حسن کوزہ گر: ایک کہانی
مَیں تمہارے عشق میں مجموعۂِ تضادات بن گیا ہوں، جہاں زاد۔ ایک طرف غیر مرئی جذبات کا خزانہ کہ لنڈھاتے جاؤ، دوسری طرف مادی ثروت کی طلب۔ میری اس دوئی پہ تجھے اتنی ہی ہنسی آئے گی جتنی اُس رات میرے تذبذب پہ آئی تھی۔ ثروت تو دور کی بات ہے، عشق میں تو بس اتنا ہوتا ہے کہ عاشق کا اپنا آپ اس کے سامنے آ جاتا ہے۔ عشق تو ایک سوال ہے جس کا جواب عاشق کے سوا کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ وہی عشق کی تکمیل کرتا ہے۔ کیوں کہ عشق کے نتیجے میں باطن کی صدا گونج اٹھتی ہے۔
اے جہاں زاد، یہ صدیوں پرانا میرا فن، صدیوں کے عشق کا اظہار ہے۔ تیری آنکھوں کے سمندر کے کنارے ڈوبنے کا اظہار میرے فن میں ہوا، اور یہ فن صدیوں پر محیط ہو گیا۔
میں اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا کہ مجھے تمہارا اس رات کا وہ سوال یاد آ گیا کہ: ”۔ ۔ ۔ حسن، یہاں بھی کھینچ لائی / جاں کی تشنگی تجھے؟“ اور اس کے یاد آتے ہی میرا حلق آنسوؤں سے بھر گیا۔
چلو، خیر! دل کہتا ہے کہ میرا بدن اس رات حلب کے اس حوض ہی میں رہ گیا ہے۔ میں دل کے اِس دوئی کے خیال کو جھٹک دیتا ہوں۔ ”ربطِ جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھے“۔ اِسی اعتبار کی وجہ سے میری ہستی کی غیر مرئی اصلیت اور میرے مرئی وجود میں اتحاد ہے۔ اگر تم اور میں بہم ہوں تو بھی یہ اتحاد مرئی وجود کا ہو گا اور میری غیر مرئی اصلیت الگ برقرار رہے گی۔ میری غیر مرئی اصلیت میرے مرئی وجود سے بھی پہلے ہے۔ کچھ بھی ہو، میں اپنی اس اصل کو دھوکا نہیں دے سکتا۔
ٹیڑھا پن تم عورتوں کی ساخت میں شامل ہے۔ اس لئے کوئی بھی تمہاری گتھیاں سلجھا نہیں سکتا۔ میں اپنے آپ کو یہ دھوکا نہیں دے سکتا کہ میں یہ گتھی سلجھانے میں کام یاب ہو گیا ہوں۔ اور پھر ہمارا وصال بھی کوئی آب و گِل کا وصال نہیں تھا جس سے کچھ تخلیق ہو۔ اور اگر وصالِ آب و گل تسلیم کر بھی لیں تو ہر وصالِ آب و گِل سے کوزے تخلیق نہیں پاتے۔ بہت بار بس واہمے ہی بنتے ہیں یعنی بے ڈھنگی شکلیں۔ ہمارا وصال بھی ایسا معنی خیز نہ تھا کہ اُس سے کچھ تخلیق پاتا۔
تو جہاں زاد، وہ رقیب اور مَیں تینوں ایک مثلث کے زاویے ہیں۔ چاک کی طرح یہ مثلث پھرتی ہے تو یہ بھی ساتھ ساتھ گھوم جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی جگہ لے لیتا ہے مگر سب اپنی اصل حقیقت سے نا آشنا رہتے ہیں۔ تو جو کہے اور چاہے تو میں یہ مثلث توڑ بھی سکتا ہوں۔ مگر نہیں، کیوں کہ چاک کی طرح اس مثلث نے بھی مجھ پر ایک سحر طاری کر دیا ہے۔ یہ گھومتا ہوا چاک میری طرف دیکھتا ہے کہ میں یہ کیا کر رہا ہوں۔ سبو و جام کے تراش تیرے بدن کے تراش جیسے ہیں، ان کا رنگ تیرے رنگ جیسا اور وہ تیری ہی طرح نرم و نازک بن رہے ہیں۔
میرے اندر تیرے حسن و جمال کا سیلِ دروں میری تخلیق بن کر باہر نکل کر میرے اندر تیرے ہونے کا اعلان کرنے لگا۔ ہر ایک کوزہ ”تُو“ بن کے رہ گیا۔ یہی وہ مرحلہ ہے کہ جب ”خمیرِ آب و گِل“ سے جدا ہو کر تخلیق کی صورت پا کر آب و گِل نے کامرانیاں حاصل کیں۔ مگر مجھ غریب کوزہ گر کو ایسی معرفت کی باتیں کہاں معلوم؟
جانے کیوں، جہاں زاد، میں کسی ان جانے انتظار میں ہوں۔ یہ انتظار نہ
۔ ۔ ۔ آنسوؤں کے دجلہ کا
نہ گم رہی کی رات کا
۔ ۔ ۔
حلب کی کارواں سرا کے حوض کا، نہ موت کا
نہ اپنی شکست خوردہ ذات کا
زمانے کی قید سے آزاد انتظارِ مسلسل ہے۔ لا محدود وقت میں جب چند لمحے تمہارے درد و غم کے آ گئے تو اس لا محدود وقت کا بار میرے سر سے اتر گیا۔ پھر یوں ہوا کہ یہ چند ثانیے گزر گئے تو ”تمام رفتہ و گزشتہ صورتوں، تمام حادثوں / کے سست قافلے / مرے دروں میں جاگ اٹھے۔“ ماضی ایک جہان کی صورت پھر سے میرے لا شعور سے شعور میں آ گیا۔ میں اپنی غنودگی سے جاگ اٹھا۔ اس تمام دورِ غنودگی میں میرے اپنی اصل سے دور ہٹ جانے سے جو کوزے ریزہ ریزہ ہو گئے تھے ایک بار پھر سے جڑنے لگے۔ ایک بار پھر لا فانی سانچوں میں ڈھلنے لگے۔
ہزاروں برس بعد کھنڈرات کی کھدائی کے دوران حسن کے بنائے ہوئے ”جام و مینا و گل داں کے ریزے“ دریافت ہوئے اور ان پر تحقیق شروع ہو گئی۔ اسی دوران حسن نام کا کوئی اور جواں کوزہ گر کسی اور شہر میں کسی سے عشق کرنے لگا۔ حسن حیران ہو کے بڑی ناگواری سے کہتا ہے کہ یہ لوگ جو اِن کوزوں کو الٹ پلٹ رہے ہیں اگر بہت زیادہ بھی جان لیں گے تو صرف ان کوزوں کی تراش خراش سے آگاہ ہو جائیں گے۔ یہ کبھی نہیں جان سکیں گے کہ ان کی اصل کیا ہے۔
کبھی نہیں جان سکیں گے کہ کس درد و غم میں جل کر اور کن آندھیوں کا سامنا کر کے یہ کوزے تخلیق ہوئے۔ میں نے اپنے ہاتھوں کے ایک ایک مسام سے، انگلیوں کی ہر پور سے تیری بانہوں کی پیمائشیں جذب کر کے انہیں کوزہ و مینا و جام و سبو میں ڈھال کر دیکھنے والوں کے سامنے لا رکھا ہے۔ انہیں کیا خبر کہ ان کے رنگ کس دھنک سے اور کون سی تتلیوں کے پروں سے آئے؟ انہیں کیا معلوم کہ کون سی ذات سے ان کوزوں کے خد و خال آئے؟
یہ کیا جانیں ”کہ میرے گِل و خاک کے رنگ و روغن / ترے نازک اعضا کے رنگوں سے مل کر / ابد کی صدا بن گئے تھے“۔ یہ محققین جو بھی کریں، حسن کوزہ گر کو کہاں سے لائیں گے؟ کیا یہ اس کے پسینے کے ان قطروں کا شمار کر پائیں گے جو یہ کوزے بناتے ہوئے اس نے بہائے؟ یہ کبھی بھی فن کی تجلی کے سائے تک کو نہ پہنچ پائیں گے۔ وہی سایہ جو ایک موسم سے دوسرے موسم تک، ایک دور سے اگلے دور تک اور ایک نوجوان کوزہ گر سے دوسرے کوزہ گر تک پھیلتا اور پہنچتا جا رہا ہے۔
یہ سایہ تو وہ سایہ جس کی وجہ سے ہم تمام کوزہ گر ہمہ عشق اور ہمہ تن خبر ہیں اور اپنے فن کے سر بسر خدا ہیں۔ اِن کے لئے تو یہ کوزے بس داستانِ فنا کا کوئی باب ہیں مگر ہمارے لئے یہ ہماری اصل کا اعلان ہیں۔ یہ وہ آنکھیں ہیں جو ہمارے اندر کھلتی ہیں اور ہمیں دیکھتی رہتی ہیں۔ یہ کوزے ہمارے باطن کا اظہار ہیں۔ یہ ہمارے ہر درد اور ہمارے ہر فن پارے کے حسن کی اصل سے واقف ہیں۔ جس طرح بوس و کنار کے مرحلوں سے گزر کر دو انسان ایک نرم و نازک وجود تخلیق کرتے ہیں، لطف کے ایسے ہی مراحل سے گزر کر ہمارے کوزوں میں نازکی تخلیق پاتی ہے۔

