وزیر صاحب! کاپی کلچر کا ذمے دار 14 سالہ بچہ نہیں آپ ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ بھر میں امتحانات کا موسم ہے۔ اس موسم کے دوران موسمی مینڈکوں کا نکلنا معمول سے زیادہ اچھلنا، کودنا نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف سرعام کاپی، دوسری طرف فلمی ایکشن کا سین رکارڈ کراتے صوبائی وزیر تعلیم کے سکولوں کے دورے اور دھمکیاں۔ سوشل میڈیا کے میدان پر وزیر تعلیم کی تعریف کرنے والے اور صوبائی حکومت کو سندھ کے ناقص تعلیمی نظام کا ذمیوار قرار دے کر کڑی تنقید کرنے والوں میں الفاظ کی جنگ چھڑی پڑی ہے۔

سندھ میں ہر کوئی چاہتا ہے کہ کاپی جیسی بیماری سے جان چھڑا دی جائے، نہیں تو نوجوان نسل کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔ امتحانات کی موسم میں کاپی کلچر پر زبردست بحث جاری ہے۔ کئی لوگ بشمول حکومتی دھڑے کاپی کا ذمیدار محض طلبہ کو قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ان سولات پر بحث کرنا اشد ضروری ہے کہ کاپی کلچر کے اصل اسباب کون سے ہیں؟ کیا سکولوں میں مؤثر تعلیم دی جا رہی ہے کہ نقل کی نوبت نہ پڑے؟ کیا امتحانی ڈھانچہ، نصاب اور اساتذہ کی تربیت معیاری ہے؟

یہ عالم آشکار حقیقت ہے کہ کاپی کلچر تعلیمی نظام کے لیے اتنا نقصاندہ ہے، جو تعلیمی معیار، طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کر دیتا ہے۔ اگر سندھ میں تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو ماسواۂ مایوسی کچھ بھی نظر نہیں آئے گا!

گاؤں کے سرکاری سکول وڈیروں کے اوطاقیں، گودام اور جانور پالنے کی جگہ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ کئی ایسے سکول ہیں، جہاں پر طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے تو ان کے لیے صرف ایک ٹیچر مقرر ہے۔ اور جہاں طلبہ کم ہیں تو وہاں پر اساتذہ کی تعداد بڑی ہے۔ بڑی تعداد میں سکول بند پڑے ہیں۔ گاؤں کے اکثر سکولوں میں ٹیچنگ سٹاف، کلاس رومز، کمپوٹر لیب، فرنیچر، پنکھے، پانی اور باتھ رومز کی سہولیات میسر نہیں۔

”جدید سندھ کی معیشت“ نامی کتاب میں سندھ کی برباد تعلیم کے متعلق اعداد و شمار صوبائی حکومت کی تعلیم کے بارے میں سنجیدگی کا پردہ فاش کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ”7۔ 12 ملین بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ 21 پرائمری سکولوں کے حساب سے ایک سیکنڈری سکول ہے۔ 9 ہزار 4 سو 99 سکول ایسے ہیں، جن میں صرف ایک کلاس روم ہے۔ 18 ہزار 2 سو 93 سکول ایسے ہیں، جن میں سے فی سکول پر ایک استاد مقرر ہے۔ 50 فیصد اسکولوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ 46 فیصد میں ٹوائلیٹ اور 63 فیصد سکول بجلی کی سہولیات سے محروم ہیں۔ “

سندھ کے تعلیمی نظام مکمل بربادی کے کنارے پر کھڑا ہے، مگر ہمارے وزیر تعلیم محض دکھاوے کے لیے امتحانات کی موسم میں چھاپے مار کر اپنے فرض کی ادائگی سمجھتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، یونیسیف کے ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں 2 سو ارب روپے سے زائد بجٹ کے باوجود تعلیمی اداورں کے عمارات زبوں حالی کا شکار ہیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہو رہا ہے کہ وزیر تعلیم امتحانی مراکز پر چھاپے مار کر اور کاپی کلچر کے خلاف بیانات دے کر اخبارات کی سرخیوں میں آنے سے سمجھتا ہے کہ سب ٹھیک ہوگیا۔ مگر ہم نے نافذ کی گئی تعلیمی ایمرجنسی بھی دیکھی اور کھو کھلے بیانات بھی سنیں ہیں۔ مگر نتائج مذکورہ اعداد و شمار کے صورت میں سامنے آئے۔

بڑا المیہ یہ ہے کہ نجی تعلیم کو فروغ دے کر سرکاری تعلیم کو بٹھا دیا گیا ہے۔ طبقاتی تعلیمی نظام کی وجہ سے نچلے طبقے کے بچے تعلیم جیسے زیور سے محروم ہے۔ دوسرے طرف وزرا کے بچے بیرون ملک میں پڑھ رہیں ہے۔ اگر تعلیمی نظام اتنا ہوتا تو الیٹ کلاس اور وزرہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں کیوں نہیں داخل کرواتے؟

بڑے افسوس کے بات ہے کہ ہمارے وزیر تعلیم کو کاپی کلچر کا سبب یہ ناقص تعلیمی نظام نظر نہیں آتا۔ اصل سبب ناقص تعلیمی نظام ہے، کاپی تو صرف اس کا نتیجہ ہے۔ کاپی کا ذمیدار 14 برس کے طلبہ کو نہیں ٹھرایا جائے۔ ہمارے محسن کامریڈ بخشل تھلہو کہتے ہیں کہ ”نقل جیسے پرانے، پیچیدہ مسئلے اور بحران کا دوش 14 یا 15 برس کے بچے کو دینا ایسا ہے جیسے مچھر مار دوائی مچھروں کے بجائے ملیریا کے شکار مریض کو دینا۔ کاپی کا مرض پھیلا ہوا ہے، اس مرض کا علاج کیا جاتا ہے، بیمار کو بیماری کی سزا نہیں دی جاتی۔ “ میں سمجھتا ہوں کہ کاپی کلچر کا ذمیدار 14 سالہ بچہ نہیں حکمران ہیں۔

اگر تعلیمی نظام کی تبدیلی لانی ہے تو وزیر تعلیم کو دکھاوے کے ایکشن لینے کے بجائے سنجیدگی اختیار کر کے اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •