عصمت جونیجو کی لوٹی ہوئی عصمت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئے روز ہمارے سماج میں ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو دل لرزا دیتے ہیں، زمین کانپ جاتی ہے اور انسانیت شرم سے جھک جاتی ہے۔ سانحہ قصور سے لیکر آج تک انگت کیسز روزانہ کی بنیاد پر درج ہو رہے ہیں، آخر سماج کو ایسا کیا ہو گیا ہے کبھی سننے میں آتا ہی کسی مدرسے میں مولوی کے ہاتھوں بچہ درندگی کا شکار ہوا ہے، کبھی کسی یونیورسٹی سے خبر آتی ہے کوئی حوا کی بیٹی جنسی درندگی کا شکار ہوئی ہے، کبھی کسی گلی سے کسی بچی کی خون میں لت پت نعش ملتی ہے تو کبھی کسی گھر سے زیادتی کے بعد قتل کی گئی نعش ملتی ہے۔

آخر یہ سلسلہ کب رکے گا؟ نہ ہمارے تعلیمی ادارے محفوظ ہیں نہ دینی مدارس نہ ہسپتالز نہ پبلک پارکز نہ پبلک ٹرانسپورٹ نہ اور کوئی جگہ سماج کس سمت میں جا رہا ہے جنسی ہوس پرستی ہر جگہ موجود ہے کوئی ایسا ادارہ نہیں جو اس سے محفوط ہو۔ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر 10 کم عمر بچوں، بچیوں سے جنسی زیادتی ہوتی ہے اس شرح میں ہر سال 11% اضافہ ہو رہا ہے اس کریول نمبرز (رپورٹ کا نام) کے مطابق سال 2018 میں 3,832 صرف رجسٹرڈ کیسز سامنے آئے ہیں جن میں 55% بچیاں 5 سال سے 18 سال کی عمر تک اور 45 % بچے 6 سے لیکر 15 سال تک کی عمر کی جنسی ہوس کا نشانہ بن رہی ہیں۔

پاکستان میں ایسے کئی سانحات رونما ہوئے ہیں جیسا کہ قصور واقعہ جس میں 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا یا پھر ایسے لاتعداد واقعات جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہیں، اور دوسرے ایسے واقعات جو میڈیا کی نظر سے اوجھل ہوتے ہیں یا خبروں کی زینت نہیں بن سکتے یا پھر کیسز رجسٹرڈ نہیں ہو سکتے پھر تو تعداد اور بھی زیادہ بڑھ جائے گی۔

ان واقعات میں کمی تو نہیں آئی لیکن بے رحمی میں اضافہ ضرور ہو رہا ہے ہے ایسا ہی اک دل کو دہلا دینے والہ واقعہ کراچی کے علاقے کورنگی میں بھی پیش آیا ہے جہاں عصمت جونیجو کی عصمت میسحاؤں کے ہاتھوں لوٹی گئی ہے۔ 25 سالہ عصمت جونیجو کا تعلق کراچی کے علاقے ابراھیم حیدری سے ہے اک غریب مچھیرے کی بیٹی جو کہ گریجویٹ تھیں۔

دانت کے درد کی تکلیف کی وجہ سے سندھ گورنمنٹ ہسپتال کورنگی اپنا علاج کروانے گئیں میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نے متعلقہ ہسپتال میں کچھہ عرصہ کام بھی کیا تھا لیکن ہراسمنٹ کی وجہ سے چھوڑ آئیں تھی۔ اسے ہسپتال میں جب وہ دوا لینے گئیں تو دانت کی تکلیف کی دوا کے بجائے وحشی ڈاکٹر ایاز نے زہریلا انجکیشن اپنے کمپائونڈر شاہزیب کے ہاتھوں لگوا کر جنسی ہوس کا نشانہ بنایا اور پھر بے رحمی سے قتل کر دیا گیا جس میں مرکزی ملزم ڈاکٹر ایاز ہے جو کہ ابھی تک مفرور ہے، اور اس کے ساتھ ٹیکنیکل اسٹاف کا عملہ جس میں کمپاؤنڈر شاھزیب اور دوسرے لوگ شامل ہیں، ایسے لوگ مسیحائی پیشے پر کالہ دھبہ ہیں۔

تین دن تک تو اس بات کو غلط انجکشن لگنے کی وجہ سے موت کا کارن بتایا جا رہا تھا لیکن جب یہ بات افشا ہوئی تو کہانی کا رخ ہی دوسرا سامنے آیا جس میں موت غلط انجکشن کی وجہ سے نہیں بلکہ جنسی دردنگی کی وجہ سے ہوئی ۔ پولیس نے ایف آئی آر داخل کر کے ٹیکنیکل اسٹاف کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ مرکزی ملزم ڈاکٹر ایاز ابھی تک فرار ہے، حکومت کی جانب سے نوٹس لینے کی بھرمار ہے جس میں چیف منسٹر صاحب، آئی جی سندھ پولیس اور چیف سیکریٹری سندھ اس سانحے کا نوٹس لے چکے ہیں لیکن ابھی تک ایف آئی آر میں ابھی تک زیادتی اور قتل کی دفعات شامل نہیں۔

اب سرکاری ہسپتال ادویات کے بجائے نعشیں دے رہے ہیں! اور میسحا جیسے پیشے کو غلیظ لوگوں نے رسوا کر دیا، حالیہ سارے جنسی زیادتی کے واقعات میں اکثر بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے ایسے واقعات ہمارے سماج میں روز کا معمول بن چکے ہیں دو دن تک سب چیخ و پکار کریں گے چلایا جائے گا لیکن کچھ دونوں بعد پھر کوئی دوسرا واقعہ رونما ہو جائے گا اور پہلے واقعے سے دھیان ہٹ جائے گا۔

اور کتنی عصمت جونیجو جیسی حوا کی بیٹیوں کو اس وحشت کی بھینٹ چڑھایا جائے گا؟ اور کتنی بچیان اپنی جاں گنوائیں اور کتنی حوا کی بیٹیوں کی عصمت دری کی جائی گی؟ حکومت وقت کو چاہیے کہ جنسی زیادتی اور قتل کے خلاف سخت سے سخت تر قانون سازی کی جائے، ایسے ملزموں کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی انسان نما جانور کسی باپ کا گھر نہ اجاڑ سکے اور کسی عصمت کی عصمت نہ لوٹ سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>