معاشی ناکامی کی ذمہ دارحکومت یا وزیر خزانہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کون نہیں جانتا کہ زندگی کی طرح اقتدار یا حکمرانی بھی عارضی چیز ہے مگر اس کے باوجود لوگ جب کرسی پر بیٹھتے ہیں تو خود کو انسان کی بجائے خدا یا کم از کم تیس مار خاں ضرور سمجھنے لگتے ہیں کسی کا ظرف یا کمینہ پن دیکھنا ہوتو اس کا اس کے مخالفین کے متعلق اظہارِ خیال یا لب و لہجہ ملاحظہ فرما لیجیے۔ 72 سالوں میں ہم نے کئی حکومتیں آتی جاتی دیکھی ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ”بڑے پن“ کے جو ریکارڈ ہماری موجودہ ہستیوں نے بنائے یا توڑے ہیں وہ بے نظیر اور بے مثال ہیں اس استعفیٰ پر کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ تماشا دکھا کر مداری گیا۔

”ڈرامہ“ اور ”مداری“ کے الفاظ تو چھوٹے ہیں ”مداری“ کا لفظ تو ہمارے ایک سابق عوامی لیڈر کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے جبکہ ہم نے لفظ ”ڈرامہ“ اپنے ایک ممدوح کے لیے سنبھال رکھا ہے کہ جس دن اُن کی رخصتی ہو گی اُسی دن اُن کے ساتھ ہی شیکسپئر کا یہ محبوب لفظ بھی ارسال کر دیا جائے گا۔ ہمارے ایک اور دوست ہیں جن کا ا یک تھڑے سے دوسرے پر تبادلہ ہوا ہے ماشاء اللہ اتنے ”سچیار“ ہیں کہ ہمسائیگی میں انتخابی مہم چلانے والے مودی جی بھی ان کے سامنے اپنی شکست وریخت تسلیم کر لیں گے۔

خدا کے بندو کچھ خدا سے ڈرو اپنے چار دن کے الو کو سیدھا کرنے کے لیے قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر کیوں رسوا و ذلیل کر رہے ہو۔ کون سی تبدیلی؟ کہاں کی ایمانداری؟ کیسا انقلاب؟ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ؟ ”وفاکیسی؟ کہاں کا عشق؟ جب سر پھوڑنا ٹھہرا تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو؟ “ وہ مسکین مظلوم اور سیدھا آدمی درست کہتا تھا کہ میرا رولا آپ لوگوں سے نہیں ہے تنازع تو کسی اور سے ہے آپ لوگ تو خواہ مخواہ بیگانی شادی یا لڑائی میں عبداللہ دیوانے بنے بیٹھے ہو کیا اب بھی کوئی ثبوت چاہیے؟

ایک دن پہلے تک سب کچھ نارمل تھا۔ قومی معیشت کی ڈوبتی کشتی، گیارہیویں والے پیر کی طرح تیرتی دکھائی جا رہی تھی۔ معیشت سنوارنے ہی کے نہیں ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے سہانے سپنے دکھائے جا رہے تھے پھر اگلے ہی روز اچانک ماورائی پیغام آیا، خلائی نہیں کہیں گے کہ یہ لفظ خاصا رسوا ہو چکا ہے۔ یہ ہماری دور دور کی کوڑیاں لانے والے بزر جمہورے جو ہر خبر پر نظر کے دعوے اٹھائے بقراطیاں جھاڑ رہے ہوتے ہیں یوں نہلے پر دہلے پھینک رہے تھے کہ دراصل یہ پارٹی کے اندر گروپوں کی لڑائی ہے یہ فلاں کھلاڑی یا کفتان کی دانائی ہے۔ دوسری طرف بندہ اُن سے پوچھے جو سچ بولنے والے چند صحافیوں پر چاچا خواہ مخواہ بنے چڑاہیاں کر رہے تھے، پیمرا کے نوٹسز تھمائے جا رہے تھے۔

ہماری وہ معزر خاتون جو خواہ مخواہ خواجہ آصف جیسے شخص کے ناجائز الفاظ کا شکار ہوئی تھیں یوں پورے وثوق کے ساتھ لڑ رہی تھیں استعفیٰ؟ کون سا استعفیٰ؟ یہ جعلی ٹویٹ ہوئی ہے۔ ماورائی ہستیوں سے کہیے اشک شوئی یا منہ رکھی کے تحت تھوڑا لحاظ ہی فرما لیا کریں۔ آخر ہم لوگوں نے میڈیا کے سامنے کسی کو منہ بھی دکھانا ہوتا ہے لیکن کہاں کی منہ رکھی اور کون سی لحاظ داری آپ لوگ قومی معیشت کی ناؤ بیچ منجھدار ڈبو رہے ہوں تو کیا وہ بھی دیگر کمزور تماش بینوں کی طرح منہ لٹکائے دیکھتے رہیں۔

اگرانہوں نے عصا استعمال نہیں کرنا تو کیا بے بنیاد کی کلیمی کو چاٹنا ہے۔ پوری قوم چیخ رہی تھی کہ تبدیلی کے نام پر لائی گئی اس مہنگائی کے تندور نے اُن کا برتھا بنا ڈالا ہے بچہ بچہ تبدیلی کے معماروں کو غلط انداز نظروں سے دیکھنا شروع ہو گیا تھا ایسی ننگی جگ ہنسائی تو ننگے دھڑنگے مارشل لاؤں میں بھی نہیں ہونے پائی تھی۔ جو سبز باغ دکھانے والوں نے کروا دی تھی

8ماہ میں عام غریب آدمی کو دن میں تارے نظر آگئے بلکہ وہ چاند اور سورج کو بھی دو روٹیوں کی طرح دیکھ رہے ہیں اس پر تبدیلی کا ایک وزیر فرماتا ہے کہ عوام دو روٹیاں نہ کھائیں ایک پر ہی اکتفا کر لیں کیا کل کو وزیر موصوف یہ بھی فرمائیں گے کہ عوام دو کپڑے بھی نہ پہنیں ایک پر ہی اکتفا کرلیں۔ یہ ارسطوئے زماں کبھی کہا کرتا تھا کہ تیل 47 روپے پر لے کر آئے گا مگر 8 مہینوں میں اس نے غریب عوام کا تیل نکال دیا ہے اور نوید یہ سنائی جا رہی ہے کہ سمندر سے اتنا تیل نکلنے والا ہے کہ عرب شریف والے پیچھے جائیں گے۔

غضب خدا کا آپ نے 3 ارب ڈالر کا قرض واپس کیا ہے اور 17 ارب ڈالر کا نیا چڑھا دیا ہے۔ کرپشن کرپشن کے کھیل میں جن کو طعنے دیتے آپ لوگوں کے گلے خشک نہیں ہوتے انہوں نے تو کم از کم ان قرضوں سے ملک میں ترقیاتی کام کروائے سڑکوں کے جال بچھائے موٹر ویز بنوائے آپ نے 8 ماہ میں کیا کیا؟ دعوے تو 90 دن میں انقلاب لانے کے تھے قوم 90 دن کے وعدے سے ویسے ہی پریشان ہو جاتی ہے۔ آپ نے 8 ماہ میں جو کیا وہ کس کو نظر نہیں آرہا سٹاک ایکسچینج کس برے طریقے سے بیٹھ چکی ہے لوگوں کے اربوں ڈوب چکے ہیں 52 ہزار پوائنٹس کو 34 ہزار تک گراتے ہوئے شرح نمو 6 سے 3 پر آچکی ہے ڈالر کی اڑان نہ معلوم کہاں جا کر ٹھہرے گی آئی ایم ایف سے 8 ارب ڈالر مزید آئیں گے تو کن شرائط کے ساتھ؟ کہاں گئی وہ خود کشی کی باتیں جو آج تریاق بتائی جا رہی ہیں۔ ”جی قوم معاف کرے ہمیں پتہ نہیں تھا“ کس چیز کا پتہ نہیں تھا؟ ہر بات تو اعداد و شمار کی صورت لکھی ہوئی موجود تھی۔

8 ماہ قبل دھائی دی جاتی تھی ہم لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔ معیشت کا یہی ایکسپرٹ مابعد یہ کہتا سنائی دیا کہ وہ تو سب سیاسی باتیں تھیں، حقائق تو یہ نہیں تھے باہر ایسی کون سی دولت پڑی تھی جسے ہم واپس لاتے اب ٹیکس ایمینسٹی کا زور شور ہے۔ 8 ماہ میں چار بجٹ پیش کرنے والا جاتے ہوئے یہ خبر بھی سنا گیا ہے کہ آنے والا بجٹ مشکل تر ہو گا یعنی ابھی عوام کو مزید نچوڑا جائے گا روپے کو مزید ذلیل و رسوا کیا جائے گا۔

ماہرین معیشت یہ کہہ رہے ہیں کہ 8 ماہ میں قومی معیشت کو پانچ سو ارب کا نقصان پہنچایا گیا کیا اس کے بعد پوری ڈھٹائی اور بلند بانگ دعووں کے ساتھ پریس کانفرنس کرنا بنتا تھا کہ ”فیصلہ تاریخ کرے گی“ کشتی منجھدار میں ڈبو کر نوید سنائی جا رہی ہے کہ چڑھ جا بیٹے سولی رام بھلی کرے گا میں اس مریض کو ICUسے آپریشن تھیٹر میں لے آیا ہوں دوسری وزارت کی پیشکش کی گئی ہے لیکن میں نے قبول نہیں کی ویسے میں حاضر ہوں جب بھی مجھے بلایا جائے گا۔

تبدیلی کی تازہ لہر پر تبصرے تو بہت ہوئے ہیں مگر سب سے جاندار تبصرہ بڑے بھائی زبیر عمر کا ہے فرماتے ہیں اس بربادی کا ذمہ دار میرا بھائی اکیلا تو نہیں ہے نہ ہی تمام تر پالیسیاں وہ اکیلا بناتا تھا پارلیمانی نظام میں مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے جو اسے اوپننگ بیٹسمین اور شیڈو وزیر کہتے تھے کچھ حصہ ان کا بھی ہے۔ اپوزیشن کے خیال میں تو اصل ذمہ داری کپتان کی ہوتی ہے نیز یہ کہ ڈول نکالنے سے نہیں اصل کام کنواں صاف کرنے سے ہوگا۔

ایک سابق وزیر کے بقول لوٹی دولت واپس لانے کا جعلی چورن اتنی دیر ہی چلنا تھا جو بھی ہے اس تبدیلی نے پہلے سے کمزور حکومت کو سخت سیٹ بیک پہنچایا ہے بہت سے جوشیلے چہرے لٹک گئے ہیں۔ ایسے دانشور بھی موجود ہیں جو اس کی کڑیاں آئی ایم ایف کی ان شرائط سے ملاتے ہیں جو دفاعی بجٹ میں کٹ لگانے کو قبول کرنے سے متعلق تھیں 18 ویں ترمیم کی موجودگی میں بحالی معیشت کے لیے اس نوع کے مطالبات تو آئیں گے شاید اسی پس منظر میں پارلیمانی نظام پر نزلہ گراتے ہوئے صدارتی نظام کے گن شروع کروائے جارہے ہیں وطنِ عزیز میں ایسے تماش بینوں کی کمی نہیں جو اس بد نصیب ملک کے غریب بائیس کروڑ عوام سے زیادہ ادارہ جاتی مفادات کے رکھوالے بن کر خوشامد پسندی میں بازی لے جانا چاہتے ہیں۔ پی پی کے چیئرمین تو دیگر متنازع وزراء کے استعفوں کا مطالبہ بھی دہرا رہے ہیں لیکن بہت سے لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ بریگیڈیر اعجاز شاہ اور اعظم سواتی جیسے متنازع لوگوں کو کیوں لا یا جا رہا ہے۔ نئی بحث پنجاب کے متعلق ہونے جا رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •