آزاد میڈیا، صاحب اور صاحبہ


طاقت، پیسے اور اقتدار کی جنگ میں ان یتیم اور جاہل عوام کو اس ریاست کے ساتھ تباہی کی سمت دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ عوام جو تھوڑی سی تعلیم حاصل نہ کر سکے مگر ’جئے بھٹو‘ اور ’مجھے کیوں نکالا‘ کے نعرے مارتے اپنی ہی بربادی کے سامان تیار کرتے رہے۔ سچ و دانش کے نام پر بولنے اور بیٹھنے والے بڑے بڑے روشنی کے مینار پراپیگنڈے سے عوام کو اور ریاست کو سلامتی کی طرف لیجانے کی بجائے تباہی میں دھکیلتے رہے۔ عام انسان کا سچ اور جھوٹ وہی ہے جو اس کے پسندیدہ چینل یا پسندیدہ صحافی کا ہے۔

اس کے علاوہ اسے اپنے ننگے بچوں سے غرض ہے نہ بے روزگار اولاد سے، پانی کے خالی نلکے سے نہ گھر کے اندھیروں سے۔ یہ تعلیم سے عاری معاشرہ اپنے مسائل کو مسائل تک نہیں سمجھتا مگر بھٹو اور شریف کے نام پر مرنے اور مارنے کو تل جاتا۔ ہاتھیوں کی جنگ میں یہ کیڑے مکوڑوں جیسے عوام اور پاکستان نام کی ایک ناکام ریاست ان میڈیا ہاؤسز کے لئے ایک کھلونا ہے، ایک ڈگڈگی جس کی تال پر اس قوم کی تماشا بھیڑیں رقص کرتی ہیں۔

بے بنیاد باتوں پر کئی کئی گھنٹوں عوام کے کانوں میں زہر انڈیلا جاتا ہے اور اس شور وغل میں ذاتی مفاد اور اقتدار کی خاطر کئی کئی داؤ پیچ کھیلے جاتے ہیں۔ کچھ دن پہلے کابینہ تبدیلی پر ملک ڈبو دینے والا میڈیا اگلے دن سے صاحب اور صاحبہ کی تکرار میں اس قدر جکڑا جا چکا ہے کہ لگتا ہے صور پھونک دیا گیا ہے یا آسمان ہی پھٹ چکا ہے۔ کوئی حکمرانوں کو گالیاں دے رہا ہے، کوئی اپوزیشن کے لتے لے رہا، کوئی سلپ آف ٹنگ ثابت کرنے کی کوشش میں ہے اور کوئی عورتوں کی تذلیل سے جوڑنے میں۔

کسی کو ہومو سکشولزم کی تحقیر دکھ رہی ہے، کسی کو مرد کی تذلیل لگ رہی۔ یعنی کہ عوام کو بیکار بحث میں اس قدر دھنسا دو کہ کالے گورے کا فرق ہی بھول جائیں۔ ہر بات کو اس کے سیاق و سباق سے نکال کر اس طرح پیش کرو تاکہ آپ کی مرضی کا نتیجہ سامنے آئے۔ میڈیا کے مطابق ہمارا کام ہے حقائق کو جہاں ہے جیسے ہے کی بنیاد پر پیش کرنا اور عوام کو جنہیں الف انار اور بے بکری نہیں آتا اسے صحیح غلط میں فرق کر لینا چاہیے؟ کیا یہ زمینی حقائق سے مذاق نہیں؟ صحیح غلط کا فرق بتانے کے لئے بھی کیا اب فرشتوں کو آنا پڑے گا؟

پاکستانی معشیت بھی دنیا بھر میں سب سے بڑھ کر ترقی یافتہ ہو چکی، دنیا بھر سے ہزاروں لوگ نوکری کی منت سماجت کرتے ہمارے ہاں آ چکے، ادارے کامیاب ہو رہے، فوج نیک اور پارسا ہو چکی، حکومت کامیاب ہو گئی، کرپشن کا قلع قمع ہو گیا، غربت ختم ہو گئی، بیماریوں کا نام و نشاں مٹ گیا۔ ملک میں ترقی کا دور دورہ ہے اس لئے اب یہ سارا طاقتور میڈیا صاحب اور صاحبہ کا کھیل کھیلنے لگا ہے۔ ڈگڈی کا وقت آتا ہے تو سب پڑھے لکھے قابل لوگ آنکھوں پر کھوپے پہن کر درویشانہ رقص کرتے گول گول دائروں میں گھومنے لگتے ہیں۔

پراپیگنڈہ کیا ہوتا ہے اور ان پڑھ عوام کو کس طرح اس کے بل پر استعمال کیا جاتا ہے یہ مظاہرہ دیکھنے کے لئے صرف پچھلے دو دن کافی ہیں۔ جاننے اور نہ جاننے والے اس میں سب برابر ہیں۔ بدقسمتی سے آزاد میڈیا کے ذریعے عوام کے شعور کے وہ حسین خواب پنپنے سے پہلے ہی مرجھا چکے۔ کہاں گیا وہ شعور جو آنے والا تھا، سچ جو پھیلنے والا تھا، قومی ترقی جس کا وعدہ تھا۔ اس کی بجائے رنگ برنگ چشمے پہنا کر بھانت بھانت کے بھونبو دے کر عوام کو اور بھی گمراہ کر دیا گیا۔ اور یہ بات ثابت ہو گئی کہ جس ملک کے اٹھانوے فی صد عوام ان پڑھ ہوں، وہاں آزاد میڈیا نہیں ہونا چاہیے۔

اس آزاد میڈیا نے صرف بددیانت سرکار اور بے ایمان اشرافیہ کو مزید طاقتور کیا۔ اورجب تک یہ قوم سمجھنے کے قابل ہو گی کہ آزاد میڈیا کے ہاتھوں اس کے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا تب تک وہ یہ جاننے کے لئے رہے گی ہی کہاں؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2