غزل گائیکی کے شاہکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موسیقی ایسی با ترتیب اور باقاعدہ آوازوں کو کہتے ہیں جو انسانی کانوں اور طبیعت پر خوشگوار اثر چھوڑے اور اس کے برعکس ایسی بے ترتیب آوازیں جو طبیعت کو ناگوار لگیں شور کہلاتی ہیں۔

موسیقی میں دو چیزیں بہت اہم اور بنیادی ہیں پہلی ’سُر‘ سُر ایک مخصوص فریکیونسی یا پچ کی آواز کو کہتے ہیں جبکہ آواز ارتعاش سے پیدا ہوتی ہے موسیقی کے سات سُر اور تال کے ماترئے کلاسیکل گھرانوں کی پہچان ہیں۔ اہل یورپ نے ساز تو کمال کے ایجاد کرلئے ہیں لیکن سُر آٹھواں ایجاد نہیں کرسکے۔ بنیادی طور پر سات سُر ہیں ”سا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی“۔ اب راگ انہی سُروں سے بنائی گئی خاص ترتیب کو کہتے ہیں۔

اور دوسری ’لَے‘ لے وہ چیز ہے کہ آپ کس ترا ’سر‘ اور فریکیونسی کا ساتھ دیتے ہیں، ایک اچھے گایک کے لیے سر لگانا فن سمجھا جاتا ہے۔

بر صغیر پاک و ہند میں موسیقی کی تاریخ دو ہزار سال تک پھیلی ہوئی ہے اسے کہاں سے شروع کیا جائے اور کہاں ختم! اس سے ہمارا تعلق نہیں۔ موسیقی ہماری زندگیوں میں کافی گھر کر چکی ہے، لیکن میں یہاں صرف بھارت اور پاکستان کی بات کروں گا ان دونوں ممالک میں لوگوں کے دلوں میں موسیقی اتنی رچ بس گئی ہے کے ہر گھر میں نہیں تو ہر دوسرے گھر میں مو سیقی سے لگاؤ رکھنے والے لوگ موجود ہیں پِھر وہ چاہے پاپ میوزک ہو، فوک میوزک ہو، کلاسیکل ہو، مذہبی ہو یعنی قوالی، حمد، نعت وغیرہ، علاقائی ہو، یا کسی بھی قسم کا میوزک ہو۔

موسیقی میں ہر شخص کی اپنی پسند ہوتی ہے آج کل کے بھارتی فلموں کے گانے یا پاکستانی فلموں کے گانے اگر آپ سنیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ گانے والوں کی آواز، لیرکس، شاعری، کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی۔ بلکہ لڑکیوں کے ٹھمکے اور مختلف سٹیپس دکھاے جاتے ہیں، خیر ان میں ہدایت کار یا پروڈیوسرز کا کیا قصور وہ تو وہی کریں گے یا دکھایں گے جو لوگ دلچسپی سے دیکھتے ہیں مطلب ’جو‘ دکھتا ہے وہ بکتا ہے ’والی ٹرم کی پیروی کی جاتی ہے۔

آج کل کی نسل کو ایسے ہی بے ڈھنگے، اور دھوم دھڑکے والے گانے پسند ہیں، ایسے گانے کسی شادی، پارٹی، فنکشن یا کونسرٹس وغیرہ پر تو چل جاتے ہیں مگر عام حالات میں نہیں سنے جاتے خیر میں تو دونوں صورتوں میں نہیں سنتا کیوں کے نا تو مجھے ایسے گانے پسند ہیں اور فنکشنز یا پارٹیز پر تو جاتا ہی نہیں۔

باذوق لوگوں کی پسند ہوتی ہے، جس میں گانے والے کی لیرکس سمجھ میں آئے اور لیرکس کے کوئی سر پیر بھی ہوں، شاعری بھی اچھی ہو، اور گانے والے کی آواز بھی قدرتی ہو اور اچھی ہو آج کل کی طرح کمپیوٹرایزڈ نا ہو۔ میں یہاں ذکر کروں گا بہترین غزل گایک کا جن کو یا تو میں سن چکا ہوں یا جنہوں نے پاکستان، بھارت میں اپنی پراثر گائکی سے اپنا لوہا منوایا ہے۔

ان میں استادامانت علی خاں، بڑے غلام علی صاحب، فتح علی خان صاحب، مبارک علی خان صاحب، سلامت علی خان صاحب، نصرت فتح علی خان صاحب، مہدی حسن خاں صاحب، راحت فتح علی خاں صاحب، ملکہء ترنم نور جہاں، فریدہ خانم، عابدہ پروین صاحبہ، جگجیت سنگھ، چترا سنگھ وغیرہ کے نام سرِ فہرست ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے فن موسیقی میں کمال حاصل کیا۔

استاد امانت علی خاں صاحب نے بہت سی غزلیں گایں مگر خواجہ حیدر علی آتش کی لکھی ہوئی غزل ’یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے‘ کو بہت خوبصورت انداز میں آتش صاحب کی غزل کے موتیوں کو اپنی ریشمی آواز میں پرویا۔

ان میں مجھے مہدی حسن خان صاحب بہت پسند ہیں جس خوبصورتی اور دھیمی لے میں یہ گاتے ہیں اور اوپر سے غزلیں بھی ایسے شعراء کی گائی ہیں کہ جنہوں نے اپنی شاعری سے نا صرف پاکستان بلکہ بھارت اور پوری دنیا میں ایک مقام حاصل کیا۔ جیسا کہ فیض احمد فیض صاحب اور احمد فراز صاحب، اور بھی شاعروں کی لکھی ہوئی غزلیں گائی ہیں۔

لیکن مجھے جو ان کی آواز میں زیادہ پسند ہیں وہ فیض احمد فیض صاحب کی ’گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے‘ اور احمد فراز صاحب کی ’اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں‘ اور ’رنجش ہی سہی دِل ہی دکھانے کے لیے آ‘ سب سے زیادہ پسند ہیں۔

اِس کے بعد جگجیت سنگھ نے اپنے دھیمے مزاج میں اور میٹھی اور پر وقار آواز میں دھیمے میوزک کے ساتھ غزلیں بہت کمال گایں، ان کا ایک البم ’مراسم‘ سننے والا ہے، مگر اِس کے لیے آپ کا با ذوق ہونا ضروری ہے۔

نصرت فتح علی خان نے جس خوبصورتی سے غزل اور قوالی کو گایا ہے شاید ہی کوئی گا سکے، ان کو پاکستان، بھارت سمیت پوری دنیا میں بہت پزیرائی ملی، نصرت فتح علی خاں صاحب کو اس دار فانی سے گزرے بایس برس گزر گئے لیکن ان کے گاے ہوے سینکڑوں گیت، غزلیں اور قوالیاں آج بھی لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہیں۔

غلام علی خان صاحب کو جنہوں نے سنا ہے وہ کبھی ان کے پر سوز انداز کو بھلا نہیں پایں گے۔

عابدہ پروین نے غزل اورصوفیانہ گایکی کو ایک الگ جہت بخشی ہے اور صوفیانہ گائکی میں اپنی ایک پہچان بنائی اور اس کو بہت خوبصورتی سے نبھایا ہے، یہ سننے والے پر اپنا سحر طاری کر دیتی ہیں اور ذاتی تور پر بہت پسند ہیں۔

موسیقی کا یہ سفر آج بھی ہندوستان اور پاکستان میں جاری ہے۔ گو کہ اب اس پہ ویسی توجہ نہیں دی جا رہی جیسی پہلے دی جاتی تھی مگر آج بھی چند گھرانے (شام چوراسی، پٹیالہ، گوالیار، پنجاب، کرانہ، آگرہ، اندور، جے پور) فیصل آباد، لاہور، کراچی، دیپالپورکے قوال گھرانے اور کچھ گائیک ایسے موجود ہیں جو اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>