قبائلی علاقے میں ”بلاول صاحبہ“ کے الفاظ کے اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ وزیرستان لہولہان ہیں اور وجوہات سینکڑوں بیان کی جاسکتی ہیں اور نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں کہ یہاں کے نوجوان کس حد تک ناراض ہیں اور کتنے خطرات سے کھیلنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں لیکن ہمارا موضوع آج عمران خان کا دورہ وزیرستان ہے۔ یہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وزیرستان یا فاٹا کے دیگر علاقوں کے دوروں کی یادیں تازہ ہیں اس لیے وزیراعظم پاکستان کا دورہ ایک تاریخی پیرائے میں دیکھا جارہا تھا۔

آج ہی جنوبی وزیرستان کے علاقے اپر سپلاتوئی سرمشائی میں لینڈ مائنز کے دھماکے میں دو بچے ہمیشہ کے لئے معذور ہوگئے۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ گزرے پندرہ بیس سالوں میں جو کچھ یہاں ہوا جو مظالم ہوئے اسی کے تناظر میں خان صاحب لوگوں کے لیے ایک مثال قائم کریں گے، جس چیز کی کمی کی وجہ سے یہاں کے بچے بارود بن گئے وہ یقیناً ناخواندگی تھی، جہالت تھی اور ہمارے لوگ خوش فہمی کے بری طرح سے شکار ہوئے تھے کہ وزیراعظم بڑے بڑے اعلانات کرنے والے ہیں شاید کہ ہماری بدبختی ختم ہو، کالجز کے اعلانات ہوں گے یونیورسٹیوں کی برانچیں کھولنے کے اعلانات ہوں گے میڈیکل کالج کم از کم محسود اور وزیر علاقوں میں ایک ایک تو ضرور بنے گا۔

اس دورے سے قبل ایک پراسرار بات یہ ہوئی کہ محسود قبیلے نے وزیراعظم کے دورہ وانا کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا گیا اور معاملے کو رنگ یہ دیا گیا کہ جیسے محسود قبیلہ وانا کے احمدزئی قبیلے کی ترقی نہیں چاہتے اور جو لوگ سمجھتے ہیں ایسے معاملات نہایت حساس ہوتے ہیں اور اس کے علاقائی یکجہتی پر نہایت منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اس دوران وزیراعظم صاحب نے اپنے پروگرام میں تبدیلی کی اور سپینکئی رغزائی میں محسود علاقے کا دورہ بھی کیا اور خطاب بھی کیا۔

شکئی جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے والے اجمل وزیر، محسود علاقے سے تعلق رکھنے والی جمعیت علمائے اسلام ف اور کچھ ملکان ایک تکون کے طورپر استعمال ہوئے اور نتیجہ یہ نکل رہا تھا کہ جیسے وزیر اور محسود قوم کے درمیان بڑے پیمانے پر اختلافات پیدا ہوجائیں گے لیکن ہمیں ایک بات ماننی پڑے گی کہ یہاں کے نوجوانوں نے بدترین دنوں سے بہت کچھ سیکھا بھی ہے جس کی وجہ سے متوقع اختلافات پنپ نہ سکے۔ وزیراعظم صاحب کا دورہ یہاں کے لوگوں کے لیے انتہائی مایوس کن رہا البتہ وزیراعظم صاحب نے کچھ باتیں ایسی کیں جو حیران کن تھی۔

مثال کے طور پر انہوں نے باجوڑ میں کہا کہ پی ٹی ایم کے مطالبات صحیح ہیں اور میں بھی کئی سالوں سے یہی کچھ تو کہہ رہا ہوں لیکن لہجہ درست نہیں ہے، لیکن شاید کچھ ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے انہوں نے یہاں کچھ اور فرمایا کہ جیسے پی ٹی ایم کسی اور کے اشاروں پر ایسا کررہی ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ بڑا سخت وقت آ رہا ہے۔ سخت وقت سے کیا مراد تھی؟ بہت سے لوگ خوف کا شکار ہوگئے ہیں کیونکہ گزشتہ بیس سالوں سے یہاں کے لوگ پہلے ہی جہنم کی زندگی گزار رہے ہیں۔

کیا کوئی براہ راست بڑا ایکشن ہونے والا ہے لیکن کیوں؟ کیا زندگی کی بھیک مانگنا جرم ہے؟ کیا ماورائے عدالت قتل نہ کرنے کی صدائیں جرم ہے؟ کیا اپنے پیاروں کی گمشدگی پر واویلا جرم ہے؟ کیا روز روز لینڈ مائنز کے شکار ہوتے بچوں کے لیے لینڈ مائنز کی صفائی کا مطالبہ جرم ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر کیوں سخت وقت آرہا ہے؟ اگر وزیراعظم صاحب یہاں کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ اسی پیغام کے لیے آئے تھے؟

وزیرستان کے لوگوں نے خان صاحب سے اس وجہ سے بھی کافی امیدیں وابستہ کررکھی تھیں کہ ان کی والدہ محترمہ کا تعلق کانیگرم جنوبی وزیرستان کے برکی قبیلے سے تھا اور وہ جن دنوں کرکٹ کھیلا کرتے تھے تو کئی بار یہاں آچکے ہیں اور اپنی کتاب میں بھی اس کا ذکر کیا ہے لیکن اس وقت لوگ ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہیں کہ ہم کیا سوچ رہے تھے اور ہوا کیا؟ خان صاحب کو شاید پگڑی کے تقدس کا ذرا برابر بھی خیال نہیں کہ انہوں نے پگڑی پہنے ہوئے سٹیج سے بلاول کو بلاول صاحبہ کہہ کر پکارا اور جو لوگ قبائلی روایات سے واقف ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ انہوں نے کتنی بڑی غلطی کی۔

آپ کسی بھی قبائلی سے پوچھیں جب بھٹو شہید کی بات آتی ہے تو آپ کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ قبائلی بھٹو صاحب کو کس نظر سے دیکھتے آئے ہیں۔ بیشک زرداری بھٹو نہیں لیکن بلاول اسی بھٹو شہید کا نواسہ ہے جن کو گالی اس سرزمین سے دی جہاں ان کو صرف عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جناب وزیراعظم صاحب کو سمجھنا چاہیے کہ وہ کیا ہیں اور انہیں علاقے کی صورتحال کے مطابق کہنا کیا ہے۔ لیکن آج انہوں نے ایک طرف خود کو بہت ہلکا ثابت کردیا وہیں دوسری طرف اس تاریخی موقعے کا فائدہ بھی نہ اٹھا سکے کہ یہاں کے زہریلے ماحول کو خوشگوار بنادیا جاتا، لوگوں کو اعتماد ملتا کہ ہماری فکر ہورہی ہے، ہمیں اپنایا جارہا ہے۔ ڈرانے کی کوئی تک نہیں بن رہی تھی کیونکہ اس وقت یہاں ڈر کے لیے موقع تقریباً ختم ہوچکا ہے یہاں کے لوگ روز موت کا سامنا کرکے آرہے ہیں اور ڈرانے والا موقع اس لحاظ سے ختم ہوچکا ہے کہ ڈرانے اور مارنے کے قریباً تمام حربے استعمال ہوچکے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ فاٹا کے لوگ انتہائی محنتی اور با صلاحیت ہیں لیکن ان کو یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ آپ نے جو سہا ہے اس کا ازالہ ہوگا اور مزید کوئی قربانی نہیں لی جائے گی اور یہ خالی خولی باتوں کے برعکس عملی اقدامات سے ہی ہو سکتا ہے لیکن مایوسی بڑھ رہی ہے بلکہ یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی میں ایسا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ خطرناک ہوتے ہوئے ماحول کو خوشگواری میں بدل سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •