ٹِک ٹاک مقررین اور ڈسپوزبیل تقاریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بنیادی طور پر مقررین کی بے تحاشا اقسام ہیں۔ البتہ اس کے مقابلے میں تقاریر کی صرف دو اقسام ہیں، پہلی وہ جو ہر موضوع پر فٹ آ جائیں اور دوسری وہ، جن پر موضوع کو فِٹ کرنا پڑے۔ بہرحال اگر آپ ایک کامیاب مقرر بننا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ایک ہی تقریر جیب اور دماغ میں محفوظ کر لیں۔ کیونکہ اگر ایک سے زیادہ تقاریر کا بکھیڑا آپ نے پال لیا تو پھر اِسی چکر میں آپ گھن چکر بن جائیں گے کہ کون سا موضوع ہے اور کون سی تقریر کی جائے۔

جب تقریر صرف ایک ہو گی تو پھر آپ کا دماغ ”ٹینشن فری“ ہو گا اور آپ موضوع پر گرہ لگانے میں بھی آزاد ہوں گے۔ اس لیے ہمارا صدقِ دل سے برادرانہ مشورہ ہے کہ اگر آپ خود کو مقررین کی بے تحاشا اقسام سے نکال کر کامیاب مقررین کی فہرست میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو صرف ایک، جی ہاں زیادہ کی لالچ چھوڑ کر صرف ایک تقریر پر اکتٖفا کریں۔ کامیابی کسی بنگالی بابے کے عمل سے بھی پہلے آپ کے قدموں سے لپٹ جائے گی۔

شہر سیاست کا حال دیکھ لیں، اپنے تبدیلی والے بھائی صاحب نے بھی ایک تقریر یاد کر لی۔ موضوع تھا کرکٹ کے میدان سے کرپشن (کے خلاف مہم) کے میدان تک، اب کنٹینر سے لے کر اسمبلی کے فلور، اور جلسہ گاہ سے لے کر وزارتِ عظمی کی کرسی تک حضور نے وہی تقریر سنانی ہوتی ہے اور سنا کر رہتے ہیں۔ خیر باقی پیٹی بھائیوں کا حال تو ان سے بھی بُرا ہے۔ سامعین کی بات کریں تو ہزاروں لاکھوں کا مجمع اُمڈ آتا ہے صرف دیکھا دیکھی کہ چلو دیکھیں تو سہی، جلسہ ہے، شغل ہو گا اور شاید روٹی کا بند و بست بھی ہو گا۔

یقیناً یہ تمام پروگرام شغل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ تماش بین اکٹھے ہوتے ہیں اور تماشا دیکھنے کے بعد آگے پیچھے ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ پتا ہے کہ قائد نے وہی گھسی پِٹی باتیں کرنی ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بریانی کی ایک پلیٹ پر ووٹ بک جاتا ہے، بلکہ مسئلہ تو یہ ہے، کہ آخر وہ کون سی قیامت آ گئی تھی کہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بھی ان بے ذائقہ مقررین کے لیے نعرے بازی کرنے میں مصروف ہو گئے۔ محض ایک بے وقعت نوکری، یا ایک آدھ سرکاری مسئلہ کیوں اِن کو اس قدر مفاد پرست بنا رہا کہ وہ اسٹیج پر موجود چند مداریوں کے گٗن گائیں۔ ظلم یہی ہے کہ دنیا کی بیشتر آبادی کو آپ نے پیٹ کے مسئلے سے آگے سوچنے ہی نہیں دیا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جب بھی گفتگو کی ادھار مانگی ہوئی رائے کا اظہار کیا، قلم اُٹھایا تو چند گھسی پٹی تحریروں کا چربہ نکلا، مائک ہاتھ آیا تو مستعار مانگے ہوئے نظریات بانٹے اور کہانی ختم کر ڈالی۔

ویسے اس سب کے باوجود ہمارے ہاں دانشوروں کے بڑھنے کی رفتار تعلیمی خواندگی بڑھنے کی رفتار سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ کوئی پتھر اٹھائیں یا اینٹ اکھاڑیں، کسی گلی کا چکر کاٹیں یا سوشل میڈیا کا علم دوست دروازہ کھولیں، ہر موڑ پر علم و دانش کے ایسے ایسے موتی بکھرے ملیں گے کہ خدا کی پناہ۔ اور کچھ کام دھندہ ہو یا نہ ہو، ایک ٹائی لگائی ہو گی اور بندہ موٹیویشنل اسپیکر ضرور ہو گا۔ کہتے ہیں زیادہ کتابیں پڑھنے سے زیادہ خطرناک یہ ہوتا ہے کہ آپ زندگی میں صرف ایک کتاب پڑھیں۔

خیر جہاں قلعہ اسلام کا نمائندہ بھی پوری زندگی ایک تقریر کے سہارے گزار دے تو وہاں ان دو ٹکے کے مقررین کی کیا اوقات۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسی جامع تقاریر مارٹن لوتھر کنگ بھی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جو ہمارے موٹیویشنل اسپیکرز نے ایجاد کر رکھی ہیں۔ اگر آپ بھی موٹیویشنل اسپیکر بَننا چاہتے ہیں تو بس کرنا یہ ہے اپنی زندگی کی آپ بیتی تیار کرنی ہے۔ بتانا ہے کہ والدین بہت غریب تھے اور اگر غریب نہیں تھے تو ہماری زندگی کے فیصلے نہیں کرنے دیتے تھے ہر چھوٹے بڑے مسئلے کو مشکلات کا کوہِ گراں ثابت کرنا ہے، ایک دو بار شیشے کے سامنے پریکٹس اور اگرسہولت ہو تو اپنے رشتہ داروں کے بچے اکٹھے کر کے پریکٹس کر لیں۔

آپ موٹیویشنل اسپیکر بن چکے ہوں گے۔ کامیاب اس لیے نہیں لکھا کیونکہ ضرورت نہیں، یقین مانیں اس شعبہ میں ناکامی کا تناسب صفر سے بھی پرے ہے۔ ویسے موٹیویشنل اسپیکر بننے کا اس سے بھی آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ چند کامیاب کاروباری شخصیات کی کہانیاں یاد کر لیں جنہوں نے مشکل حالات سے گزر کر اپنے اپنا کاروبار کھڑا کیا۔ بس کرنا یہ ہے کہ موقع کی مناسبت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہے کہ اس وقت کون سی کہانی سنانی بہتر ہے۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے، خواتین کا عالمی دن تھا۔ ترتیب کچھ ایسی بنی کہ اُس دن دو جگہ، مختلف پروگراموں میں شرکت کرنا پڑی۔ ایک میں میزبانی کرنا تھی تو دوسرے میں تقریر۔ خیر میزبانی کا تو کچھ سمجھ آ رہا تھا کہ چلو مہمان مقررین ہیں اُن کو بُلانا ہے، لیکن تقریر والی جگہ خاصی شرم آئی کہ خواتین کا عالمی دن ہے اور اُس دن بھی خواتین کی بجائے ہم ہی اسٹیج اسنبھالے ہوئے ہیں۔ خیر قصہ مختصر جگاڑ یہ لگایا کہ ”انسانیت“ کی نُمائندگی کرتے ہوئے کچھ باتیں جوڑ کر سامنے رکھ دیں۔

یقین مانیں ہماری تو تقریر جیسی تیسی تھی، ہو گئی مگر اُس دن کوئی 8، 10 مقررین کو سُنا، مجال ہے جو کسی ایک نے بھی موضوع یا چلو خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے کوئی پُر مغز نہ یا آدھ مغز بات ہی کی ہو۔ جس کے ہاتھ مائک آیا، اپنی لائف اسٹوری سنائی، یا آٹھ دس لکھی ہوئی باتیں پڑھیں دو چار بار تالیاں بجیں اپنی شیلڈ وصول کی، تصاویر اُتر چکیں اور سیشن مکمل ہو گیا۔

خیر موٹیویشنل اسپیکرز کا پوسٹ مارٹم تو ہو گیا اب ہم اگر اُن مقررین کی بات کریں جو بحیثیت طالبِ علم مختلف قسم کے مذاکروں یا مباحثوں کا حصہ بنتے ہیں تو وہاں حالات کہنے کی حد تک تو کچھ بہتر ہیں۔ البتہ بنیادی خرابیاں وہاں بھی موجود ہیں۔ یہ دعوی کرنے میں ایک تو میں اس لیے بھی حق بجانب ہوں کہ میرا تعلق خود اِسی قبیل سے ہے۔ دوسرا اگر کوئی صاحبِ عقل ان میں شریک ہو کر، ان کا تجزیہ کرلے تو حالات اُسکے سامنے واضح ہو جائیں گے۔

گفتگو برائے گفتگو، مستعار مانگی ہوئی سوچ، ادھار کے نظریات اور چند تیز و تُند جملوں کا ملغوبہ، ایک عمدہ تقریر اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو گی۔ گنتی کا بھی شاید ہی کوئی ایک آدھ شخص ملے جو صاحب الرائے ہو، جو اور نہیں تو کم از کم معاشرے کے حقیقی مسائل پہ گفتگو کر سکے۔ فلسفہ، ادب، تاریخ جیسے موضوعات تو بہت بعد کا جھنجٹ ہیں۔ آج اگر ان تمام سر گرمیوں سے ہمیں قومی سوچ کی بجائے، صرف چند اچھی تصاویر میسر آ رہی ہیں تو پھر بیٹھ کے ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہم ان کے حقیقی مقاصد کو بہت پیچھے تو نہیں چھوڑ آئے۔

کیا یہ تقریری مقابلے محض برائے مقابلہ تھے یا ان کا مقصد معاشرے کی نمائندگی بھی تھا۔ کاش کہ، ہماری بنیادی سوچ پہ بھی یہاں گفتگو ہوتی، اِس میں ترقی کے پہلو تلاش ہوتے تنزلی کا سدِباب ہوتا۔ ہماری جامعات میں سیاست، معیشت اور نظام حکومت زیر بحث آتا، فلسفہ ہائے حیات پہ بات ہوتی، پھر ان سے نظریات پھوٹتے۔ اس معاشرہ کے حقیقی مسائل سامنے آتے، فرسودہ اور کھوکھلے نظریات کا متبادل تلاش کیا جاتا، اُس پر بحث ہوتی اور پھر آہستہ ہی سہی مگر یہ معاشرہ ترقی کی کوئی صورت تو اختیار کرتا۔ جناب بات کچھ یوں ہے کہ اگر معاشرے کی اِس ”کریم“ نے بھی اسٹیج پہ جا کر چند جذباتی نعرے ہی لگانے ہیں تو ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب ہماری اجتماعی قبر پہ فاتحہ پڑھنے کے لیے کوئی ذی شعور نہیں آنے والا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •