ظالمانہ قانون تو اس مھذب دور اور جدید دنیا میں کسی نیم وحشی اور غیر انسانی معاشرے میں بھی شاید جگہ نہ پا سکے۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ نے فاٹا رولز اور جرگہ سسٹم کو متوازی عدالتیں اور کینگرو کورٹس تک کہا تھا اور بجا کہا تھا۔

چاھئے تو یہ تھا کہ پرانے نظام کی رُخصتی اور نئے نظام کی آمد سے بیشتر طویل مشاورت اور ”brain storming“ کی جاتی وھاں کی تاریخی اور ثقافتی پس ِمنظر، نفسیاتی خدوخال، سماجی زندگی، اور انتظامی معاملات کا عرق ریزی اور گہرائی کے ساتھ مطالعہ اور مشاھدہ کیا جاتا اور نئے نظام کو در پیش چیلنجز اور رکاوٹوں سے نمٹنے کے لئے مربوط پالیسی وضع کی جاتی لیکن سچ تو یہ ہے کہ سیاسی پوائینٹ سکورنگ کی غرض سے ایک سراسیمگی اور احمقانہ جلد بازی میں یہ سب کچھ کیا گیا۔

اس وقت فاٹا میں نئے نظام کو خوفناک چیلنجز درپیش ہیں مثلاًخاصہ دار اور لیویز کی جگہ پولیس لینے لگی ہے لیکن کیا پولیس کو فاٹا کی طرز زندگی کے بارے میں وہ معلومات اور تجربہ حاصل ہے جس سے اول الذکر ادارے ہر حوالے سے گہری شناسائی رکھتے تھے۔

کیا اٹھائیس ہزارخاصہ دار اور لیوی فورسز کو نئے نظام کے لئے ٹرئینگ دی گئی؟

جواب ہے نہیں۔

فاٹا میں عام جرائم مثلاً چوری، ڈکیتی اور قتل ہمیشہ سے نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ وھاں جرگہ سسٹم بہت مربوط اور منظم تھا اور کسی علاقے میں اس طرح کی واردات ہونے کی صورت میں متعلقہ علاقے میں رہائش پذیر قبیلے کو اجتماعی طور پر جرمانہ دینا پڑتا اس لئے یہ جرائم قومی وحدت کی وجہ سے پروان نہ چڑھ سکے، بلکہ فاٹا میں جرائم کی نوعیت مختلف ہے اور یہ جرائم عمومًا بین الاقوامی نوعیت کے ہیں۔ جن میں اسلحہ، منشیات، کرنسی اور نوادرات کی سمگلنگ پوست کی کاشت منی لانڈرنگ، انسانی سمگلنگ، فنانسنگ ٹیررازم (مالیاتی دہشت گردی ) اور کسٹم چوری وغیرہ شامل ہیں، لیکن اھم سوال یہ ہے کہ کیا پولیس کو فاٹا میں داخل کرانے سے پہلے ان جرائم سے نمٹنے اور قابو کرنے کے لئے جدید تربیت اور ٹریننگ دی گئی؟

سو صورتحال یہ ہے کہ پولیس چوری چکاری کی روایتی وارداتوں کا سراغ لگانے کی مھارت بمشکل رکھتی ہے جبکہ اب انھیں بین الاقوامی جرائم سے نبرد آزما ہونا ہے۔

وہ بھی بغیرکسی تیاری کے

اینٹی نارکوٹکس فورس اور ایف آئی اے یقینًا اس حوالے سے نسبتًا زیادہ تجربے کے حامل ادارے ہیں لیکن دیکھنا ہوگا کہ نئے منظرنامے میں ان اداروں کی capacity کیا ہے اور کیا وہ رو بہ عمل ہوسکتی ہے۔

طرفہ تماشا یہ کہ ابھی تک جن پولیس افسروں کو فاٹا میں تعینات کیاگیا ہے ان میں سے بعض پر سنگین مالی بدعنوانیوں کے الزامات ہیں حتٰی کہ کچھ تو پی ٹی آئی کی پچھلی حکومت میں کرپشن الزامات پر نوکری سے برطرف بھی کیے گئے تھے لیکن عدالتوں کے ذریعے بحال ہو کر واپس آئے۔ سنا ہے پنجاب سے ملحقہ خیبر پختونخواہ کے ایک ضلع میں تعینات ایک انتھائی کرپٹ ڈی پی او ( جو اچھی کارکردگی کے سرٹیفیکیٹ تک کا سودا کرنے کی مھارت رکھتا ہے ) ایک اھم قبائلی علاقے میں تعیناتی کے لئے بریف کیس لئے پھر رہا ہے لیکن تا حال بات نہیں بن رہی ہے

سوچا جائے کہ اگر نئے اضلاع میں بھی اس قماش کے لوگ آ گئے تو جرائم کی شرح میں خوفناک اضافہ نہیں ہو گا؟

کیا یہ تمام عوامل اس طرف اشارہ نہیں کر رہے ہیں کہ نئے اضلاع میں خدانخواستہ نئے پولیس نظام کوایک خوفناک ناکامی کا اندیشہ ہے۔

اسی طرح فاٹا میں زمین کی ملکیت عمومًا اجتماعی طور پر قوم کے پاس ہوتی یعنی نظام شاملات سے ملتی جلتی اور یہاں کوئی بندوبستی نظام تھا ہی نہیں اس لئے ان جائدادوں کے فیصلے اقوام کے مشترکہ جرگے کے ذریعے ہوتے رہے لیکن نئے نظام میں پٹواری بھی اپنے بستے سمت داخل ہو رہا ہے، اور پھر اس نظام کی خباثتوں سے نا بلد سماج اس کی لپیٹ میں آجائے گا ظاھر ہے بندوبستی سسٹم لاگو ہوگا تو بات قوم سے افراد کی طرف منتقل ہو جائے گی، لیکن اھم سوال یہ ہے کہ زمین کی ملکیت اور تقسیم کے حوالے سے کیا کوئی مربوط پالیسی اور نظام وضع کیا گیا ہے؟

جو اب یہاں بھی نہیں میں ہے۔

سو کہنا یہی ہے کہ ایف سی آر جیسے جلاد صفت قانون سے چھٹکارہ اور بند و بستی علاقے میں فاٹا کی شمولیت یقینا پارلیمنٹ کا ایک قابل ستائش اعلان تھا لیکن اس اعلان کے عقب سے ابھی صرف خوف اور اندیشوں کی خون آشام بلائیں ہی جھانک رہی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •