سیاسی پارٹی چلانا، اپوزیشن کرنا اور حکومت کرنا سیاست میں تینوں کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے۔ پارٹی بناتے وقت عوام کے سامنے بھرپور انداز سے اپنا منشور رکھا جاتا ہے۔ اپوزیشن میں حکمران پارٹی کودبنگ انداز سے تنقید کا نشانہ بنانا پڑتا ہے اور حکومت میں آ کر جارہانہ طریقے سے اپنی انا اور ٹکراؤ کی بجائے مفاہمتی طرز سیاست سے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ مگر افسوس تحریک انصاف نے حکومت میں آ کر بھی سیاست نہ سیکھی۔
وزیر اعظم عمران خان ابھی اس حقیقت سے انجان ہیں کہ ان کے علاوہ دوسرے سیاسی رہنماؤں سے پاکستان کی عوام پیار کرتی ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو صرف 32 فیصد ووٹ اور ان کے مخالفین کو 67 فیصد ووٹ ملے تھے۔ عمران خان یہ سمجھنے کے لئے بالکل تیار نہیں کہ ملک چلانے کی ذمہ داری حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی بھی ہوتی ہے۔ قومی ایشوز پر قانون سازی ہو یا نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا معاملہ یافوجی عدالتوں کی توسیع، اپوزیشن اور ناراض اتحادی جماعتوں کے بغیر اکیلے عمران خان حکومتی معاملات کو حل نہیں کر سکتے۔
Read more