شیخ رشید صاحب! اپنے نام کا بھرم رکھیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں آپ کو جبین سیاست پر داغ رسوائی کہوں گا نہ ہی سیاسی شعبدہ بازاور مقتدر حلقوں کا خایہ بردار۔ سیاسی نجومی قرار دوں گا نہ ہی ابن الوقت۔ میں تو اس الزام سے بھی متفق نہیں کہ آپ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں اورآپ کا محور سیاست ذاتی مفاد ہے۔ آپ ہمیشہ اسی حاکم وقت کی قصیدہ گوئی میں رطلب اللسان رہے جس کا آفتاب اقتدار سیاسی افق پر جھلملاتا رہا۔ آپ نے اصغر خان جیسے اصول پسند سیاستدان کو اپنا امام سیاست تسلیم کیامگر یہ سیاسی رفاقت قطرہ شبنم سے بھی زیادہ ناپائیدار ثابت ہوئی اور آپ ان کے آبگینہ اعتبار کو چورچور کرکے راہی اقلیم جفا ہوئے۔

وادی سیاست میں پرخار روش کی بجائے آپ نے اس ڈگر کا انتخاب کیا جو اقتدار کی غلام گردشوں سے ہمکنار ہوئی۔ آپ نواز شریف کے حلقہ ارادت میں آئے ان کی سیاسی معیت میں آپ کو اورنگ وزارت نصیب ہوا اور جب تک آپ سائبان حکمرانی کی نرم چھاؤں میں رہے آپ سابق وزیراعظم کے گن گاتے رہے ان کی تعریفوں کے ایسے پل باندھے جس کی گواہ آج بھی آپ کی اپنی سرگزشت ”فرزند پاکستان“ ہے۔ نواز شریف کا قافلہ سیاست کوچہ اقتدار سے نکل کر سوئے دار آیاتو قید وبند اور زندان کی بجائے آپ کی ناقہ بے زمام جنرل (ر) پرویز مشرف کی چراگاہ میں سیر ہونے لگی۔

آپ نے اپنے محسن سے ایسی آنکھیں پھیریں کہ طوطاچشمی کی اصطلاح کا عملی مظہر بن گئے۔ جس نواز شریف نے آپ کے لئے دل کا دروازہ کھولا تھاآڑے وقت میں ان کی اہلیہ کلثوم نوازمرحومہ دست تعاون مانگنے آپ کے در پر آئیں تو آپ نہ صرف ملاقات سے گریزاں رہے بلکہ ان پر لال حویلی کے دروازے بھی بند کرائے۔ سابق وزیراعظم اسیر قفس ٹھہرے اور آپ گلستان آمریت کے بلبل خوش نوا بن کر مطلق العنان حاکم کی مدح سرائی میں مشغول رہے۔ پرویز مشرف کی شخصیت کے سحر اور چکاچوند سے آپ کی آنکھیں ایسی خیرہ ہوئیں کہ آپ کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں بے گناہوں کاخون نظر آیا نہ ہی جابر حکمران کا جوروستم۔

آرزوئے اقتدار میں آپ منبر و محراب سے اپنی عقیدت بھی بھول گئے اور اپنے روحانی استاد مولاناغلام خان کا فلسفہ زیست بھی۔ ابن آذربن کر بت شکنی کی بجائے آپ نے شیوہ آذری کو ترجیح دی۔ پرویز مشرف کو سید زادہ کا رتبہ دیا اور اپنی دستار فضیلت ان کے چرنوں میں رکھ دی مگر جب دربار مشرف برخاست ہوا، وہ خود راندہ درگاہ ٹھہرے اورپنڈی کے باسیوں نے دوبار دھتکار کرپارلیمان سے آپ کا ناتا توڑاتو آپ کے ہوش بھی ٹھکانے آئے۔

لیکن اصل ”دوستوں“ کی چوکھٹ پر جبین سائی نے کام کر دکھایا اور آپ کو عمران خان کے کارروان سیاست کی ہمرکابی کا اشارہ ملا۔ مجھے اس امر سے بھی کوئی واسطہ نہیں کہ ماضی میں آپ کے عمران خان کے بارے میں کیا معروضات تھے اور عمران خان کے آپ سے متعلق کیا ارشادات۔ کیونکہ میں امام الہند ابوالکلام آزادکے اس قول فیصل کا حامی ہوں کہ ”سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا“۔ تائید ”غیبی“ حاصل ہوئی تو انتخابی دنگل میں حریفوں کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے آپ پھر سے عندلیب پارلیمان بن کر چہکنے لگے۔

مجھے آپ کی نجی زندگی کے ان گوشوں سے بھی کوئی سروکار نہیں جو آپ کے سیاسی رقیبوں اور حلقہ ہائے جمہور کے لئے سبب رغبت و دل بستگی رہے ہیں آپ نے مسند وزارت کو کیسے وسیلہ ہوس پروری بنایا۔ ہر بارمینائے اختیار ہاتھ آتے ہی صہبائے طاقت کے نشے میں کیوں ایسے بدمست ہوجاتے کہ آپ کی رنگ رلیوں کے طومار کے سامنے نوابان اودھ کی عیش کوشی بھی ماند پڑ جاتی۔ مجھے اس امرسے بھی کوئی غرض نہیں کہ اپنے دور وزارت میں آپ نے کن فلمی ستاروں کو پاتال ذلالت میں پھینکا اور کن کوبام ثریا پر پہنچایاآپ کی تضحیک و التفاف کا معیار کیا تھا۔

میں توآپ کے کمال بلاغت اور جوش خطابت کا معترف ہوں اور آپ کے استدلال اور سیاسی رقیبوں کولتھاڑنے کے فن کا قائل۔ آپ کی سیاسی نکتہ سنجیوں کا بھی اقرارہے اور بصیرت و دوراندیشی کا بھی ا قبال ہے۔ آپ کی عوام دوستی بھی قابل تقلید ہے اور غریب پروری بھی قابل رشک۔ مجھے اگرآپ کے کسی وصف سے اختلاف ہے تو وہ ہے آپ کا انداز بیان ہے۔ مخالفین پر تنقید کوچہ سیاسست کی ایک عام ریت ہے لیکن بصد معذرت آپ نے اخلاق و شائستگی کے دائرہ سے نکل کر اس روایت کو ذاتیات اور دشنام طرازی کے زمرے میں ڈال دیا۔

بے نظیر بھٹو مرحومہ کی کردار کشی ہویا شریف برادران کے خلاف تلخ زبانی، آصف علی زرداری سے چپقلش ہویا بلاول بھٹو سے چھیڑخانی، آپ نے ہمیشہ جامہ تہذیب کو چاک چاک کیا۔ آپ کو سیاسی گفتگو کے دوران ذومعنویت، برجستگی، فقرے بازی اور مخالفین کا تمسخراڑانے میں یقینا یدطولی حاصل ہے مگر یہی لچھن آپ کے سیاسی قد کاٹھ کی پستی کا سبب بنے ہیں۔ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی ذات پر رکیک حملے اور ان کے بارے میں دشنام طرازی آپ کی سیاسی زندگی کا ایک سیاہ باب تو تھا ہی، لیکن رہی سہی کسر بلاول بھٹو کے بارے میں شعلہ بیانی نے پوری کی۔

کم ظرفی اور سفلہ پن میں اس حد تک گرے کہ احترام انسانیت سے بھی آپ کے لیے بے معنی ہوکر رہ گئی۔ آپ کی ذات تو سیاست میں شائستگی، عزت و احترام اور لحاظ و مروت کا آئینہ دار ہونی چاہیے تھی لیکن آپ نے سب وشتم ”پھکڑ پن اور ابتذال کو رواج دیا۔ عمران خان کی ٹیم میں شامل ہوکر شاید آپ سیاسی زندگی کی آخری اننگز کھیل رہے ہوں یہ اننگز آپ کے ماضی کی تمام بے اعتدالیوں کا کفارہ بن سکتی ہے۔ آپ بھی ایک اچھے کھلاڑی کی طرح اپنی آخری سیاسی اننگز کو شاندار اور یادگار بناسکتے ہیں، لیکن شیداٹلی نہیں بلکہ رشیداحمد بن کر، کیونکہ یہ دونوں قابل تکریم ہیں۔ میری آپ سے یہی استدعا ہے کہ“ شیخ صاحب اپنے نام کا بھرم رکھیو ”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
طارق آفاق کی دیگر تحریریں
طارق آفاق کی دیگر تحریریں