وقت کی اکائی اور انقلاب کا جشن


بیرکوں میں بند کتے گوشت کی بُو سونگھ کر بھونکنے لگے تو بادشاہ نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونسی اور سارا شہر بہرا ہوگیا۔
کتوں نے کھونٹے اکھاڑے ؛ زنجیریں توڑیں ؛ دروازوں میں شگاف کیے ؛ فصیلیں گرائیں اور لوگوں پر ٹوٹ پڑے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ جو بہرے تھے، اور بھوکے تھے، ا ور ننگے تھے، اور جھونپڑیوں میں سورہے تھے۔

نرخرے کاٹے گئے ؛ شہ رگیں بھنبھوڑی گئیں ؛ گوشت کے لوتھڑے نوچے گئے اور اُدھڑی ہوئی لاشیں راکھ کے ڈھیروں پر گھسیٹی گئیں۔
اماؤس کی رات نے اتنے سورج نگلے اور اتنے چاند مسمار کیے کہ دھرتی کے لب روشنی کے بوسوں کے لیے ترس گئے۔
اندھیرا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
گھپ اندھیرا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
صدیوں پر محیط اندھیرا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
***  ***
” آخر وہ کیا چیز تھی جس کو پانے کی خاطر تو نے اپنی جان کا خراج دیا اور زہر کے پیالے کو امرت دھارا جانا؟ “ اسپائی نوزا کی آوازاندھیروں کو چیرتی آگے بڑھی۔
” روشنی کی پہلی کرن کو راستہ دینے کے لیے مجھے اپنی آخری سانس سے دست بردار ہونا پڑا۔ “ سقراط نے کتوں کے لاشے پھلانگتے ہوئے جواب دیا اور دور اُفق کی جانب نگاہیں گاڑ دیں۔
زرق برق کپڑوں میں ملبوس کچھ نوجوان ڈھول پیٹتے ہوئے آئے اور سارا شہر جیت کا لطف دوبالا کرنے کے لیے ناچنے لگا۔

اُسی لمحے سقراط نے اسپائی نوزا کی جانب ایک پر مسرت نگاہ اُچھالی۔ پھر اُس کے شکنوں بھرے چہرے پر سوالیہ نشان رقم ہوتے چلے گئے تھے۔
”یہ تمہارے گلے میں جھولتا داؤدی ستارہ کہاں گیا اسپائی نوزا؟ “ سقراط کے لہجے میں حیرت کا عنصر غالب تھا۔

”ابھی چند ہی گھنٹوں پہلے، میں نے اِسے سائناگاگ کے احاطے میں دفن کیا ہے۔ “ اسپائی نوزا قہقہایا۔
”مگر کیوں؟ “ سقراط نے ہمیشہ کی طرح اصل نکتے کی کھوج جاری رکھی۔

”تاکہ صدیوں سے عصبیت اور گروہ بندی کی فرسودہ جکڑن میں پھنسا بھوکا، ننگا اور بہرا آدمی طبقۂ اشرافیہ کی بے معنی زنجیریں توڑ کر اپنی غلامانہ سوچ کو پروانۂ آزادی عطا کرے۔ “
اور جب اسپائی نوزانے اپنی بات مکمل کی تو اس وقت بادشاہ کی کھال اس کے جسم سے علیحدہ کی جاچکی تھی، سورج آسمان پر اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ براجمان تھا اور ہزاروں سال سرک کر اتنے قریب آگئے تھے کہ وقت کی ہر اکائی انقلاب کے جشن میں ضم ہو چکی تھی۔

Facebook Comments HS