میں ترکی کی خوبصورتی کی گرویدہ ہوگئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب میں اور بھی زیادہ پریشان ہوگئی۔ پہلے فلائٹ مس کردی، نیند اور بھوک تو ایک طرف مگر میرے پاس تو اب میرا سامان بھی نہیں تھا۔ میں نے سامنے بیٹھے اس افسر کو دوبارمخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سامان کیسے واپس مل سکتا ہے جس پر اس نے ایک فارم نکالا اور اس کو پر کرنا شروع کردیا، چند لمحوں بعد اس نے مجھے وہ فارم دیا اور اس پر ہاتھ سے درج ایک نمبر کی طرف پنسل سے اشارہ کرتے ہوئے بولا ’یو کین کال ہیر، ٹل دیم اباؤٹ یور بیگ‘ ۔

میں نے اس سے وہ کاغذ لیا اور کمرے سے باہر آگئی۔ اس ساری کشمکش کے دوران شدت کی پیاس لگی تھی۔ خیال آیا کہ کیوں نہ میں پانی ہی پی لوں، اسی غرض سے میں نے ارد گرد نظریں دوڑائیں تو ایک مشین پر نظر پڑ گئی۔ اس لال رنگ کی مشین میں آپ پیسے ڈالیں اور جوس، پانی جو چاہیے نکال لیں۔ پاکستان میں یہ مشین عام نہیں ہے کہیں ایک دو جگہوں پر اتفاق ہوا تھا کہ میں نے دیکھیں ہوں مگر استعمال کرنے کا اتفاق کبھی بھی نہیں ہوا پر اب تو یہ ضروری تھا۔ میں اس مشین کے پاس گئی اور کافی دیر کوشش کرتی رہی مگر اس پردرج ترکش زبان کی وجہ سے کچھ خاص کام نہ بنا۔ بل آخر میں نے کسی سے مدد مانگ لی مگر وہ الٹا ہی گلے پڑگئی کیوں کہ اس کو یہ سمجھانے میں مجھے آدھا گھنٹہ لگ گیا کہ مجھے پانی پینا ہے۔

اشاروں کی زبان نے پیاسا مرنے سے بچا لیا۔ اتاترک ہوائی اڈا بہت خوبصورت اور بڑا ہے۔ میں نے اس ہوائی اڈے کے بارے میں بہت لوگوں سے سن رکھا تھا اور آج موقع بھی تھا کیونکہ میں نے استنبول سے ڈینزلی جانا تھا اور اس کے لیے جو فلائٹ میں نے پہلے سے بک کرا رکھی تھی وہ بھی اس طرح مس کردی کہ جس طرح پہلی کی تھی تو اب مجھے اس کی بھی نئی ٹکٹ لینا پڑتی۔ پانی اور کافی پینے کے بعد میں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ وہاں کا مقامی سم کارڈ لیا۔

پھر وہاں موجود لوگوں سے انگریزی زبان میں بات کی اور پھر ائرپورٹ کا کارکن ملا جس کو انگریزی بولنی آتی تھی۔ اس نے میری بہت مدد کی اور اس طرح مجھے وہاں کا نمبر مل گیا۔ میں نے سب سے پہلے نیٹ آن کیا اور اپنی نیکسٹ ڈومسٹک فلائٹ بک کرائی جو صبح سات بجے نکلنا تھی۔ مگر ابھی رات کے تقریبا تین بج رہے تھے۔ مجھے ابھی مزید اور جاگنا تھا۔ اور اس بار چانس ہی نہیں تھا کہ میں یہ فلائٹ مس کردوں کیوں کہ یہاں بھی سعودی عرب کی طرح زبان کا بہت مسئلہ تھا۔

خیر میں نے گھر والوں کو فون ملایا۔ گھنٹی بجی اور اگلی آواز والد صاحب کی تھی۔ ان کی آواز سنی تو تھوڑا حوصلہ ہوا مگر سکون تب ملا جب میں نے اپنی والدہ کی آواز سنی۔ جب سے میں پاکستان سے نکلی تھی اس وقت سے پتہ نہیں کیوں مجھے میری ماں بہت یاد آرہی تھیں حالانکہ میری والدہ بہت سخت مزاج خاتون ہیں انہوں نے کبھی ہمارے نخرے نہیں دیکھے اور اس کی وجہ شاید ان کا افغانستان سے تعلق ہے۔ والد صاحب والدہ کے برعکس ہم سے کھل کر محبت ظاہر کرتے ہیں۔

ہمارے نخرے ہمارے والد صاحب نے ہی ہمیشہ اٹھائے ہیں جبکہ امی سے ہم نے ہمیشہ مار کھائی ہے چاہے۔ ماں کیا ہوتی ہے اور خالق نے ماں کے ساتھ کیا رشتہ جوڑ رکھا ہے یہ بات مجھے ان سے پہلی بار دور جا کر محسوس ہوئی۔ ماں جتنی بھی سخت ہو اس کا دل موم کی طرح ہوتا ہے۔ والد نے پوچھا کہ ٹھیک سے پہنچ گئی؟ کب نکلو گی ڈینزلی کے لیے؟ مگر امی نے پہلا سوال ہی پوچھا کہ بیٹا کچھ کھایا؟ ہائے ان کا پوچھنا تھا کہ وہ اور بھی شدت سے یاد آئیں اور ایک خیال نے گھر کیا کہ جو لوگ دیارغیر میں اپنی جنت سے دور رزق کی تلاش میں رہتے ہوں گے تو ان کا کیا عالم ہوگا!

خود کو تسلی دی کہ حوصلہ فروا بس چھ ہفتوں کی تو بات ہے۔ میں جلد ہی اپنی جنت کے پاس ہوں گی۔ فون پر بات چلتی رہی اور یوں کافی وقت گزرگیا۔ اچھانک ذہن میں آیا تو بیٹری ختم ہونے کو تھی اور ابھی بھی فلائٹ میں 3 گھنٹے پڑے تھے۔ میں اپنی نشست سے اٹھی اور موبائل فون چارج کرنے کے لیے جگہ دیکھنے لگی۔ پاس ہی ایک مشین لگی تھی جو فون چارج کرتی تھی۔ اس میں لیرا ڈالیں اور بیس منٹ تک اپنا موبائل چارج کرلیں۔ انسٹرکشن دیکھی اور فون چارج پر لگا دیا۔

اب جب ہاتھ میں موبائل نہیں تھا اور میری فلائٹ میں ابھی وقت بھی تھا تو سوچا کہ تھوڑا ٹہل لوں۔ میں نے اس دوران ہوائی اڈے کا کچھ حصہ دیکھا اور پھر کبھی یہاں اور کبھی وہاں ٹہلتی رہی مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں اب نیند کو دور بھگانا انتہائی مشکل ہوگیا تھا۔ اور تھکاوٹ سے برا حال ہو چکا تھا۔ ایسے میں ایک اچھی سی جگہ دیکھی اور وہاں براجمان ہوگئی۔ اس کے بعد بھرپور کوشش کی نیند سے بچی رہوں۔ جیسے ہی چھ بجے میں، اٹھی اور بوڑدنگ کے لیے چلی گئی۔

قطار لمبی تھی۔ بوڑدنگ کے بعد جہاز میں سوار ہوئی۔ ایک بار پھر میں جہاز کو زمین سے اٹھتا محسوس کیا۔ مگر اب کی بار مختلف یہ تھا کہ میں ترکی کی صبح جہاز سے دیکھ رہی تھی۔ ہلکی سورج کی روشنی، سفید روئی کے گالوں جیسے بادل! یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں خواب میں ہوں۔ دل کر رہا تھا کہ ہاتھ بڑھا کے بادل پکڑ لوں۔ نظر جما کے دیکھا دیکھتی تو زمین دور کہیں نظر آتی۔ کہیں سفید کہیں سبز تو کہیں بھوری!

جی چاہ رہا تھا کہ بس یہ سفر یوں ہی چلتا رہے۔ کبھی ختم نا ہو۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس سفر کو ختم ہونا ہی تھا اور سفر بھی بس ایک ہی گھنٹے کا تھا۔ قدرت کے نظارے دیکھتے ہوئے کب وقت گزر گیا پتہ ہی نہ چلا چارڈک ائرپورٹ پر پہنچی تو سرد موسم کی شدت محسوس ہوئی۔ ائرپورٹ سے نکل کر سٹی سینڑ جانے کے لیے بس پکڑی۔ سفر شروع ہوا ہی تھا کہ ترکی کی خوبصورتی کی گرویدہ ہوگئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •