کچھ عرصہ قبل جرمنی اور جاپان ہمسائے تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کی وائرل ہونے والی 32 سیکنڈ کی ویڈیو میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ”جرمنی اور جاپان نے اپنے کئی ملین سویلین مارے، حتی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بارڈر پر، جرمنی اور جاپان کے بارڈر پر مشترکہ انڈسٹری لگائیں گے۔ اس لئے اب یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دونوں کے تعلقات خراب ہوں کیونکہ ان کے معاشی مفادات آپس میں جڑ چکے ہیں۔ “

اس پر یہ شور مچ گیا ہے کہ عمران خان کو جغرافیے کا ہی نہیں پتہ اور وہ وسطی یورپ میں واقع جرمنی کو نو ہزار کلومیٹر دور بحر الکاہل میں واقع جاپان کا ہمسایہ کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت شدہ ہے کہ کچھ ہی عرصہ قبل جرمنی اور جاپان ایک ہی براعظم پر تھے۔

ایسا اعتراض کرنے والے جغرافیے سے لاعلم ہیں۔ اب اگر عمران خان یہ کہیں کہ برصغیر کا ہمسایہ قطب جنوبی میں واقع انٹارکٹیکا اور موجودہ پاکستان کا ہمسایہ صومالیہ تھا تو وہ عمران خان کا خوب مذاق اڑائیں گے۔ ایسا وہ اپنی جہالت کے سبب کریں گے۔ ورنہ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو عمران خان نے درست بات کی ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہی کی بات ہے کہ جرمنی اور جاپان ایک براعظم پر واقع تھے۔

اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ دنیا میں صرف ایک ہی براعظم ہوا کرتا تھا جس کا نام پینجیا (Pangaea) تھا۔ تب تمام ممالک ایک دوسرے کے ہمسائے ہوا کرتے تھے۔ اس زمانے میں ظاہر ہے کہ ان ممالک میں رہنے والوں کے درمیان خوب خون بھی بہا ہو گا اور بے شمار عالمی جنگیں بھی ہوئی ہوں گی۔

اس لئے اگر عمران خان یہ دعوی کریں کہ بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کا بارڈر ملتا تھا اور ان میں جنگیں ہوئیں تو یہ بات درست ہے۔ اسی طرح چلی اور جنوبی افریقہ بھی مشترکہ بارڈر رکھتے تھے۔ برازیل نائجیریا کا ہمسایہ تھا۔ موریطانیہ اور امریکہ کی سرحدیں ملتی تھیں۔ مراکش اور کینیڈا ساتھ ساتھ تھے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ تھا۔

یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ بس کوئی سترہ کروڑ برس پہلے یہی نقشہ تھا۔ اب اگر معترضین کو اس بات کا علم نہیں ہے اور عمران خان اس بات کو جانتے ہیں تو مذاق جہلا کا اڑایا جانا چاہیے، عمران خان کا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1209 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar