لڑکی کی جبری شادی


پرندے کی اُڑان اُڑنے کے خواب لیے آج کی لڑکی آسمانوں کو چھو لینا چاہتی ہے۔ فیمنیزم کے نعرے بلند کرتے مرد کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے اپنی قابلیت کو منوا لینا چاہتی ہے۔ آج اکیسویں صدی میں جہاں ایک طرف وویمن ایپماورمنٹ، جنڈر ایکلویلٹی، وویمن رایئٹس کی باتیں کی جاتی ہیں وہیں اسی صدی میں کسی کونے میں یہی لڑکی اپنے خواب آنسووں میں بہاتی ہوئی چپ چاپ زبردستی مسلط کیے ہوئے فیصلوں کو ماننے پر مجبور پائی جاتی ہے۔

یہ مجبور لڑکی اسی معاشرے کا حصہ ہے جہاں ایک طرف تو آزاد خیال، بروڈ مائینڈڈ لوگوں کا بسیرا ہے تو دوسری طرف دباؤ، معاشرتی اور خاندانی سختی کے ہاتھوں عاجز ہے۔

یہ وہی لڑکی ہے جو پڑھ لکھ کے اپنا مستقبل اپنے ہاتھوں سے بنانا چاہتی ہے، اپنی کامیابی کے خواب سچ ہوتے دیکھنا چاہتی ہے، اپنے آپ کو معاشرے کا ایک اہم رکن قرار دینا چاہتی ہے، کابیابی کی سیڑھی چڑھتے رہنا چاہتی ہے لیکن اپنے خوابوں کو بری طرح بکھرتا پاتی ہے جب ’لڑکی تو پرایا دھن ہے‘ کی آواز اپنے کانوں میں پاتی ہے۔

اچانک ہی یہ بہادر اور ہونہار لڑکی خود کو اس قدر کمزور ہوتا پاتی ہے کہ گھٹن اور آنسووں میں بہہ جانے کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور چارا نہیں رہتا۔ اس کی خواہشات اس کے خیالات اس کے خواب کو روندتے ہوئے اسے ایک ایسے رشتہ میں باندھ دیا جاتا ہے جس میں سوائے گھٹ گھٹ کے جینے میں اسے اور کو ئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ میں مانتی ہوں کہ شادی ایک اہم فیصلہ ہے، یہ ان پاکیزہ رشتوں میں سے ہے جس میں بندھ کر لڑکی محفوظ ہوجاتی ہے مگر کیا اس پاکیزہ رشتے میں ایک لڑکی کی مرضی بالکل معانی نہیں رکھتی؟ شاید اس لڑکی کی قسمت بھی اسی گڑیا کی طرح ہے جسے ہم بچپن میں کسی بھی گڈے سے بیاہ دیا کرتے تھے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا آج بھی اس تیزی سے بدلتے گلوبلائزڈ دور میں بھی اس کا واقعی کوئی گھر نہیں ہے؟ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب یہ لڑکی اپنے خاندان اپنے معاشرے کے خوابوں کو لے کے آگے بڑھے گی تو اس کے خوابوں کو کون پورا کرے گا؟ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ لڑکی اپنی قسمت میں اوپر سے ہی دبنا سہم کے رہنا لکھوا کے ائی تھی؟ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کون ہوگا جو اس لڑکی کو بھی اگے بڑھتے دیکھنے کو اپنی کامیابی سمجھے گا؟ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کب تک یہ لڑکی اور ناجانے اس جیسی کتنی بے شمار باہمت لڑکیاں اپنی خوایشات کو یوں کہیں کسی کونے میں دفن کردینے پر مجبور ہوں گی ۔

ہر طرح کے دباؤ میں جکڑی ہوئی یہ لڑکی زمانہ قدیم کی ان رسموں کو سراہنے پر مجبور ہیں جس میں انہیں زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، بیٹی ہوجانے پر سوگ منایا جاتا تھا اور تو اور عورت ذات ہونے کو عیب سمجھا جاتا تھا۔ کاش کہ ”تم فخر ہو“ وہ تین لفظ ہوا کرتے جو لڑکی کی زندگی کو ہمیشہ کے لئے بدل دیتے ہیں۔ کاش!

Facebook Comments HS