”حسن کوزہ گر“ چار حصوں میں 28 صفحات پر محیط ن م راشد کی طویل ترین نظم ہے۔ راشد کے خاص انداز میں نظم ایک کہانی کی صورت ہے۔ ہم سے پہلے بھی لوگ اس کہانی کوکھول کھول کر بیان کر چکے ہیں۔ ہم نے ایک اور کوشش کی ہے کہ اس کہانی کو بغیر کسی مداخلت کے بلا کم و کاست بیان کریں۔ کوشش رہی کہ تمام نظم کو اس طرح نثر میں ڈھال دیا جائے کہ عام قاری اس سے مانوس ہو جائے۔
تو کہانی اس طرح سے ہے کہ حسن نام کا ایک کوزہ گر، صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں بنانے میں اپنا تمام تر زورِ فن لگا دیا کرتا اور اس کے بدلے میں اس کی معمولی معیشت کا پہیہ چلتا رہتا۔ اس نے کہیں جہاں زاد کو دیکھا تو اس کی آنکھوں کی تابناکی میں ہی کھو کر رہ گیا۔ جہاں زاد پر اس کی وارفتگی اس حد تک بڑھی کہ اُس کے بارے میں سوچتے ہوئے حسن کے ہاتھ کانپنے لگ جاتے، دست کار کے کانپتے ہاتھوں سے کوزے گرتے، اور ان میں درزیں پڑ جاتیں۔
Read more