سب رنگ پاکستان
پاکستان قدرت کا ایک حسین ملک ہے جس میں جا بجا قدرت کی حسین نشانیاں بکھری پڑی ہیں۔ وطن عزیز کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں کے ہر علاقے کی ایک اپنی زبان ہے۔ کہیں پشتو کہیں بلوچی، سندھی، پنجابی، سرائیکی، ہندکو تو کہیں کوئی اور زبان بولی جاتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں کم و بیش 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اسی سلسلے میں جب 2016 میں یہ تحقیق دوبارہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں 76 مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ ہر زبان کی کئی اقسام ہیں مثال کے طور پر سندھ میں بولی جانے والی سرائیکی زبان پنجاب کی سرائیکی سے کچھ مختلف ہے۔
اسی طرح پنجاب میں بولی جانے والی ہندکو خیبر پختونخوا میں بولی جانے والی ہندکو سے مختلف ہے۔ یہ تمام زبانیں بولنے والے آپس میں رابطے کے لئے اردو کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہمارے ملک میں مختلف زبانیں بولنے والوں کو آپس میں لڑوانے کی کئی بار کوشش کی گئی ہے۔ با اثر افراد نے اپنے مفاد کی خاطر کئی بار لسانیت کارڈ کا استعمال کیا اور بھائی سے بھائی کو لڑوایا۔ وطن عزیز کی ایک خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ چند ہی سہی لیکن یہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو فروغ اتحاد کے لئے کوشاں ہیں۔
کراچی کو منی پاکستان کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پاکستان کی تقریبا تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد رہتے ہیں۔ لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں بولی جانے والی 76 زبانوں میں سے اکثر کراچی میں بولی جاتی ہیں۔ کچھ دن قبل لکھاریوں کی تنظیم آل کراچی رائٹرز فورم کے ایک پروگرام میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ پروگرام اپنی نوعیت کا ایک الگ اور منفرد پروگرام تھا۔ آل کراچی رائٹرز فورم نے پاکستان کی مختلف زبانوں کے شعراء کو ایک جگہ جمع کیا اورسب رنگ پاکستان کے عنوان سے ایک مشاعرے کا انعقاد کیا۔ یہ مشاعرہ اپنی نوعیت کا ایک بہترین مشاعرہ تھا۔ اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں اردو، پنجابی سندھی، بشتو، بلوچی، سرائیکی اور ہندکو زبان کے شاعروں نے اپنی اپنی زبان میں مشاعرہ پڑھا۔ شاید ایسا مشاعرہ کراچی کی تاریخ میں اس سے قبل کبھی نہ ہوا ہو گا۔
تنظیم کی جانب سے اتحاد کو قائم کرنے کی یہ ایک عظیم کوشش تھی۔ ادبی محافل میں اس دور میں کم ہی لوگ جایا کرتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس سوشل میڈیا جیسی سہولیات موجود ہیں لیکن حیرت کی بات یہ تھی اس مشاعرے میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر فرد کو اپنی مادری زبان سے فطری طور پر محبت ہوتی ہے لہذا ہر قوم کا فرد اپنی زبان سے عقیدت کے باعث اس مشاعرے میں شریک تھا۔ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی اپنی ثقافت کے اعتبار سے لباس بھی پہن کر آئے تھے ان لوگوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ یہ افراد کس قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ کہیں سندھی ٹوپی نظر آئی تو کہیں خیبر کی پگڑی۔ مشاعرے میں سیاسی و سماجی شخصیت کے ساتھ طلبہ کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مشاعرے کے شرکا کو دوسری زبان کا شعر سمجھ تو نہ آتا لیکن پاکستان کا رنگ بکھیرنے والا ہر شاعر حاضرین سے داد سمیٹ کر ہی گیا۔
سب رنگ پاکستان مشاعرے میں امتیاز دانش، شفقت بھٹی، جنید ممتاز، ریحان عباسی، رخشندہ بھٹی اور حمزہ حامی نے اردو میں اپنا کلام پیش کیا جبکہ تاج بہادر، ہارون احساس، حیران مندوخیل نے وادیء خیبر کی ترجمانی کی۔ ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بھٹی نے پنجابی میں اپنے کمالات دکھائے جبکہ شبیر لاکھو اور غلام مرتضیٰ نے سرائیکی زبان میں شاعری پیش کی۔ سندھی زبان کے نامور شاعر اصغر باغی نے بھی سب رنگ پاکستان مشاعرے میں شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر پشتو کے نامور شاعر سرور شمال اور استاد صابر احمد صابر نے جب اپنا خوبصورت کلام ترنم کے ساتھ پیش کیا تو حاضرین محفل جھوم اٹھے۔
مشاعرے کے بعد جب اس تنظیم کے عہدیداران سے ملاقات ہوئی توان کا کہنا تھا کہ ہمارمقصد پاکستانیت کو فروغ دینا ہے اور ہم آئندہ بھی ایسے پروگرامز ترتیب دیں گے۔ انہوں نے شکوہ بھی کیا کہ حکومتی سطح پر اس طرح کے پروگراموں کو ترتیب دینے کے لئے کسی طرح کی سرپرستی نہیں کی جاتی بلکی حکومتی افراد تو دعوت کے باوجود ان پروگراموں میں شرکت بھی کم ہی کرتے ہیں۔ یہ بات واقعی حیران کن تھی کہ حکومت ایسے پروگرامز کی سرپرستی کیوں نہیں کرتی جن سے ادب کو فروغ ملے اور جن سے ملک میں اتحاد کی فضا قائم ہو خیر یہ حکومتی پالیسی ہے۔ مشاعرے کے آخر میں جب شعرا حضرات کے ساتھ بیٹھک ہوئی تو کچھ ایسے انکشافات ہوئے جن سے سر شرم سے جھک گیا۔
مشاعرے میں شامل مختلف زبانوں کے شاعر کچھ تو ایسے تھے جو ابھی اس میدان میں اترے تھے جبکہ کچھ ایسے تھے جو اپنے کلام کی کتابیں ترتیب دے چکے تھے، ان کی کتابیں مارکیٹ میں دستیاب تھیں۔ ان ادبی شخصیات نے دو چار نہیں بلکہ سیکڑوں کلام لکھے تھے۔ ملک کے یہ ادبی لوگ جنہوں نے اپنی زبان اور اپنے ملک سے محبت کی اور ایسی کی کہ الفاظ آنسو بن کر چھلک جائیں، ملک سے محبت کرنے والے یہ لوگ جو ملک کا سرمایہ ہیں یہ بھی حکومتی سرپرستی سے محروم ہیں۔ یہ نامور شاعر بسوں میں دھکے کھاتے مشاعروں میں پہنچتے ہیں، یہ نگینے اپنے گزر بسر کے لئے فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں لیکن پھر بھی وطن اور زبان کے محب ہیں ان لوگوں کے معمولات زندگی بڑٖی بڑی باتیں کرنے والے ڈبل کیبن میں گھومنے والے حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔


