جمیل جالبی:تہذیب کی ایک صدی ہم سے رخصت ہوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین روز قبل ڈاکٹر جمیل جالبی اپنی بھرپور ادبی زندگی کا ایک عہد گزار کر ہم سے رخصت ہو ئے۔ یہ کسی شخصیت کی نہیں بلکہ تہذیب کی ایک پوری صدی کی رخصتی ہے۔ کل رات بوجھل ہاتھوں سے جب ان کی کتاب ”ارسطو سے ایلیٹ تک“ بک شیلف سے اٹھا کر اپنے سامنے رکھی تو جالبی صاحب کی موت کا یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ علی اکبرناطق کے بقول ایسی علمی شخصیات ہرگز فوت نہیں ہوتیں کیونکہ فوت تو وہ تب ہوں جب ہم نے انہیں کسی وقت طبعی زندگی میں دیکھا ہو۔ ہماری ان سے راہ و رسم ان نایاب تحریروں سے ہوتی ہے جو ہمیشہ کے لئے دل میں راہ پا جاتی ہیں۔ ایسی شخصیات سے ایک روحانی رشتہ ہوتا ہے اور روحانیت نے آب حیات پی رکھا ہے۔ لہذا ظاہری موت کے باوجود علمی و د ادبی شخصیات نہ فقط خود زندہ رہتی ہیں بلکہ دیگر علم دوست افراد کے لئے بھی منبع حیات بن جاتی ہیں۔

ناصرعباس نیر، آصف فرّخی، تحسین فراقی اور وجاہت مسعود جیسے ادیب اور ادب شناس یقینا ڈاکٹرجمیل جالبی کی خدمات پر قلم اٹھائیں گے اور ان کی تحقیق و تنقید پر جلی حروف میں تبصرے فرمائیں گے۔ ان حضرات کے قلم کے سامنے بندہ کی کیا حیثیت ہے ؛ حقیر کی یہ تحریر جمیل جالبی مرحوم سے اپنی عقیدت کے اظہار کے سوا کچھ نہیں۔ بلاشبہ ڈاکٹر جالبی ایک ہمہ جہت علمی شخصیت تھے مگر ادبی مورّخ اور تنقید نگار کے طور پر ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

اس ضمن میں چار مجلد پر محیط ان کی کتاب ”تاریخ ادب اردو“ بسیار اہمیت کی حامل ہے۔ یہ کتاب پرانے سانچوں کو توڑ کر کسی حدتک ادبی تاریخ نویسی کا جدید ڈھانچہ فراہم کرتی ہے کیونکہ اس میں پرانے اردو ادیبوں کے تخلیقی کاموں کو جدید اندازتنقیدکی کسوٹی پر پرکھا گیا ہے۔ ڈاکٹرجمیل جالبی اپنی اس کتاب کی بدولت محمد حسین آزاد اور رام بابوسکسینہ جیسے ادبی مورّخین کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔ شاید اپنے مخصوص تنقیدی اسلوب کی وجہ سے وہ اپنے پیشرو ادبی مورّخین پر بھی برتری رکھتے ہوں۔

جمیل جالبی کے تنقیدی شعور کا اظہار نہ فقط تاریخ ادب اردو میں ہوتا ہے بلکہ اس کی ایک اور اہم کتاب ”ارسطو سے ایلیٹ تک“ بھی سراسر تنقیدی خیالات پر مبنی ہے۔ خصوصا اس کا مقدمہ نہایت خوش اسلوبی کا مظہر ہے جو بذات خود ایک مستقل کتاب کا درجہ رکھتا ہے۔ ”تنقید اور تجربہ“، ”نئی تنقید“ اور ”معاصر ادب“ جیسے مضامین کے مجموعے اردو تنقید نگاری میں گراں قدر اضافہ ہیں جن کی بدولت وہ ایک صاحب نظر محقّق اور منجھے ہوئے نقّاد کے روپ میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ میرا جی اور ن م راشد پر ان کے تحقیقی کام کی ادبی حلقوں میں بیحد پذیرائی ہوئی ہے۔

پاکستان کی تشکیل کے ساتھ ہی قومی تشخص اور کلچرل آئیڈنٹٹی کا مسئلہ پیش آیا تو جمیل جالبی نے اپنی قومی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ”پاکستانی کلچر“ کے عنوان سے نہایت عمدہ کتاب تحریر کی۔ ڈاکٹر جالبی نے متعدد انگلش مضامین کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ ان کے تراجم اس قدر شستہ، رواں اور منفرد ہیں کہ قاری کو اصل تصنیف کا شائبہ ہوتا ہے۔ ان کی کتاب ”ارسطو سے ایلیٹ تک“ دراصل مغربی ادبی شخصیات اور ان کے افکار کا مبسوط اردو ترجمہ ہے جسے پڑھ کر قاری مغرب کے ڈھائی ہزار سالہ ادبی ارتقا سے آشنائی حاصل کر سکتا ہے۔ اس میں قدما کے دور، نشاۃ الثانیہ، کلاسیکیت، رومانیت، سائنسی دور اور بیسویں صدی کے ادیبوں کے افکار و نظریات پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے جو اردو دان طبقے کو مغربی تنقید ی خیالات کا مکمل ادراک فراہم کرتی ہے۔

بلاشبہ جمیل جالبی نے علمی اور تخلیقی حوالے سے نہایت بابرکت زندگی گزاری ہے۔ انہوں نے انفرادی حیثیت میں جو علمی فعالیت انجام دی اتنی فعالیت تو بڑے بڑے ادارے بھی اپنے تمام تر وسائل کے باوجود انجام دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہوتا کہ وہ مطالعہ و تحقیق کی خاطر جم کر بیٹھنے والے آدمی تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مرتّب ذہن کے مالک بھی۔ ان کا جریدہ ”نیا دور“ کراچی کے ادبی مکتب کا معتبر ترین نمائندہ شمار کیا جاتا تھا۔

انگلش، اردو اور فارسی ادب میں ماسٹرز کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد انکم ٹیکس کے شعبے سے منسلک ہوئے اور کمشنر کے عہدے تک پہنچ کر ریٹا‏ئرمنٹ حاصل کی۔ اپنی طویل ملازمت کے دوران بھی ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ 1983 ء میں ‎ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر تعینات ہوئے جہاں پانچ سال تک اپنی خدمات پیش کیں۔ اس دوران اردو لغت بورڈ کے سربراہ کی اضافی ذمہ داری بھی نبھاتے رہے۔ بعد میں مقتدرہ قومی زبان کے صدرنشین بھی رہے۔ وہ بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر رہے مگر تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی کاموں کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ برقرار رکھی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انہیں چالیس سے زیادہ با ارزش کتابوں کے مصنف یا مترجم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •