ہم کائنات میں اکیلے نہیں ہیں
اگلا مرحلہ Telescope کے squinting کے مسئلے کو حل کرنے کا ہے۔ گائیون کے بقول؛ ”ستارے کی روشنی یا چمک ایک روشنی کا ابلتا ہوا بلبلا سا ہوتا ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں جو آلات استعمال کیے جارہے ہیں ان میں پیچیدہ نظام والے اپرچرز، عدسے اور ماسک جنھیں Coronagraph کہتے ہیں شامل ہیں۔ کرونا گراف ایک ایسا ماسک ہوتا ہے جوکہ اپنے اندر سے صرف ایسی روشنی کو منعکس ہونے دیتا ہے جو سیارے سے آرہی ہو۔
جب Next Gen۔ Telescopesبن جائیں گی تب rocky planets سے آنے والی روشنی کو صحیح سے پرکھا جاسکے گا اور اس روشنی کو Spectrometer کے ذریعے جانچا جائے گا۔ روشنی کو مختلف رنگوں کی ویو لینتھ (wave length ) میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ زندگی کے آثار یا رنگ جنھیں ہم Bio signature کہتے ہیں تلاش کیے جاسکیں گے۔
سیگر اور گائیون کے مطابق ہماری زمین پر پودے اور بعض بیکٹیریاز ضیائی تالیف (photosynthesis) کے دوران آکسیجن کو ایک بائی پروڈکٹ کے طور پر پیدا کرتے ہیں۔ آکسیجن ایک ایسا molecule ہے جو زمین کی سطح پر موجود ہر چیز کے ساتھ bond بناتا ہے یا بصورت دیگر ان کے ساتھ react کرتا ہے۔ زمین پر موجود زندگی کے حساب سے آکسیجن اور میتھین دو ایسی گیسیں ہیں جو کہ زندہ جانداروں کے اجسام سے متعلقہ ہیں اور دونوں گیسیں ایک دوسرے کو counter balance کرتی رہتی ہیں۔
لیکن خلاء میں زندگی کی تلاش یعنی (Extraterrestrial) زِندگی کی تلاش میں اگر ہم اپنی تلاش کو آکسیجن اور میتھین تک محدود کردیں تو یہ ایک ناقابلِ قبول زمینی سی سوچ ہوگی کیونکہ زندگی پودوں کی ضیائی تالیف کے علاوہ بھی کئی اشکال رکھتی ہے بلکہ زمین پر بھی اربوں سال تک Anaerobic شکل میں زندگی موجود رہی ہے۔ جب آکسیجن ماحول میں موجود نہ تھی۔ اگر Liquid medium، غذائی اجزاء اور توانائی دستیاب ہو تو زندگی کئی طرح سے پنپ سکتی ہے اور کئی طرح کی گیسیں پیدا کر سکتی ہے۔
اگر ان گیسوں کو جانچ لیا جائے تو ہم جان سکتے ہیں کہ وہاں کس طرح کی زندگی پائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی اقسام کے بائیوسگنیچرز ہوتے ہیں جن کی ہم تلاش کر سکتے ہیں۔ پودوں میں موجود کلوروفل انفراریڈ لائٹ جیسی روشنی رفلیکٹ کرتا ہے اور اس کو انسانی آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا لیکن انفراریڈ ٹیلیسکوپ سے دیکھا جاسکتا ہے اور یہ ایک پودے کا Bio signature ہے۔ اگر آپ کو اس طرح کی چیز یا نِشانی کسی سیارے یا ستارے سے آنے والی روشنی میں مل جائے تو عین ممکن ہے کہ آپ نے ایک Extraterrestrial جنگل ہی ڈھونڈ لیا ہو۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کے پودے اور سبزہ مختلف قسموں کی روشنی کو جذب کرتے ہوں۔ ہوسکتا ہے وہاں کے جنگل کالے رنگ کے ہوں یعنی کے وہاں کے اشجار کا سسٹم ہمارے سیارے کے سسٹم سے بالکل مختلف ہو۔
لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہم کائنات میں زِندگی کی تلاش کو پودوں تک بھی محدود کیوں رکھیں؟
لیزا کہتی ہیں کہ ہم کائنات میں زِندگی کی تلاش میں پودوں تک بھی محدُود کیوں رہیں؟ لیزا کارل سیگن انسٹیوٹ کورنیل یُونیورسٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اُنھوں نے اور اُن کے کولیگز نے ایک سو سینتیس خوردبینی جانداروں جو زمین کے بُہت شدید ماحول میں بھی زِندہ ہیں اُن کا مُطالعہ کیا ہے اور اُن پر تحقیق کی ہے۔ اِس سے اُنھیں یہ اندازہ لگانے میں مُشکل پیش نہیں آئی کہ بعض ایسے خوردبینی جاندار ممکنہ طور پر شدید گرم یا ٹھنڈے سیاروں پر بھی موجود ہوسکتے ہیں۔ لیزا کو بھی اگلی نسل کی ٹیلیسکوپس کا شدید اِنتظار ہے۔
سن 2024 میں یورپئین سدرن ابزرویٹری میں ایک ایکسٹریملی لارج ٹیلیسکوپ ELT لانچ ہوگی جو چِلی کے ایٹاکاما صحرا میں نصب کی جائے گی۔ اِس کے ایک سو اٹھائیس فیٹ کے عدسے کی صلاحیت سبارو جیسی تمام دُوربینوں سے بہتر ہوگی اور یہ گائیون کے انسٹرومینٹ کی ایک بہتر اور زیادہ طاقتور شکل ہوگی۔
یہ ELT تمام روکی سیاروں جو سُرخ بونے ستاروں Red Dwarf Stars کے قابلِ زِندگی حصوں میں موجود ہیں اُن کی بہتر تصویر کَشی کرسکے گی۔ سُرخ بونے ستارے ہماری کہکشاں میں بُہت عام ہیں۔ یہ ہمارے سُورج کی نسبت چھوٹے اور کم چمکدار ہیں۔ اِن کے سیارے ہماری زمین کے چاند کی طرح محض اپنی ایک طرف سے ہی اپنے ستارے /سُورج کے نزدیک ہوتے ہیں جِس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ ایک سائیڈ شدید گرم اور ایک سائیڈ شدید ٹھنڈی تو ایسے سیاروں پر زِندگی درمیانے عِلاقے یعنی مِڈل زون میں بہرحال مُمکن ہوسکتی ہے۔
ایسا ہی ایک پتھریلی سطح والا سیارہ پروگزیما سینٹوری بی Proxima Centauri B کہلاتا ہے۔ یہ ہم سے محض چار اعشاریہ دو نُوری سال ( پچیس کھرب میل ) کے فاصلے پر ہے۔ گائیون کے مُطابق یہ بڑا دِلچسپ ٹارگٹ ہے لیکن گائیون بھی سارا سیگر سے مُتفق ہوتے ہے یہی سمجھتا ہے کہ جیسے ہماری زمین سُورج کے گرد ایک مُناسب فاصلے پر چکر لگا رہی ہے تو ایسے ہی سیارے یا نظام میں زِندگی کی تلاش اور وُجود زیادہ حقیقی ہوسکتا ہے بہرحال ابھی بھی خلاء کی سائنس، تکنیک اور آلات اُس جِسے پر نہیں پُہنچے جو اِس تلاش کو ایک ٹھوس شکل دے سکے تو ابھی وقت لگے گا۔
سٹار شیڈ اٹھائیس پُھول کی پتیوں جیسی پلیٹس کی شکل کا ایک آلہ ہے جو سُورج مُکھی کے پُھول جیسا ہے اور سو فیٹ سے زیادہ بڑا ہے یہ ستاروں سے آنے والی روشنی کو واپس منعکس کرکے ایک سیاہی مائل رنگ کا حلقہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جِس کو انفراریڈ دُوربین کے ذریعے مزید جانچا جاسکتا ہے۔ اِس طرح کی ایک دُوربین وائڈ فیلڈ انفراریڈ سروے ٹیلیسکوپ W ایف آئی آر ST جو 2020 کے وسط تک مکمل ہوجائے گی اور جب سیاروں کو اُن کے ستاروں کی روشنی کو بلاک کرکے جانچا جائے گا تو زِندگی کے آثار یا اِمکانات تلاش کرنے کافی آسان ہوجائیں گے۔
جان رچِرڈز شُمالی کیلیفورنیا کے ایک دُور دراز عِلاقے میں ”ذہین خلائی مُخلوق“ یا Extraterrestrial Intelligence جِس کو SETI کہا جاتا ہے کی تلاش میں پچھلے دس سال سر گرداں ہے۔ SETI انسٹیوٹ کے سیلیکون ہیڈکوارٹر سے تین سو چالیس میل دُور ایلن ٹیلی سکوپ اررے ATA موجود ہے جو زمین پر اپنی نوعیت کا واحد پروجیکٹ ہے جو کائنات میں ممکنہ طور پر بسنے والی کِسی بھی تہذیب کی طرف سے مِلنے والے ریڈیو سگنلز کی تلاش پر کام کررہا ہے۔
مائیکروسوفٹ کے بانیوں میں سے ایک پال ایلن نے اِس پروجیکٹ کو فنڈ کیا تھا۔ یہ تین سو پچاس ریڈیو ٹیلیسکوپس ہیں جِن کے ساتھ بیس فٹ قطر کی چھے ڈشز dishes بنائی گئی تھیں۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے ابھی تک محض یہ بیالیس ہی ہوسکی ہیں اور SETI کا کام اُس طرح رفتار نہیں پکڑ رہا جیسے اُسے پکڑنی چاہیے تھی، پہلے یہاں سات سائنسدان کام کرتے تھے اور اب رِچرڈز اکیلا کام کرتا ہے۔ رچرڈز کے بقول تلاش مُشکل ہے اور SETI کی ساٹھ سالہ تاریخ میں ابھی تک جِتنے بھی سگنل الارم آئے ہیں وُہ غلط ثابت ہُوئے ہیں۔ رچرڈز بیس ہزار ریڈ ڈوارف سیاروں کو اپنا ٹارگٹ بنائے ہُوئے ہے لیکن صحیح وقت پر، صحیح سمت میں، صحیح ریڈیو فریکوئینسی پر ایسے کِسی بھی سگنل کو قابُو کرپانا جو ایلینز کی طرف سے ہی آیا ہو ایک نہایت مُشکل اور تکلیف دِہ اِنتظار پر مُنحصر ہے۔
ایک رشین سرمایہ دار یُوری مِلنر جِس کا نام مشہور خلاباز یُوری گاگرین کے نام پر رکھا گیا ہے اُس نے 2015 میں کُل دو سو ملین ڈالر کائنات میں زِندگی کی تلاش کے لئے وقف کیے ہیں جِن میں سے سو ملین ڈالر محض SETI یعنی ایلین کی تلاش کے لئے ہیں۔ یُوری ملنر وُہ بندہ ہے جِس نے فیس بُک، ٹویٹر اور دیگر بڑی کمپنیز میں تب سرمایہ لگایا تھا جب ابھی یہ اپنی اِبتدا میں تِھیں اور ظاہر ہے اُس سرمایہ کاری نے اُسے کہاں سے کہاں پُہنچا دیا۔ یُوری کے بقول اگر اُس کے سو ملین ڈالرز ایلین کی تلاش میں کِسی بھی طرح کی مدد دے سکتے ہیں تو پِھر یہ سو ملین ڈالر بالکل دُرست استعمال ہورہے ہیں۔
ہمارا قریب ترین سٹار سسٹم الفا سینٹوری Alpha Centauri ہے، روکی پلینٹ پروگزیما بی بھی اِسی نِظام میں موجود ہے۔ پہلا ووئیجر Voyager جو 1977 میں روانہ کیا گیا تھا اُس کو interstellar space میں پُہنچنے کے لئے پینتیس سال لگے تھے۔ اِس رفتار پر الفا سینٹوری پر پُہنچنے کے لئے پچھتر ہزار سال درکار ہوں گے۔ سٹارشاٹ Star Shot کے موجودہ پروگرام کے تحت چھوٹے سائز یعنی ایک کنکر جیسے سائز کے سپیس شِپ بنائے جائیں گے جو وہاں پُہنچ کر معلومات اور تصاویر واپس بھیجیں گے۔
اِن کی رفتار روشنی کی رفتار کا پانچواں حِصہ ہوگی اور یہ محض بیس سال میں الفا سینٹوری سسٹم میں پُہنچ جائیں گے۔ اِن کا آئیڈیا ماہرِ طبیعیات فِلپ لُوبن کا ہے۔ اِن کے نام نِناز، پِنٹاز اور سانٹا مارئیس Ninas، Pintas and Santa Marias رکھے گئے ہیں اور اِن کو زمین پر موجود لیزر کے نِظام laser array سے آگے خلاء میں پُش کِیا جائے گا۔ اِس لیزر کا نظام دس لاکھ سُورجوں سے بھی طاقتور ہے۔ ابھی مزید پانچ سے دَس سال تک یہ مُمکن ہوسکے گا۔
ابھی خلاء میں زِندگی یا کِسی اور تہذیب کی تلاش میں وقت لگے گا اور یہ بھی مُمکن ہے کہ کئی تہذیبوں نے اپنے آپ کو ٹیکنالوجی کی بُلند ترین سطح پر لے جاکر تباہ بھی کر ڈالا ہو۔ کائنات کے اسرار میں کیا کیا چُھپا ہُوا ہے یہ جاننا باقی ہے اِس کو ڈُھونڈنے میں سائنس دان اپنی تگ و دو کررہے ہیں اور ایک دِن یہ تلاش مکمل ہوجائے گی۔ سیگر سمیت بعض دیگر سائنٹسٹس کا خیال ہے کہ 2030 کے آس پاس کوئی نہ کوئی بڑا بریک تُھرو مِلنے کا اِمکان ہے۔
Translated and summarised from National Geographic Magazine’s article , “ We are not alone .”




