زندگی کو سرمئی رنگ میں کھوجیں
کمپیوٹر سے پرنٹ لینا ہو تو پرنٹر میں کلر (رنگین) ، گرے سکیل (سرمئی پیمانہ) یا پیور بلیک اینڈ وائیٹ ( خالص سیاہ و سفید) کی آپشن کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ رنگین اور بلیک اینڈ وائیٹ کا فرق تو سمجھ میں آتا ہے، مگر یہ گرے سکیل کیا بلا ہے؟
اگر پرنٹ کیا جانے والا ڈاکیومنٹ سادہ اور واضع ہو مثلاَ کوئی تحریر، تو پیور بلیک اینڈ وائیٹ میں کچھ کمی محسوس نہیں ہوتی۔ اس میں صرف دو ہی شیڈ آتے ہیں، سیاہ یا سفید۔ اس طرح روشنائی کی بچت ہوتی ہے۔ مگر کسی رنگین تصویر کو بلیک اینڈ وائیٹ پرنٹ کرنا ہو تو گرے سکیل زیادہ بہتر رہتا ہے۔ جہاں مختلف رنگ موجود ہوں، پیور بلیک اینڈ وائیٹ کی آپشن زیادہ مناسب نہیں رہتی۔ کیونکہ سارے رنگ صرف سیاہ اور سفید دو رنگوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں، اس لئے تصویر کے کئی خدو خال، کئی اہم مناظر گم ہو جاتے ہیں یا منظر نامے کے کئی حصے ایک دوسرے میں خلط ملط ہو جاتے ہیں۔ جبکہ گرے سکیل میں سیاہ اور سفید کے علاوہ سرمئی رنگ کے مختلف شیڈ تصویر کے ہر رنگ کی عکاسی کرتے ہوئے منظر کو واضع رکھتے ہوئے ساری حقیقت بیان کر دیتے ہیں۔
زندگی کی حقیقتیں بھی رنگین ہیں۔ وسیع و عریض زندگیوں کو ادب اور آرٹ کے کسی بھی کینوس پر منتقل کرنے کے لئے ادیبوں، آرٹسٹوں، مصنفوں ڈرامہ نگاروں، قصہ خوانوں نے وقت، الفاظ اور دیگر وسائل کی قِلت کے باعث صدیوں سے پیور بلیک اینڈ وائیٹ تکنیک کا استعمال شروع کر رکھا ہے۔ یہ ہیرو ہے، یہ ولن ہے۔ یہ ظالم ہے، یہ مظلوم ہے۔ یہ شیطان ہے، یہ فرشتہ ہے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی بلکہ تخلیق کار کی مجبوری تھی۔ ساٹھ ستر سال پر محیط ایک انسان کی زندگی کو اگر ایک سو پچاس منٹ کی رِیل پر منتقل کرنا ہو تو اس طرح کی لیبلنگ ضروری ہو جاتی ہے۔
مگر المیہ یہ ہوا ہے کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور اب سوشل میڈیا نے ہماری سوچ پر اس طرح غلبہ پا لیا ہے کہ ہم اپنے سماجی رویوں میں بھی پیور بلیک اینڈ وائیٹ ہو گئے ہیں۔ مثال سیاسی منظر نامے سے بھی دی جا سکتی ہے مگر اس نشست میں، میں سوشل موضوعات تک محدود رہوں گا۔
ساس کے لئے بہو ولن تو بہو کے لئے ساس۔ جب میں بہو تھی تو مجھے ساس اچھی نہیں ملی اور اب میں ساس ہوں تو بہو بری ہے۔ اور ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جوان شادی شدہ خاتون کو بیک وقت بھابھی بھی سازشی ملتی ہے اور نند بھی۔ فیمینسٹس کے نزدیک تمام مرد ظالم، بد نیت اور کریمنل مائنڈڈ ہوتے ہیں اور مولویوں کے نزدیک خواتین کے حقوق کی بات کرنے والا ہر شخص لبرل، سیکولر اور بے دین۔
جب بھی میڈیا کو کوئی ”چوندی چوندی“ جنسی استحصال کی خبر ملتی ہے تو مجرم (جو اکثر اس وقت تک ابھی ملزم ہی ہوتا ہے ) ایک حیوان، بھیڑیا، دہشتگرد قرار پاتا ہے، جو غالباَ کہیں مریخ سے وارد ہوتا ہے یا کسی صہیونی سازش کا اہم کردار۔ وہ اسی معاشرے کا آس پاس ہی رہنے والا جیتا جاگتا سانس لیتا انسان تو ہر گز نہیں ہوتا۔ مظلوم کے اپنے خاندان کا فرد، دوست، جاننے والا، ساتھ کی گلی کا لڑکا، جو شاید خود کسی دوسرے موقع پر، کسی دوسرے انداز میں، کسی اور جاننے والے کے ہاتھوں اسی یا اس جیسے ہی کسی استحصال کا شکار ہوا ہوتا ہے، وہ بھیڑیا، حیوان، دہشتگرد، جلاد کیوں بن جاتا ہے؟ اس پر غور کرنا شاید ریٹنگ میں مدد گار نہیں ہوتا، یا پھر اس کے لئے محنت درکار ہوتی ہے۔ یہ وہ گرے سکیل ہے جو ہم دیکھنا بھول چکے ہیں۔ اصل حقیقی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے، سیاہ سفید کے درمیان کہیں کسی سرمئی رنگ میں۔
زندگی کو سرمئی رنگ میں دیکھیں گے تو دوسروں کا درد، تکلیف دکھائی دے گی، ان کی نفسیاتی، سماجی مجبوریاں نظر آئیں گی۔ وہ حیوان، بھیڑیا، دہشتگرد شاید تب بھی ایک برا انسان، ایک ظالم شخص ہی رہے گا مگر آپ کی خواہش انصاف کا حصول ہوگی ناکہ بدلے کا جنون۔ آپ حکومت سے اسے سرِ عام پھانسی کا مطالبہ کرنے کی بجائے، انصاف پر مبنی سزا سے مطمئن ہو جایئں گے یا پھر معاشرے سے ان عوامل کی بیخ کنی کی بات کریں گے جو اس ساتھ والی گلی کے لڑکے، اس کزن، اس بھائی کے دوست کو بھیڑیا بنا دیتے ہیں۔
آیئے زندگی کو سرمئی رنگ میں کھوجیں۔


