آل تو جلال تو، آئی بلا کو ٹال تو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد حکومتی ٹیم میں سب گھبرائے ہوئے ہیں اور گہرے سائے کے بادل چھائے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بعد پارٹی کا دوسرا بڑا چہرہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر تھا۔ عوام کو ان کے بڑے دعووں سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں جن پر وہ پورا نہیں اترے۔ اگر صرف کارگردگی کی بات کرے تو پھر شاید بامشکل سے چند بندے بچے، باقی سب کا حال اسد عمر جیسا ہی ہونا چاہیے۔ پر یہاں اسد عمر کی قسمت نے سپورٹ نہیں کیا۔ کیونکہ کارگردگی بھی خراب اور ماضی کے رفیق بھی رقیب بن گئے۔ اس کے باوجود کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ فیصلہ ایک چھوٹے سائز کے صفحے پہ پہلے ہی ہوچکا تھا۔ کہ بدل دو۔ کیونکہ سسٹم کی نگرانی صرف وزیراعظم نہیں کر رہے بلکہ کہیں اور سے بھی ہورہی ہے۔

اور یوں طاقتور اسدعمر دل برداشتہ ہوکر شہر اقتدار کو الوداع کہہ گئے۔ اسد عمر کے قریبی ساتھی کہتے ہیں کہ وہ پارٹی کے سنئیرز سے شکوہ کناں ہیں۔ اور یوں پارٹی کے پوسٹر بوائے کا چیپٹر کلوز ہوگیا۔

اور سب قیاس آرائیاں کر رہے تھے کہ جہانگیر ترین اور اسدعمر کی ان بن سے اسد عمر کو دیر پا نقصان پہنچے گا۔ ان دونوں کی سرد جنگ سے نہ صرف اسد عمر بلکہ حکومت اور پارٹی کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔ اب جب سے نعیم الحق اور فواد چودھری کے درمیان گیم خراب ہوئی۔ فواد بھی دعائیں مانگ رہے تھے کہ مجھ سے بلا ٹل جائے۔ لیکن، وزیراعظم عمران خان صاحب کا سیکرٹ فرینڈ ان کے زیادہ قریب ہے اور یوں فواد چوہدری بھی گئے۔ غلام سرور خان کے سر پہ تلوار لٹک رہی تھی، کیونکہ گیس مہنگی، پیٹرول مہنگا ہوگیا، یہ ان کا قصور نہیں تھا کیونکہ ان کی یہ قابلیت نہیں تھی۔ جیسے اب فواد چوہدری صاحب کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزرات دی گئی ہے تو رزلٹ صفر ہی نکلے گا۔

ایسے ہی دیگر وزرا کا معاملہ ہیں اب ذرا نئے کھلاڑیوں کی بات کرتے ہیں جن میں اب سے زیادہ طاقتور بریگیڈیئر ر اعجاز شاہ صاحب ہیں۔ جو بہت تیز دماغ کے اور مقتدر حلقوں کے قریبی رہے۔

چائے کے دھڑوں پہ بیٹھنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو اس وزارت کے لئے سلیکٹ کروایا گیا ہے۔ یہ وفاقی وزارت داخلہ وہ وزارت تھی جس کو وزیراعظم عمران خان صاحب نے پرویز خٹک اور شیخ رشید کو بھرپور زور لگانے کے بعد بھی نہ دی۔

اعظم سواتی کی دوبارہ انٹری ہوئی، محترمہ فردوس عاشق اعوان کو بھی تھوڑا صلہ مل گیا۔ اب پوسٹر بوائے کے بعد خزانے کے نئے سربراہ حفیظ شیخ صاحب، جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ بندہ کمپیٹنٹ ہے لیکن، ان کی ساتھ ترجیحات اور بھی ہیں۔ اہل عقل یوں بھی سوچتے ہیں کہ اگر آئندہ چند مہینوں میں معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو اسد عمر کے بڑوں کے ساتھ بھی ان جیسا سلوک ہوگا۔ گویا ابھی بھی خطرہ برقرار ہے۔ اتنی ہر طرف کنفیوژن ہے کہ کوئی بھی حکومتی نمائندہ یا سرکاری افسر اپنے عزت بچانے کی فکر میں ہے عوامی مفادات کی کوئی غرض نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا جلسے میں اپنے ہی دو وزرا اعلی کو یوں للکارنا کنفیوژن کی واضع مثال ہے۔ ان کو بھی نہیں پتہ لگ رہا کہ کون تاریں وہ بھی تھوڑی ننگی ہلا رہا ہے جو صرف جھٹکا دیتی ہے۔ وزیراعلی کے پی کے کی کارگردگی کچھ بہتر نہیں، کیونکہ ان کا انتخاب ان کی قابلیت نہیں بلکہ سیاسی مداخلت سے ہوا، اس لئے پارٹی کا اپنا ایک گروپ انہیں نالائق ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے وہ کسی سیاسی انہونی کے نہ ہونے کی دعا کررہے ہیں۔

اب عثمان بزدار صاحب ایک سادہ آدمی ہے ان کو خان صاحب نے اپنے دائیں اور بائیں گروپس کو رام کرنے کے لیے سی ایم لگا دیا۔ اور ان کی زبان ڈاکٹر شہباز گل کو لگا دیا۔ پر معزرت کے ساتھ زبان نہیں قوم کو دماغ چاہیے حضور! اب یہ تو کنفرم لگ رہا ہے کہ جی کا جاناں ٹھہر گیا۔ وہ غریب آدمی ہے بلا ٹالنے کے لیے صدقہ کہا سے دے۔ وہ کوئی بزنس ٹائیکون ملک ریاض تھوڑی ہے۔ یہ بلا پتہ نہیں چاہتی کیا ہے، کس کس کا سر لینا ہے اس نے پہلے کراچی کے سیاستدانوں کو کھا گئی اب ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو کھانا چاہتی ہے پر کھاتی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •