دیوی کا کرشمہ

میں اپنے ماموں سے ملنے جا رہا تھا، وہ دریائے ستلج کے قریب ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔ ہمارے گھر سے ان کا گاؤں کھادر نہر کا پل پار کر کے دریا کی طرف رستے میں آتا ہے۔ میں پیدل ہی اس رستے پر چل پڑا۔ موسم بہت ہی سہانا تھا: ہر طرف گہرے اور ہلکے رنگوں کے اودے اودے بادل چھائے ہوئے تھے ؛ ایسے جیسے ابھی بارش ہو کے رکی ہو؛ اور بارش بھی نہ زیادہ کہ کیچڑ

Read more

محبت اور فلسفی

محبت کا فطری جذبہ خدائی عطیہ ہے۔ یہ کسی کی طرف شدید رغبت، اس کے حصول کی خواہش اور اسے ہمیشہ یا تا دیر اپنے قرب یا قبضے میں رکھنے کی تمنا کا دوسرا نام ہے۔ ان مختصر الفاظ سے محبت کی ماہیت بیان نہیں ہو جاتی کیوں کہ الفاظ کا تنگ جامہ یا محدود ظرف اسے اپنے اندر سمو نہیں سکتا۔ خود سپردگی، بے غرضی، دوسرے کا لحاظ، دوستانہ جذبات کا اظہار اور ہر دم جواں ہونا وہ چند

Read more

قرآن کا موضوع

قرآن کا موضوع کیا ہے؟ یہ سوال یا موضوع مقابلے کے امتحان کی تیاری کی ہر دوسری کتاب میں پایا جاتا ہے اور اس کا جواب دیا جاتا ہے : انسان۔ معاملہ مذہب یا اسلام کا ہو تو ہم سب ہی جواب ضرور دیتے ہیں، اور میرے سمیت سب ہی علامہ ہیں۔ یہ جواب محض سنی سنائی اور اٹکل پچو پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کھولتے ہی اس کا جواب مل جاتا ہے۔ قرآن کی پہلی سورۃ،

Read more

ٹاپک سیلیکشن: لسانی تحقیق کے آغاز میں مدد

کچھ جاننے والوں نے اپنی تحقیق کے لئے ٹاپک سلیکشن کے بارے میں مجھ سے بات کی۔ ان کی مہربانی ہے کہ انہوں نے اس لائق سمجھا۔ مجھے یہ سمجھ آئی ہے کہ طلبہ چاہتے ہیں ان کے سامنے کوئی فہرستِ انتحاب ہو جس میں سے وہ فوراً کسی ایک پر انگلی رکھ لیں۔ سادہ سی بات یہ ہے کہ ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی جو ہر ایک محقق کے انفرادی مسائل حل کرے اور انفرادی ضروریات پوری کرے۔

Read more

مائیکل ہارٹ اور مقامِ محمد ﷺ

اپنی کتاب The 100 : A Ranking of the Most Influential Persons in History میں امریکی مصنف مائیکل ایچ ہارٹ نے دنیا کے سو مؤثر ترین افراد کی درجہ بندی کی اور مختصر حالات لکھے جس میں مسلمانوں کے پیغمبر محمد (ﷺ) سرِ فہرست تھے۔ ان کا تعارف کراتے ہوئے اور سر فہرست ان کی درجہ بندی کی وجہ بتاتے ہوئے ہارٹ نے اپنی کتاب کے پہلے پیراگراف میں لکھا: ”دنیا کے مؤثر ترین افراد کی اِس فہرست میں محمد

Read more

آپ چلتے ٹوکے میں بازو کیوں نہیں دیتے کہ اللہ مالک ہے؟

چین کے کورونا پر قابو پانے میں قرنطینہ کے ساتھ ساتھ passive immunization کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ اس میں بلڈ پلازما سے تیار کردہ اینٹی باڈیز (مدافعتی مواد) جسم میں داخل کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں فی الحال بڑے پیمانے پر اس کے لئے کوئی تیاریاں شروع نہیں ہوئیں۔ پوری تن دہی سے اس میں لگ گئے تو بھی تیاری کے لئے آٹھ دس دن لگیں گے۔ قرنطینہ احتیاط ہے، مدافعتی مواد کا جسم میں داخل کرنا ایک

Read more

سلام، استاد

کوئی دو ہفتے پہلے مجھے میرے چھٹی جماعت کے استاد صاحب کا فون آیا۔ کبھی مجھے ”محمود بیٹا“ کہہ کر مخاطب کرتے اور کبھی میرے بچپن کے عرف ”مودی“ سے۔ میرے کانوں میں ان کی آواز کا رس تو سالوں سے گھُلا ہوا ہے مگر سالوں بعد انہوں نے میرا فون نمبر حاصل کر کے مجھے فون کیا، اس کی اپنی ہی قدر و قیمت اور اپنا ہی سرور ہے۔ یہ وہ استاد ہیں جن کی کلاس میں اے بی

Read more

حسن کوزہ گر: ایک کہانی

”حسن کوزہ گر“ چار حصوں میں 28 صفحات پر محیط ن م راشد کی طویل ترین نظم ہے۔ راشد کے خاص انداز میں نظم ایک کہانی کی صورت ہے۔ ہم سے پہلے بھی لوگ اس کہانی کوکھول کھول کر بیان کر چکے ہیں۔ ہم نے ایک اور کوشش کی ہے کہ اس کہانی کو بغیر کسی مداخلت کے بلا کم و کاست بیان کریں۔ کوشش رہی کہ تمام نظم کو اس طرح نثر میں ڈھال دیا جائے کہ عام قاری اس سے مانوس ہو جائے۔

تو کہانی اس طرح سے ہے کہ حسن نام کا ایک کوزہ گر، صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں بنانے میں اپنا تمام تر زورِ فن لگا دیا کرتا اور اس کے بدلے میں اس کی معمولی معیشت کا پہیہ چلتا رہتا۔ اس نے کہیں جہاں زاد کو دیکھا تو اس کی آنکھوں کی تابناکی میں ہی کھو کر رہ گیا۔ جہاں زاد پر اس کی وارفتگی اس حد تک بڑھی کہ اُس کے بارے میں سوچتے ہوئے حسن کے ہاتھ کانپنے لگ جاتے، دست کار کے کانپتے ہاتھوں سے کوزے گرتے، اور ان میں درزیں پڑ جاتیں۔

Read more

نقشِ فریادی: دیوانِ غالبؔ کے پہلے شعر کی شرح

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِٔ تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا یہ شعرِ مطلع، سرِ دیوانِ غالبؔ ہے۔ اس میں ”نقش“ کی شِین زیر کے بغیر ہے۔ چوں کہ وزن فاعلاتن، فاعلاتن، فاعلاتن، فاعلن ہے، اس لئے بھی بعضے اس شین کو حرکت کے ساتھ پڑھ جاتے ہیں، اور تقطیع میں ایسے ہی ہے۔ ”عودِ ہندی“ میں جناب عبد الرزاق شاکرؔ گورکھپوری کے نام غالبؔ کے 10 خطوط نقل ہیں۔ اس کے آٹھویں اور مولانا غلام

Read more

جگنی کا ایک تعارف

لفظ ”جُگنی“ پنجابی زبان میں نُون کی بجائے نانڑا کے ساتھ لکھا جاتا اور اسی طرح پڑھا اور بولا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کے تاثر سے نانڑا کی جگہ نُون نے لے لی، یہاں تک کہ پنجابی زبان میں بھی اب یہی رواج پا گیا ہے۔

حکومتِ پنجاب کی سرپرستی میں منشی گلاب سنگھ و برادران نے خالصہ کالج کونسل کے رکن بھائی مایا سنگھ ( ”بھائی“ احترام کا کلمہ ہے جیسے ”جناب“ اور سکھ مذہبی رہنماؤں کے نام کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے ) سے ایک پنجابی لغت لکھوائی، جسے امرتسر کے ڈاکٹر ایچ ایم کلارک نے ”پاس“ کیا اور پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی کی وساطت سے 1895 میں اسے چھاپ دیا گیا۔ کتاب کے دیباچے کے مطابق یہ 1854 میں چھپنے والی لغت کا ترمیمی ایڈیشن تھا۔ اس کے مطابق ”جگنی، عورتوں کا گردن میں پہننے کا ایک زیور ہے۔ اس سے متعلق گیت بھی“ جُگنی ”کہلاتا ہے۔ “ یہ سلنڈر نما زیور ریشمی دھاگوں کی بغیر بل کی رسی میں پرویا ہوتا ہے جس سے اسے گردن کے گرد پہن لیا جاتا ہے اور خود جگنی گردن کے ساتھ لٹک جاتی ہے۔ پنجابی لوک ادب میں اسی طرز کی ایک اور مثال چھلا ہے۔ گویا مختصراً آپ جگنی کو گیت کہہ سکتے ہیں۔

Read more