سلام، استاد

کوئی دو ہفتے پہلے مجھے میرے چھٹی جماعت کے استاد صاحب کا فون آیا۔ کبھی مجھے ”محمود بیٹا“ کہہ کر مخاطب کرتے اور کبھی میرے بچپن کے عرف ”مودی“ سے۔ میرے کانوں میں ان کی آواز کا رس تو سالوں سے گھُلا ہوا ہے مگر سالوں بعد انہوں نے میرا فون نمبر حاصل کر کے…

Read more

حسن کوزہ گر: ایک کہانی

”حسن کوزہ گر“ چار حصوں میں 28 صفحات پر محیط ن م راشد کی طویل ترین نظم ہے۔ راشد کے خاص انداز میں نظم ایک کہانی کی صورت ہے۔ ہم سے پہلے بھی لوگ اس کہانی کوکھول کھول کر بیان کر چکے ہیں۔ ہم نے ایک اور کوشش کی ہے کہ اس کہانی کو بغیر کسی مداخلت کے بلا کم و کاست بیان کریں۔ کوشش رہی کہ تمام نظم کو اس طرح نثر میں ڈھال دیا جائے کہ عام قاری اس سے مانوس ہو جائے۔

تو کہانی اس طرح سے ہے کہ حسن نام کا ایک کوزہ گر، صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں بنانے میں اپنا تمام تر زورِ فن لگا دیا کرتا اور اس کے بدلے میں اس کی معمولی معیشت کا پہیہ چلتا رہتا۔ اس نے کہیں جہاں زاد کو دیکھا تو اس کی آنکھوں کی تابناکی میں ہی کھو کر رہ گیا۔ جہاں زاد پر اس کی وارفتگی اس حد تک بڑھی کہ اُس کے بارے میں سوچتے ہوئے حسن کے ہاتھ کانپنے لگ جاتے، دست کار کے کانپتے ہاتھوں سے کوزے گرتے، اور ان میں درزیں پڑ جاتیں۔

Read more

نقشِ فریادی: دیوانِ غالبؔ کے پہلے شعر کی شرح

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِٔ تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا یہ شعرِ مطلع، سرِ دیوانِ غالبؔ ہے۔ اس میں ”نقش“ کی شِین زیر کے بغیر ہے۔ چوں کہ وزن فاعلاتن، فاعلاتن، فاعلاتن، فاعلن ہے، اس لئے بھی بعضے اس شین کو حرکت کے ساتھ پڑھ جاتے ہیں، اور تقطیع میں…

Read more

جگنی کا ایک تعارف

لفظ ”جُگنی“ پنجابی زبان میں نُون کی بجائے نانڑا کے ساتھ لکھا جاتا اور اسی طرح پڑھا اور بولا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کے تاثر سے نانڑا کی جگہ نُون نے لے لی، یہاں تک کہ پنجابی زبان میں بھی اب یہی رواج پا گیا ہے۔

حکومتِ پنجاب کی سرپرستی میں منشی گلاب سنگھ و برادران نے خالصہ کالج کونسل کے رکن بھائی مایا سنگھ ( ”بھائی“ احترام کا کلمہ ہے جیسے ”جناب“ اور سکھ مذہبی رہنماؤں کے نام کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے ) سے ایک پنجابی لغت لکھوائی، جسے امرتسر کے ڈاکٹر ایچ ایم کلارک نے ”پاس“ کیا اور پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی کی وساطت سے 1895 میں اسے چھاپ دیا گیا۔ کتاب کے دیباچے کے مطابق یہ 1854 میں چھپنے والی لغت کا ترمیمی ایڈیشن تھا۔ اس کے مطابق ”جگنی، عورتوں کا گردن میں پہننے کا ایک زیور ہے۔ اس سے متعلق گیت بھی“ جُگنی ”کہلاتا ہے۔ “ یہ سلنڈر نما زیور ریشمی دھاگوں کی بغیر بل کی رسی میں پرویا ہوتا ہے جس سے اسے گردن کے گرد پہن لیا جاتا ہے اور خود جگنی گردن کے ساتھ لٹک جاتی ہے۔ پنجابی لوک ادب میں اسی طرز کی ایک اور مثال چھلا ہے۔ گویا مختصراً آپ جگنی کو گیت کہہ سکتے ہیں۔

Read more