حدیقہ کیانی: عمر تو محض ایک عدد ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج معمول کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک لاگ ان کی تو سکرول کرتے ہوئے ایک پوسٹ نظروں سے گزری۔ پوسٹ کچھ یوں تھی کہ نامور گلوکارہ اور سماجی کارکن حدیقہ کیانی کے انسٹاگرام پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف لکھتی ہیں کہ یہ ان کے، یعنی حدیقہ کیانی کے اللہ اللہ کرنے کی عمر ہے۔ اس کے جواب میں گلوکارہ نے صارف کا نام لیے بغیر مہذب انداز میں جواب دیا کہ کسی کام کی بھی کوئی مخصوص عمر نہیں ہوتی۔

ہمارے یہاں عمر کو لے کر لوگوں میں کافی احساسِ کمتری پایا جاتا ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ ایک خاص عمر کے بعد ایک انسان کو یا تو بے کار ہو جانا چاہیے یا کم از کم زیادہ عمر کی وجہ سے اسے کسی بھی کام میں زیادہ جوش و جذبہ دکھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ زندگی سے بیزار لوگ ہر طرف وافر مقدار میں دکھائی دیتے ہیں۔ جنہیں نہ ہی خود زندگی سے پیار ہے اور نا ہی ایسے لوگ انہیں بھاتے ہیں جو زندگی سے پیار کرتے ہیں، اسے ہر لمحہ کارآمد بنانے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں اور ہر روز بہتر سے بہترین تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آخر ہمارا نظریہ زندگی اتنا محدود کیوں ہے؟
ہماری اکثریت کے نزدیک زندگی کا حاصل صرف ایک نوکری کا حصول، شادی اور اس کے بعد فل اسٹاپ کیوں ہے؟

کوئی عورت محنت کر کے، اپنا خیال رکھ کے اگر 50 سال کی عمر میں بھی خوبصورت اور متحرک نظر آنا چاہتی تو میرے نزدیک تو وہ قابلِ تعریف ہے لیکن اس کے لیے تمسخر کیوں؟

ہم نے ہر کام کے لیے عمر مقرر کر لی ہے۔ یہ پڑھنے کی عمر ہے، یہ شادی کی عمر ہے، یہ کام کرنے کی عمر ہے اور یہ اللہ اللہ کرنے کی عمر ہے۔ خیال رہے کہ یہ سب کام کہیں ایک ساتھ نہ ہو جائیں۔

چند ماہ پہلے ملائشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد جن کی عمر 93 برس ہے، کا سی این این پر ایک انٹرویو سننے کا اتفاق ہوا۔ ان سے 93 برس کی عمر میں اتنے متحرک اور صحت مند رہنے کا راز پوچھا گیا تو انہوں نے یوں جواب دیا۔

”میں ایک متوازن زندگی گزارتا ہوں۔ میں کوئی بھی چیز کثرت سے نہیں کرتا۔ میں اتنا کھانا نہیں کھاتا کہ موٹا ہو جاٶں۔ عام طور پر میں اپنی صحت کا خیال رکھتا ہوں۔ ذہن کو متحرک رکھنے کے لیے آپ کو مطالعے کی ضرورت ہے، سوچنے کی ضرورت ہے، بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ غور و فکر کرنا چھوڑ دیں گے، مطالعہ کرنا چھوڑ دیں گے اور صرف خواب ہی دیکھتے رہیں گے تو آپ کا دماغ سوچنے کی کام کرنے کی صلاحیت کھو دے گا۔ تاریخ وارانہ (Chronological) عمر 93 ہے لیکن ضروری نہیں کے حیاتیاتی عمر بھی 93 ہو“

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •