مدارس کا علمی بانچھ پن، آخر کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مدارس کو جدید دور کی تعلیم سے نکال کر بھی دیکھا جائے تو ان کی کارکردگی پر کئی طرح سے تحفظات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مدارس نیا علم پیدا کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ وہی ہے جو جدید تعلیمی اداروں کے حوالے سے علمی بانچھ پن کی وجوہات سمجھی اور سمجھائی جاتی ہیں۔ یعنی ہم مجموعی طور پر لکیر کے فقیر بن کر رہ گئے ہیں۔ نئے راستے اور نئی علمی شاخیں تلاشتے وقت ہمارے اوپر نجانے کیوں خاص قسم کی منحوس قیدیں سی لگا دی جاتیں ہیں۔

یہ وجوہات تب زیادہ کھل کر سامنے آتی ہیں جب دینی علوم اور بطورِ خاص احکام الہی کی حکمتوں کو سمجھنے کے حوالے سے سوال کیا جائے۔ معاشرتی طور پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک عجیب قسم کا ڈر ہمارے جسم و جاں کے گرد منڈلانے لگتا ہے۔ منڈلانا بھی چاہئے کیونکہ اس ڈر کو پیدا کرنے میں ہمارے بزرگوں نے کئی انسانوں کی قربانیاں دی ہیں تب جا کر کہیں ممتاز قادری کا مزار بنایا گیا اور پھر مشال خان کے ناخنوں تک کو نوچ لیا گیا؟

یقین مانیں ان دو اشخاص کے بارے آپ معاشرتی طور پر مجبور ہیں کہ آپ اجتماعی رائے اپنائیں یا بالکل خاموش رہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ساری دنیا ان کو وہی مانتی ہے بلکہ ایک خوف ہے جو لوگوں سے ان کے بارے میں ایک خاص رائے منوانا چاہتا ہے۔ لیکن کیا کریں اس معاشرے میں سوال اٹھانے کا دوسرا مطللب یہ ہے کہ اپنے سر کٹوانا؟

ہمیں بحثیت مجموعی ان سوالوں پر غور کرنا چاہیے کہ نئے علم کے پیدا ہونے کے محرکات اور فیکٹر کون کون سے ہیں اور نئے علم کی ترویج کے لئے کیا سعی کرنی چاہیے۔

ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ نئے علم کی ضرورت نہیں یا جو علم موجود ہے یہ بالکل کافی ہے۔ نئے زمانے کے نئے تقاضے اور نئی جہتیں ہیں۔ آپ غور کریں کہ لاؤڈسپیکر کو حرام قرار دینے والی قوم آج اسی سپیکر کے بغیر اپنا کسی لیول کا پروگرام کرنے پر رضا مند نہیں ہوتی۔ یہی حالت ہوائی جہاز کی سواری اور مسواک و ٹوتھ پیسٹ جیسے ’پیچیدہ‘ لیکن عالمی دلچسپی کے موضوعات کے حوالے سے بھی ہے؟

دورِ جدید میں ریپ کیسز بڑھ رہے ہیں۔ عالمی فورمز پر اس پہ مناظرے ہو رہے ہیں کہ ریپ جیسے مسئلے کو کیسے ختم کیا جائے اور اس پر کس قسم کی قانون سازی کی جائے تاکہ معاشرہ ایک تسلسل کے ساتھ امن کی شاہراہ پہ چل سکے۔ ہمارے ہاں اس پر یہ فیصلہ تو سنا دیا جاتا کہ زنا کار کی سزا کیا ہے لیکن جب اس قانون کی عملی صورت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں تو ہمارا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

جیسے کہ ریپ کے معاملے میں زنا کا الزام لگانی والی عورت اپنے ساتھ اپنے گواہان کو بھی لائے گی تب جا کر اسلامی عدالت مجرموں کو سزا دے گی؟ یہاں یہ بات اٹھائی جا سکتی ہے اگر گواہان نہ ہوں پھر؟ کوئی آڈیو ویڈیو پروف ہو پھر؟ کوئی میڈیکل پروف ہو پھر؟ کوئی حالات کی نزاکتوں اور کیسز کے دیگر کونے چاٹ کر کوئی بات نکال لی جائے پھر اسلام کیا کہتا ہے؟

یہی معاملہ سود کے حوالے سے ہے۔ ہم سود کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ جنگ تو نہ صرف مانتے ہیں بلکہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ لیکن اس کی عملی مشکلات پر کوئی بات کی جائے تو نہ جانے کیوں اللہ سے زیادہ مخلوق سے خوف آتا ہے۔ افتخار عارف نے اسے بابت کہا تھا کہ

رحمت سید لولاک پہ کامل ایمان

امتِ سید لولاک سے خوف آتا ہے ﷺ

سود کی لکھت پڑھت تک سے سخت الفاظ میں منع کیا گیا ہے لیکن ہم آج کے دور میں سود کی بنیاد پر قائم کئی کاروباروں سے نہ صرف براہ راست اپنے معاملات کرتے ہیں بلکہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طریقے سے ان سے کاروبار کو تقویت بھی دے رہے ہیں۔ ہمارے موبائل فون کے کال سے لے کر ہمارے اے ٹی ایم کی سروس تک ہم اس سودی نظام میں جکڑے پڑے ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں پھر بھی ہم اس کی عملی مشکلات سے نہیں نکل پا رہے؟

ہمارے خیال میں ہمارے مدارس کے طلبا کو اس قابل ہونا چائیے کہ وہ جب مدارس سے فارغ ہوں تو انہیں معاشرے میں ’حقیقی‘ انداز میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ میرا یہ خیال ہے کہ ہم معاشرتی طور پر مدارس سے فارغ طلبا کو مسجد کے اندر اور ’ثوابی‘ سیزن یعنی رمضان میں تو تھوڑا بہت رسمی سا احترام دیتے ہیں لیکن معاشرے کے دیگر شعبوں میں انہیں پست یا دنیاوی حقیقتوں سے لاعلم قسم کا تصور کرتے ہیں۔ اس سوچ کے کیا محرکات ہیں اس پر ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے؟

میں چاہتا ہوں کہ میرا بھانجا، بھتیجا دین کی اچھی تعلیم حاصل کرے۔ وہ عالم بنے، وہ اچھی تجوید سیکھے، اچھا قاری و مبلغ بنے۔ اچھا نعت خواں و حمد و ثنا خواں بنے۔ لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں میرا بھانجا بیٹا دین کے وسیع تصور، یعنی اس تصور سے آشنا ہو جس کی شمع اللہ کے پیارے رسولﷺ نے آج سے ساڑھے چودہ سو برس پہلے جلائی تھی۔

میں چاہتا ہوں ایسا مدرسہ ملے۔ جس کے ایک کونے پہ اللہ اور اس کی رسولﷺ کی تعلیمات کی مجلس جمی ہو اور دوسرے کونے پر پروفیسر کوآئنٹم فزکس اور گریویٹیشنل ویوز پر لیکچر دے رہا ہو۔ جس کے ایک حصے میں اسلامی معاشی نظام کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے سوچ سوچی جا رہی ہو اور دوسری نگری میں اسلام کے عدالتی نظام پر بحث بھڑک رہی ہو۔ ایک سائیڈ پہ عورتوں کے حقوق پر بحث چھڑی ہو اور دوسرے کونے میں زنا کے اسلامی قوانین کے نفاذ کی مشکلات کی عملی تدابیر پر غور کیا جا رہا ہو۔

 یہ اور اسی طرح کے کئی اور شرعی و معاشرتی مسائل ہیں جن پر تجدید علم کی سخت ضرورت ہے۔ اجتہاد کے دروازے کچھ ویسے بند ہو گئے اور اگر کوئی اس پر اپنی سی کوشش کرتا ہے تو ہم سختی سے بند کر کے اس کا سانس گلے میں ہی گھونٹ دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے علم کو تلاشا جائے۔ اجتہاد کو پروموٹ کرنے واسطے ہمارے مدارس ہمارا آخری قلعہ ہیں۔ مجھے امید ہے ان سے محض فتووں کے علاوہ علم کی جہتیں وا ہوں گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •