عمران خان کیوں نیلسن منڈیلا نہیں بن سکے؟


ہمارے سیاستدان حکومت میں آ کے بغیر کسی سیاسی تربیت اور قربانی کے اپنے آپ کو منڈیلا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کے وعدے اور دعوے زمین پر بسنے والی مخلوق کی سمجھ سے بالا ہوتے ہیں۔ عمران خان نے اسی قسم کا دعوی اسد عمر کے لئے کیا تھا۔ پاکستان جیسے ممالک جہاں معاشی مسائل کو تمام مسائل کی ماں کہا جاتا ہے، وہاں معاشی ٹیم کوریڑھ کی ہڈی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لئے وزیر خزانہ جیسے حساس عہدے کی ذمہ داری دینا باقی تما م وزارتوں سے مشکل ہوتی ہے۔

تحریک انصاف اس معاملے میں خوش قسمت تھی کیونکہ الیکشن سے پہلے بلکہ اسد عمر کے پارٹی میں آنے سے پہلے ہی انہیں وزیر خزانہ کا عہدہ دیاجا چکا تھا۔ اپوزیشن کے دور میں پی ٹی آئی نے اسد عمر کو بطورِ شیڈو وزیرِ خزانہ کا درجہ دیا ہوا تھا۔ 2013 کے انتخابات میں جب ن لیگ الیکشن جیتی تو عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا، شکر ہے ہم الیکشن نہیں جیتے کیونکہ ہماری اس بار حکومت سنبھالنے کی تیاری نہیں تھی۔ 2018 کے انتخاب میں پی ٹی آئی نے احتساب کا نعرہ لگا کر عوام کی سونامی سے حکومت تو بنا لی، مگر پرامید عوام کے معاشی مسائل کی سونامی کو روکنے میں بری طرح ناکام ہو گئی۔ ملک میں معاشی حالات کی ابتری سے لگتا ہے اس بار بھی عمران خان نے حکومت چلانے کی تیاری نہیں کی تھی۔

تحریک انصاف کی خوش قسمتی کہیں کہ اس وقت ملک میں صرف جمہوری و عسکری قیادت ہی ایک پیج پر نظر آ رہی ہے باقی ملکی معاملات چلانے کی کتاب کے تمام ”پیج“ حکومت کی نا اہلی اور نالائقی کی آندھی میں بکھرچکے ہیں۔ خودعمران خان کا 8 ماہ میں ہی اپنی بہترین ٹیم سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ بے لگام مہنگائی کے ساتھ شہر اقتدارمیں عمران خان کے سب سے قابل اعتماد ساتھی وزیر خزانہ اسد عمر کے ساتھ چند اہم وزراء کی تبدیلی کی خبریں گردش کرنے لگیں۔

تبدیلی سرکار کابینہ میں تبدیلی کے سوال پر صحافیوں پر زرد صحافت اور حکومتی ارکان میں پھوٹ ڈالنے کے الزامات اورجھوٹی خبریں پھیلانے پر پیمرا کی طرف سے نوٹس بھی بھجوا چکی تھی مگر اس کے صرف دو دن بعد اسد عمر سمیت کابینہ کے اہم وزراء کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خود تبدیلی سرکار بھی اپنی کابینہ میں تبدیلی سے بے خبر تھی۔ کیا وزیراعظم عمران خان کو وزراء کی محکمانہ تبدیلیوں کے حوالہ سے بے خبر رکھا گیا؟ یہ ایک الگ بحث ہے۔

گورنر پنجاب چوہدری سرور اور چوہدری پرویز الہی مل کر عوام کو جتنا مرضی اعتماد میں لیں اور بتاتے پھریں کہ پنجاب کابینہ میں کوئی ردوبدل نہیں ہونے ولا، مگر وفاقی کابینہ میں رد و بدل کے بعد ایک بار پھر وزیر اعلیٰ پنجاب کی تبدیلی کی خبریں گرم ہو چکی ہیں۔ آج کل وزیر اعظم عمران خان عثمان بزدارکا دفاع کرتے اسی طرح نظر آتے ہیں جیسے وہ پچھلے سات سال سے اسد عمر کو اپنا سب سے قابل اعتماد کھلاڑی کہتے چلے آ رہے تھے۔ وزیر اعظم خیبر پختون خوا ہ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ کے نام لے کرانہیں وارننگ دے چکے ہیں۔ اورکزئی کے جلسہ میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم میں جو وزیر کارکردگی نہیں دکھائے گا وہ حکومت کا حصہ نہیں رہے گا۔

اسد عمر کو کیوں نکالا کے جواب پر کہا جا رہا ہے کہ ان کے دور میں مہنگائی اپنے عروج پر پہنچی اور ڈالر کی قیمت بھی اس وقت پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے رواں مالی سال کے 8 ماہ کے دوران 2 ارب 75 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی قرضے لئے۔ مالی سال کے 8 ماہ کے قرض میں سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر اور یواے ای کے ایک ارب ڈالرابھی شامل نہیں۔ روز مرہ ضرورت کی اشیا کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے سالانہ مہنگائی کی شرح 5.8 فیصدسے بڑھ کر 9.4 فیصد ہو گئی۔ اس کے باوجود اسد عمر اسمبلی میں آ کر اپنی صفائی بچگانہ انداز میں دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مجھے نا اہلی کی وجہ سے تبدیل نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی نے بھی تو چار وزیر خزانہ تبدیل کیے تھے۔

اگر اسد عمر کی بات مان لی جائے تو پھر کہنا پڑتا ہے کہ ”یہ معاملہ کوئی اور ہے“۔ حکومت کی طرف سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ دواسازکمپنیوں اور بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ سے بھی ادویات خاص طور پر جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 35 سے 200 فیصد تک کے اضافے سے تقریبا ً 50 ارب روپے کا بوجھ عوام پر ڈال دیاگیا جس کی وجہ سے وزیر صحت عامر کیانی کو فارغ کیا گیا۔ بجلی 25، گیس 141 فیصد اور پٹرولیم کی قیمت میں بار بار اضافہ وزیر پیٹرولیم غلام سرور کے عہدے سے ہٹانے کی وجہ بنا، لیکن افسوس کہ دونوں وزراء کو سزا کے طور پر ان کی وزارتوں سے تو ہٹا دیا گیا لیکن گیس کے بل اور ادویات کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کی سزاعوام ابھی تک بھگت رہے ہیں۔

اس لئے کہا یہ جا رہا ہے کہ وفاقی کابینہ میں ردوبد ل کا تعلق محض وزراء کی ناقص کارکردگی سے نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم تبدیلی اسد عمر کی بجائے عبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ لگانا تھی۔ اسد عمر نے جاتے جاتے کہا تھا کہ ”آنے والا بجٹ ہمارا نہیں بلکہ آئی ایم ایف کا ہو گا“۔ اسی لئے کہا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو عہدہ دینے کی شرط منوا لی۔

اسی طرح فواد چوہدری کی جگہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو اطلاعات و نشریات، اعظم سواتی کی کابینہ میں واپسی، وزارت داخلہ کا قلمدان شہریار آفریدی کی جگہ مشرف دور کے بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ کو سونپنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ آنے والے دنوں میں کچھ اور وزراء کی تبدیلی کے امکانات ہیں اور آئندہ چند روز میں مونس الہیٰ سمیت کچھ نئے چہرے بھی کابینہ کا حصہ بن سکتے ہیں۔

کابینہ میں عبدالحفیظ شیخ کی شمولیت عمران خان کے اس بیانئے کی نفی ہے جو انہوں نے سابقہ حکمرانوں کے لیے اپنایا تھا۔ کیونکہ عمران خان کا موقف شروع سے ہی یہ رہا ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ نے قومی خزانے اور عوام کو لوٹا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی کے دور میں زرداری صاحب بغیر وزیر خزانہ کو ملائے لوٹ مار کرسکتے تھے؟ زرداری نے بے دردی سے پاکستان کا خزانہ لوٹا تو کیا وہ اپنے مشیر خزانہ کے بغیر خزانہ لوٹ سکتے تھے۔

زرداری دور کی لوٹ گھسوٹ کے باوجود اگر ان کے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی انفرادی کارکردگی بہتر ہوتی تو سمجھ میں آتا کہ عمران خان ان کی کارکردگی سے متاثر ہو کر انہیں پاکستان کے خزانے کی چابیاں تھمادیں مگر، عبدالحفیظ شیخ 2010 ء سے 2013 ء میں پیپلز پارٹی کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اپنے تمام تر تجربے اور صلاحیت کے باوجود پاکستان کو مالیاتی امور میں استحکام فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے دورِ وزارت کو ملکی تاریخ کا مایوس کن دور قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان کا پیش کیا بجٹ دیکھ کر ماہرین حیران رہ گئے تھے، مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر رہی، اس کے علاوہ بجٹ خسارے میں اضافہ اور مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں تیزی سے کمی ہوئی۔

عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ ان کا ”ہنی مون“ پیریڈ ختم ہو چکا ہے۔ کپتان کی کابینہ اس کی ٹیم ہے۔ سات سال اسد عمر کو اپنی ٹیم کا مرکزی کھلاڑی کہہ کہہ کر آج جب ان کے پہلے بجٹ کو پیش کرنے میں صرف ایک مہینہ رہ گیا تھا تو انہیں پہلا بجٹ پیش کرنے دیتے۔ عمران خان کا اسد عمر پر مکمل اعتماد اور فواد چوہدری کا پریس کانفرنس میں ان کو ڈیفنڈ کرنا، پھر اچانک ان کی تبدیلی، تبدیلی نہیں بلکہ آپ کے بہترین کھلاڑی کی بے توقیری ہے۔

کابینہ میں بے وقت کی تبدیلی معاشی مشکلات کو کم کرنے کے بجائے ان میں مزید اضافے کا سبب بنے گی، جس کا ہمارا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ جن سے آپ قرضہ لے رہے ہیں وہ آپ کے اپنے نہیں ہیں۔ انہیں تو اپنا پیسہ سود سمیت واپس چاہیے۔ چاہے اس کے لئے انہیں حفیظ شیخ جیسا اپنا آدمی ہمارے خزانے پر کیوں نہ بٹھانا پڑے۔ جو کہ آپ نے بیٹھا دیا۔ یہ آپ کے اپنے نہیں آپ کے اپنے وہ ہیں جنہیں آپ وزیر اعظم بننے کے باوجود اپوزیشن کے لہجے میں دن رات بے عزت کرتے رہتے ہیں۔

آپ وزیر اعظم پاکستان ہیں۔ آپ اپوزیشن کی سیاست ختم کرنے کے بجائے ان کی سیاسی غلطیوں کو سدھارنا چاہیے، تاکہ وہ آپ کے ساتھ مل کے پاکستان کی ترقی میں آپ کے ہاتھ بنیں۔ آپ کو اپنی اصل مشکلات اور مسائل کے حل کا تعین جلد کرنا ہوگا تاکہ ایک مکمل ٹیم کے ساتھ اس ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا سکیں۔ آپ اپنی اور اپوزیشن کی سیاسی ٹیم کو عزت دینا سیکھیں۔ آپ خود دیکھیں، نواز شریف کی طرح آج آپ کی ٹیم کے بہترین کھلاڑی آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔ منڈیلا صرف جیل میں جانے سے ہی لیڈرنہیں بنتا بلکہ اپنے ادر گرد کے نادان سیاستدانوں کی نادانیاں معاف کر کے ان کا اعتماد جیت کر بھی منڈیلا بنا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS