ستر ہزار میں طلاق، اسی ہزار میں دوسرا نکاح

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لڑکی کی عمر محض پندرہ سال سے کم ہے۔ اس چھوٹی عمر میں اس کی دو شادیاں ہوچکی ہیں۔ دوسری شادی بھی گزشتہ شادی کی طرح سوائے ظلم و بربریت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے لڑکی میکے سے بھاگ کر تھانے آگئی اور ’پناہ‘ کی درخواست کردی جس پر پولیس نے ویمن سٹیشن منتقل کرکے قانونی کارروائی کی ابتداءکردی ہے۔

یہ کہانی کوہستان سے تعلق رکھنے والی بچی کی ہے۔ اس بچی کو دس سال کی عمر میں کشمیر کے کسی علاقے بیاہ کردیا گیا تھا۔ مذکورہ گھرانے سے شادی کرنے کے پیچھے کوئی بڑا معاہدہ نہیں تھا، لڑکی کے دادا نے صرف اتنا کہا تھا کہ میں نے اس لڑکے کو پسند کیا ہے لہٰذا اس کی شادی وہی پر کیا جائے۔ جس وقت شادی ہوئی اس وقت دادا دنیا میں نہیں تھے لیکن لڑکے والوں نے زبردستی شادی کرلی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کی ’امانت‘ ہے۔

کم سن بچی نے اپنی عمر کے اس حصے میں ہی وہ دکھ اور کرب دیکھے جس سے لوگ اپنے دشمن کے لئے بھی پناہ مانگتے ہیں۔ اس شادی سے طلاق کے لئے لڑکے والوں نے 70 ہزار روپے مانگ لئے جو کہ لڑکی کے تایا نے ادا کردئے تاہم چند ہی دنوں میں تایا نے لڑکی کے والد سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کردیا جو کہ اس کے پاس نہیں تھے۔ رقم کی عدم ادائیگی کے بعد تایا نے لڑکی کی شادی طے کرالی اور 80 ہزار روپے وصول کرلئے جس میں سے اپنے حصے کے 70 ہزار اٹھانے کے بعد 10 ہزار روپے لڑکی کے والد کو واپس کردیے۔

دوسری شادی جہاں کی گئی ہے وہاں پر پہلے سے ہی ایک سوتن موجود ہے، جبکہ گھریلو صورتحال ایسی ہے کہ چاردیواری تو دور کی بات ہے، کمرے سے باہر بھی نکلنے کی اجازت نہیں ہے سوائے ضروری کام ہے۔ لڑکی کا پولیس سٹیشن میں دیے گئے بیان کے مطابق آگ کی راکھ سے کپڑے دھوتے ہیں اگر غلطی سے بھی کوئی داغ باقی رہا تو لوہے کا مارتول نماآلہ تشدد موجود ہے۔ لڑکی کچھ دن قبل اپنے والدین کے گھر حال عارضی مقیم سونیکوٹ گلگت میں آئی تھی، جبکہ اصلی گھر سے واپس آنے کے لئے فکس وقت دیا گیا تھا اور عین آخری روز لڑکی والد ین کے گھر سے بھاگ کر تھانے پہنچ گئی۔

لڑکی کے والد نے بھی تھانے میں درخواست دیا ہے کہ میرے ساتھ میری بیٹی کو ساتھ بھیج دیا جائے کیونکہ نہ بھیجنے کی صورت میں قتل و غارت کی نوبت آسکتی ہے تاہم اطلاعات یہ ہیں کہ پولیس نے ساتھ بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

یہ ہمارا ہی سماج ہے۔ اس لڑکی کی اس ہمت پر حیرت ہورہی ہے جس نے اس گھٹن زدہ ماحول سے اتنا بڑا قدم لیا ہے، ورنہ اس کا متبادل راستہ کسی اور کے ساتھ کھسک جانے کا تھا۔ ایسی واقعات کم و بیش معمول کے ہی ہیں تاہم اتنی بہادر لڑکیاں بہت کم ہوتی ہیں جو تھانے تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں زرہ برابر بھی زاویہ تبدیل کیا جائے تو پیسوں کی لین دین نمایاں طور پر سامنے آرہی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں خواتین کو شادی کرکے بھیجا نہیں جاتا بلکہ ’بیچا‘ جاتاہے۔

ہر معاشرے کے اپنے اقدار ہوتے ہیں، جن میں بعض اقدار اچھے بھی ہوتے ہیں مگر بعض ایسے زنگ آلود ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ مگر کچھ لوگ ہمیشہ ایسے اچھے اور برے اقدار سے اس گھٹن زدہ معاشرے میں اپنی ایک پہچان اور رعب دعب قائم کرلیتے ہیں اور ایسے اقدار کے خلاف بولنے والوں کے خلاف تلوار بے نیام ہوتے ہیں۔ یہی اقدار ہیں جو معاشرے میں اکثریت کا استحصال کررہے ہوتے ہیں۔

اکثر دوستوں کو خواتین کے موضوع پر قلم کشائی اچھی نہیں لگتی ہے اور ہمیشہ ان کا مان ہوتا ہے کہ اسلام نے خواتین کے لئے حدود و قیود متعین کردئے ہیں۔ ان دوستوں کو ہمیشہ یہی سمجھا یا ہے کہ کسی بھی مذہب کے فرمودات، تشریحات اور عملی اقدام میں بہت فرق ہوتا ہے لیکن حقیقی روح کو سمجھنے کے لئے عملی اقدامات کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے کیونکہ یہ نمونہ اور عکاسی نہیں ہوتی ہے۔ مگر بعض نہیں بلکہ ا کثر معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو مذہبی عینک سے دیکھا نہیں جاسکتا ہے۔

میں اچھی طرح جانتاہوں کہ جس سماج سے متذکرہ بالا لڑکی کا تعلق ہے وہاں پر عبادات کی کوئی کمی نہیں ہے اور ممکن ہے کہ لوگ مزید ترویج کے لئے بھی کام کریں۔ لیکن اس سماجی ڈھانچے میں تبدیلی لانا کسی کے لئے بھی اتنی آسانی نہیں ہے اگر لانا چاہے توسوائے اجتماعی سوچ میں تبدیلی کے۔ اس علاقے میں اسلامی فرمودات کسی بھی دوسرے علاقے سے زیادہ ہوں گے مگر جن تصورات کو اس ماحول نے قائم کیا ہے ان پر سوال اٹھے گا۔

کسی بھی لڑکی سے پوچھے بغیر نکاح کرانا شاید کسی بھی مذہب میں نہیں ہے مگر سوائے ’معاشروں‘ کے۔ عجیب داستان ہے کہ باپ چند ٹکوں یا پھر اپنی غلطیوں کے لئے بیٹی کی بھلی چڑھارہا ہے۔ اس کم سن بچی کو شاید جان بوجھ کر زمانہ جاہلیت کے کہانیوں اور تاریخ سے دور رکھا گیا ہے تاکہ وہ اس کے بعد آنے والی عملی تبدیلی سے بھی لاعلم ہوں۔

دوسری جانب گلگت بلتستان میں ایسے خواتین کے لئے حکومتی سطح پر کسی قسم کا کوئی انتظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ ڈپٹی کمشنر گلگت نے ویمن پولیس سٹیشن کو دارالامان قرار دیدیا ہے مگر سہولیات نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ آفرین ہوگلگت ویمن پولیس سٹیشن کے ان ذمہ داروں کو جو اپنی جیب سے پیسے ادا کرکے قیدیوں، اور دارالامان میں منتقل ہونے والی لڑکیوں کے لئے کھانے پینے کا بندوبست کررہی ہے اور اپنے جیب سے ہی ان کے لئے کپڑے بھی خرید کردیتی ہیں۔ گلگت بلتستان میں ویمن ڈویلپمنٹ، سوشل ویلفیئر اور خواتین کے نام پر بننے والی غیر سرکاری تنظیموں کا عملی میدان میں کردار صفر ہے۔

توقع ہے کہ جہالت کے سدباب کرنے کے لئے مذکورہ داستان حکومت، عدالت، پولیس اور معاشرے کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ثابت ہو اور دعا ہے کہ اس ٹیسٹ کیس میں وہ کامیاب ہوں۔ ورنہ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں شادی کے نام پر استحصال ایک معمول ہے لیکن بہت کم داستانیں تھانوں تک جا پہنچتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •