اسد عمر۔ ٹیکنو کریٹ یا سیاستدان؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 74
  •  
  •  

اسد عمر کا مستقبل زیر بحث لانے سے خوف آتا ہے۔ چند ہی روز قبل جب ان کی کابینہ سے فراغت کی قیاس آرائیاں عروج پر تھیں تو میں نے دو جمع دو کرتے ہوئے احمقانہ ڈھٹائی سے دعویٰ کردیا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے حتمی مراحل میں ان کا جانا ممکن نظر نہیں آرہا۔ یہ کالم چھپنے کے دو ہی دن بعد ان کی فراغت ہوگئی۔ سبق اس فراغت سے یہ سیکھا ہے کہ اپنے منطقی ذہن کو رخصت پر بھیج دیا جائے۔ فقط ان لوگوں کو غور سے سنا جائے جن کے پاس ان دنوں ”اندر کی خبر“ ہوتی ہے۔

وہ جو کہیں سرجھکا کر تسلیم کر لیا جائے۔ کیونکہ بآلاخر وہی ہوتا ہے جو ”منظورِذرائع“ ہوتا ہے۔ میرا کم بخت دماغ مگر رخصت پہ جانے کو تیار نہیں ہورہا۔ بدھ کی صبح قومی اسمبلی کا اجلاس دیکھنے گیا تو اسد عمر ایوان میں اسی نشست پر براجمان تھے جو بطورِ وزیر خزانہ ان کے لئے مخصوص ہوا کرتی تھی۔ قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ نے تحریک انصاف کے ”غیر وزارتی“ بنچوں پر ان کے لئے نشست مختص نہیں کی تھی۔ اسد عمر کو وزارتی نشست پر بیٹھا دیکھتے ہی یاد آیا کہ انہیں کابینہ میں واپس لانے کی کہانیاں چل رہی ہیں۔

شاید کسی روز وہ کوئی اور وزارت لینے کو آمادہ ہوجائیں۔ ان کی کابینہ میں لوٹنے کی امید اس لئے بھی باندھی کیونکہ ایوان میں موجود تحریک انصاف کے کئی اراکین اپنی نشستیں چھوڑکر ان سے پُرجوش ملاقات کے لئے ان کے پاس آئے اور بہت احترام سے ان کی گفتگو سننے میں مصروف رہے۔ پیر کی شام بلاول بھٹو زرداری نے اسد عمر کی عدم موجودگی میں ”ذاتی وضاحت“ کا جواز لے کر ان کے خلاف ایک دھواں دھار تقریر کی تھی۔ سابق وزیر خزانہ نے اس تقریر کا بہت مختصر اور دھیمے انداز میں جواب دیا۔

صرف اعداد و شمار پر انحصار کرتے ہوئے 2008 سے 2013 تک موجود رہی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا کچاچٹھہ بیان کردیا۔ ان کی موجودہ اسمبلی میں مختصر ترین تقریر کا آخری حصہ مگر کافی غور طلب تھا۔ یہاں انہوں نے ”مافیاز“ کا ذکر کیا۔ فقط سیاست دان ہی ان ”مافیاز“ کے رکن نہیں۔ کئی کاروباری گروہ بھی ان میں شامل محسوس ہوئے۔ اسد عمر کا خیال تھا کہ ماضی کے ”کرپٹ حکمرانوں“ کے ساتھ مل کر یہ ”مافیاز“ عمران حکومت کو ناکام دکھانا چاہ رہے ہیں۔

ٹیکس دینے کو وہ تیار نہیں اور نہ ہی ملک اور غیر ممالک میں موجود بینک اکاؤنٹس اور قیمتی جائیدادوں کو سرکار کے روبرو آشکار کرنے کو آمادہ۔ ان کی تقریر کے اس حصے نے مجھے یہ سوچنے کو مجبور کیا کہ شاید اسد عمر اشارتاً یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ان کی کابینہ سے رخصت ”مافیاز“ کے دباؤ کی وجہ سے ہوئی۔ اگر آئندہ چند روز میں ان کی جگہ لینے والے ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کوئی بہت بڑی ”ٹیکس ایمنسٹی“ کا اعلان کردیا تو اس حصے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوگی۔

اپنی تقریر کا اختتام انہوں نے ”22 کروڑ کے ایٹمی ملک“ پاکستان کو زندہ باد کہتے ہوئے کیا۔ اس نے میرے خبطی ذہن کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کیا کہ غالباً اسد عمر یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ آئی ایم ایف پاکستان کو بیل آؤٹ پیکیج دینے سے پہلے چند ایسی شرائط منوانے پر تلا رہے گا جو ایک خودمختار ملک کے لئے قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔ یہ سوچتے ہی خیال آیا کہ شاید چند ماہ بعد اسدعمر کھل کر وہ سب باتیں ہمارے سامنے لے آئیں جو ان کی نظر میں کابینہ سے ان کی فراغت کا اصل باعث تھیں۔

اپنے ذہن میں آئے خیالات کو اسمبلی کے کیفے ٹیریا میں موجود چند متحرک رپورٹروں کے سامنے رکھا تو ان کی اکثریت نے کافی احترام سے میرا مذاق اُڑایا۔ ایک نے جرأت سے کام لیتے ہوئے بالآخر کہہ ہی دیا کہ مجھے اسد عمر میں ایک ”ممکنہ باغی“ ڈھونڈنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ وہ بالآخر ”اسی تنخواہ“ پر عمران حکومت میں جلد ہی کوئی وزارت قبول کرلیں گے۔ میں اس نوجوان سے اختلاف نہ کرپایا۔ گھر پہنچنے کے لئے گاڑی چلاتے ہوئے ڈاکٹر محبوب الحق یاد آگئے۔

1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے مرحوم سینٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے بہت لاڈلے شمار ہوتے تھے۔ ان کے نامزدکردہ وزیر اعظم جونیجو نے ڈاکٹر صاحب کو وزارتِ خزانہ سوپنی۔ ان کی حکومت کا پہلا بجٹ ڈاکٹر صاحب نے ہی پیش کیا تھا۔ اس بجٹ میں ”بلیک منی“ کو ”وائٹ“ کرنے والے بانڈز متعارف ہوئے تھے۔ معاشیات پر لکھنے والے میرے کئی سینئرز نے اس اسکیم کا بہت مذاق اُڑایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب ان سے بہت خفا ہوگئے اور اسمبلی کے فلور پر انہیں نام لے کر برابھلاکہتے ہوئے ہم صحافیوں کو احتجاجاً واک آؤٹ پر مجبور کرتے رہے۔

جونیجو مرحوم نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے مارشل لاء اُٹھانے کا بندوبست کرلیا تو مجھے خبر ملی کہ وزیر اعظم اپنی کابینہ میں ایسی تبدیلیاں ضرور کریں گے جس سے یہ پیغام جائے کہ کابینہ اب جنرل ضیاء کے ماتحت نہیں بلکہ وزیر اعظم سے احکامات لیتی ہے۔ ہم رپورٹروں میں ممکنہ تبدیلیوں کی سن گن لینے کی دوڑ شروع ہوگئی۔ اس دوڑ میں مجھے ایک قابلِ اعتماد شخص نے بتایا کہ ڈاکٹر محبوب الحق کو وزارتِ خزانہ سے ہٹادیا جائے گا۔

مجھے اعتبار نہ آیا۔ تین دن اس کی تصدیق میں خرچ کردیے۔ تصدیق ہوگئی تو دھڑلے سے خبر لکھ دی۔ وہ خبر چھپی تو میرے ایک سینئر ساتھی نے ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کرکے ان کا ردعمل جاننا چاہا۔ ڈاکٹر صاحب نے فقط یہ کہتے ہوئے فون بند کردیا کہ وہ ”Non Sense“ خبروں پر ردعمل نہیں دیا کرتے۔ ان کا ”ردعمل“ صبح کے اخبار میں As it isچھپا تو میں بہت شرمندہ ہوا۔ دو ہی روز بعد مگر ربّ نے میری لاج رکھ لی۔ ڈاکٹر صاحب کی جگہ مرحوم یاسین وٹو وزیر خزانہ بنادیے گئے۔

جونیجو مرحوم نے ڈاکٹرمحبوب الحق کو وزارتِ تجارت آفر کی۔ اسے قبول کرنے سے ڈاکٹر صاحب نے انکار کردیا۔ چند ہفتوں بعد مگر افواہ پھیلی کہ ڈاکٹر صاحب کابینہ میں واپسی کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ مجھے اعتبار نہیں آیا۔ پیر پگاڑا سے ایک نجی ملاقات میں پوچھ لیا تو انہوں نے بجائے سیدھا جواب دینے کے مجھ سے میرا خیال پوچھا۔ میں نے بہت احترام سے انہیں بتایا کہ ڈاکٹر محبوب الحق دنیا بھر میں جانے ہوئے ماہر معیشت ہیں۔

ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے ادارے انہیں بھاری بھر کم مشاہرہ پر کوئی بھی عہدہ دینے کو تیار ہوں گے۔ وہ جونیجو صاحب سے ”بے عزتی“ کروانے کے بعد ان ہی کی کابینہ میں واپس کیوں آئیں گے۔ میرا جواب سن کر پیر صاحب نے اُکتاہٹ سے لمبی جمائی لی۔ سگار کا کش لگایا اور محض یہ کہا کہ ”ٹیکنوکریٹ“ کو نوکری درکار ہوتی ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ ”تمہارا ڈاکٹر پرسوں کابینہ میں واپس آجائے گا“۔ ان کی کہی بات سچ ثابت ہوئی۔ میں کوئی حتمی رائے دینے کے بجائے لہذا انتظار کروں گا کہ بالآخر اسد عمر خود کو ”ٹیکنوکریٹ“ ثابت کرتے ہیں یا ”سیاستدان“۔
بشکریہ نوائے وقت۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 74
  •  
  •