فقیر ایپی سپاہی اور وزیرستان کی نگہبانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرانشاہ اور میر علی سے سپین وام جاتے ہوئے راستے کے دونون طرف پہاڑوں کے سلسلے اپنے مسافر مہمانوں کی آؤبھگت کے لئے ہمیشہ با ادب کھڑے ہی رہتے ہیں۔ ان پہاڑوں کو کبھی کسی نے سویا ہوا نہیں پایا۔

پہاڑوں کے درمیان بہتے ندی نالوں کے کنارے آباد کھجوروں کے باغات ہی سبب بنے ہوں گے جس کی وجھہ سے اک چھوٹے سے قصبے کا نام ہی ”کھجوری“ پڑگیا ہوگا۔ کجھوری کے مکھیہ دروازے ”باب السلام“ کو کراس کرتے جب پہاڑوں کی چوٹیوں پر بنے مجسمہ نما پتھروں کو دیکھا تو گوادر کے قریب بلوچستان کی ”امید کی دیوی“ (Princess of Hope) کا مجسمہ یاد آیا۔

گاڑی کے ڈرائیور گل نصیر نے بتایا کہ وہ سامنے تین مجسمے فقیر ایپی کے سپاہی ہیں، جو وزیرستان کی نگہبانی کے لئے چاک و چوبند کھڑے ہیں۔ فقیر ایپی کے بھادر سپاہیوں کے مجسمے کے طور پر مشہور یہ پتھر شاید راستے سے اینگل ٹھیک نہ ہونے کے تھوڑے عجیب لگ رہے تھے، مگر لوگوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت یہ پتھر ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے تین سپاہی پہرا دے رہے ہیں۔ ان میں پہلا سپاھی کھڑا ہوکر ہتھیار تانے ہوئے ہے، جبکہ دوسرا سپاہی ساتھ ہی گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بندوق سنبھالے ہوئے ہے اور آخری سپاہی آلتی پالتی مار کر باقی بندوقوں میں گولیاں بھرتا جا رہا ہے۔ وزیرستان سے بنوں کی طرف جاتے یا واپسی پر ہر گزرنے والی گاڑی کے تمام مسافر فقیر ایپی کے ان سپاہیوں کی سلامی ضرور دیتا ہے۔

فقیر ایپی ہندوستان پر انگریز راج کے دور میں شمالی وزیرستان کی حفاظت کرنے والا بہادر بیٹا تھا۔ ان کا اصلی نام ”حاجی میر زلی خان مدی طوری خیل وزیر“ تھا اور افغان سرحد کے قریبی گاؤں ”گرویل“ میں 1897 میں پیدا ہوئے جبکہ انہوں نے پوری تعلیم میر علی کے قریب ایپی نامی گاؤں کے مدرسے سے تعلیم حاصل کی، اس وجھ سے باقی عمر ”فقیر ایپی“ کہلائے۔

فقیر ایپی اک عام شہری تھے، مگر اپنے علم اور کردار کی وجہ سے پورے علاقے میں بہت مقبول تھے۔ اپنی دھرتی سے محبت اور سچائی کا ساتھ دینا فقیر ایپی کا اصول تھا۔ اس لئے علاقے میں جو تنازعات اکثر خان اور ملک لوگوں سے بھی حل نہیں ہوتے تھے ان کا حل ”فقیر ایپی“ نکال لیتا تھا۔

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ فقیر ایپی کی ابتدائی شہرت کی وجھ اصل میں ایک ہندو عورت اور مسلمان نوجوان کے عشق اور پھر شادی پر جھگڑا اور جرگہ ہے۔ مسلمانون کا کہنا تھا کہ ”رام کوری“ نام کی اک ہندو نوجوان لڑکی اور اک سید زادہ امیر نور علی میں عشق چل رہا تھا، اور وہ لڑکی محبت میں دھرم چھوڑ کر مسلمان ہوگئی اور نیا نام رکھا ”اسلام بیبی“ اور امیر نور علی سے شادی کرلی۔

جبکہ لڑکی کی ماں نے اس وقت انگریز عدالت میں دعوی داخل کیا کہ ”رام کوری“ ابھی شادی کی عمر کو بھی نہیں پہنچی اور اس کی معصوم بیٹی کو اغوا کیا گیا ہے۔ عدالت نے ضروری کارروائی کے بعد لڑکے امیر نور علی کو مجرم گردانتے ہوئے دو سال قید کی سزا سنائی اور لڑکی کو اس کی ماں کے حوالے کر دیا۔

اس بات پر پورے وزیرستان میں احتجاج شروع ہوگیا اور 14 اپریل 1936 کو میر علی میں پہلی بار ”فقیر ایپی“ نے جرگہ بلایا اور لڑکی کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے انگریز کے خلاف بغاوت اور جہاد کا اعلان کیا۔

فقیر ایپی کی بغاوت گوریلا تحریک کو اک دوسرے واقعہ کے ساتھ بھی منسلک کیا جاتا ہے کہ جب وہ پہاڑوں سے اتر کر شہر میں آیا تو وہاں اک مسجد کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھا، معلوم کرنے پر اسے پتا چلا کہ وہاں پر کچھ غیرمسلموں نے مسجد پر لکھی آیتوں یا پاک حروف پر گندگی مل دی ہے، اور کمزور مسلمان سوائے احتجاج کے کچھ نہیں کرسکتے۔ اس پر فقیر ایپی نے واپس پہاڑوں پر جاکر اپنے خاندان کے لوگوں کو لے کر آیا اور پہلے ہندو اور بعد میں انگریز کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں، اور جنگ کو غلامی سے آزادی کی جنگ میں بدل دیا۔

وزیرستان میں ”فقیر ایپی“ کو عوامی سطح پر وہ ہی حیثیت دی جاتی ہے جو سندھ میں پیر صبغت اللہ راشدی المعروف پیر پگاڑا اور پنجاب میں رائے احمد خان کھرل کی ہے جنہوں نے انگریز دور اپنے دیس اور قوم کے لئے سینہ تاں کر دشمن کا مقابلا کیا، اقتدار یا پیسوں کے لئے دھرتی ماں اور قوم کے مستقبل کا سودا نہیں کیا۔

انگریز جب ہندوستان میں اس طرف پورے پنجاب اور (سابق) سرحد صوبے پر قبضہ جمانے کے بعد وزیرستان کو کراس کرتے ہوئے افغانستان تک جانا چاہتا تھا تو ان کی راہ میں سب سے بڑی دیوار فقیر ایپی پڑتا تھا، جس نے انگریز کا یہ خواب بھیانک بنا دیا تھا۔

علاقے کے ہزاروں نوجوان ”فقیر ایپی“ کی اس فوج کا حصہ تھے جو اپنے دھرتی اور اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتے تھے۔ ان نوجوانوں میں کئی بڑے خاندانوں کے جوان بھی شامل تھے۔ ہزاروں سپاہیوں میں جو فقیر ایپی کے خاص جرنیل کہلائے ان میں گل نواز خان سولانی جو بعد میں خلیفہ گل نواز کہلائے، خلیفہ گل نواز خان سابقہ وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کے دادا تھے، جبکہ دوسروں میں ایوب نواز اور رب نواز برادران، مہر دل خٹک، آمیں خان شہید، حضرت استاد جی شہید سولانی اور دیگر شامل تھے۔

فقیر ایپی کے سپاہیوں نے انگریز سرکار کے خلاف گوریلا کارروائیاں شروع کردیں تو انگریز کو اس علاقے میں آنا مشکل ہوگیا۔ جن علاقوں میں فقیر ایپی کے لوگ پوری طاقت کے ساتھ موجود تھے ان میں جنوبی وزیرستان، ضلع بنوں، لکی مروت، کرک، کوہاٹ، کرم ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، خیبر ایجنسی، باجوڑ ایجنسی، ڈیرہ اسماعیل خان اور اس کے قریبی علاقے شامل تھے۔

1936 میں جب انگریز نے وزیرستان میں باغی قبائل کے خلاف آپریشن شروع کیا تو ان کا سب سے بڑا مقابلہ فقیر ایپی سے ہوا۔ کہتے ہیں فقیر ایپی کو اس وقت افغانستان اور جرمنی کی مکمل مدد اور ہتھیار حاصل تھے۔ کیونکہ اس وقت دوسری جنگ عظیم اپنے زوروں پر تھی اور جرمنی برطانوی فوج کو شمالی وزیرستان میں مصروف رکھنا چاہتا تھا۔

انگریز کا یہ آپریشن ناکام ہوا اور اسے اپنے آٹھ انگریز افسرون سمیت 53 سپاھی مروانے پڑے۔ باقی جن سپاھیون کو ایپی کے سپاہیوں نے گرفتار کرلیا ان سب کے سر قلم کر دیے اور صرف ایک سپاھی کو گدھے پر بٹھا کر زندہ واپس کیا کہ ”جا کر انگریز کو بتاؤ کہ اس دھرتی کا بیٹا فقیر ایپی ابھی زندہ ہے“۔

فقیر ایپی کی سپاھی ہر وقت پہاڑوں کی چوٹیوں پر تاک لگائے دشمن کی ناک میں دم کیے ہوتے تھے۔ انگریزی لشکر پہاڑوں کی چوٹیون پر موجود ان پتھر کے مجسموں کو ”فقیر ایپی“ کے جاسوس یا سپاہی سمجھتے تھے اور واپس چلے جاتے یا راستہ تبدیل کرلیتے تھے۔ فقیر ایپی کے یہ بھادر سپاہی اس وقت بھی جیسے اپنی سرزمین کی حفاظت پر مامور ہیں۔

اس کے بعد ”فقیر ایپی“ نے اپنے علاقے کو فرنگی راج سے علیحدہ مانتے ہوئے اسے ”پختونستان“ کا نام دے کر ایک حکومت کا اعلان کیا اور خود ہی حکمران ہونے کا دعوی بھی کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد فقیر ایپی نے پہلے خاموشی سے صورتحال کا جائزہ لیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کے انتقال کے بعد ملک میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں کو دیکھ کر فقیر ایپی نے پاکستان سرکار کو بھی ماننے سے انکار کردیا، اور آزاد ریاست ”پختونستان“ کے اعلان پر قائم رہتے وزیرستان میں ہر سرکاری رٹ کو چیلنج کرتا رہا۔

مگر فقیر صاحب اس وقت تک کافی ضعیف ہوگئے تھے اور اس کے پاس وہ طاقت بھی نہیں رہی تھی، پاکستان سرکار نے فقیر ایپی کو اک دو بار گرفتار کرنے کی کوشش تو کی مگر وزیرستان میں کوئی آپریشن کرنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ فقیر ایپی 1960 میں انتقال کر گیا مگر انہوں نے ”آزاد پختونستان“ اعلان آخر تک واپس نہیں لیا، اور ہر دور میں باغی رہا۔

دوسری طرف بہت سے پشتون دانشور اور اہل علم لوگ فقیر ایپی کو ہیرو ماننے کے بجائے زیرو سمجھتے ہیں، مشہور قلمکار ڈاکٹر گل مرجاں نے اپنے مضمون ”جاہل فقیر ایپی۔ حاجی میرزا علی خان“ میں لکھتے ہیں کہ ”نام نہاد فقیر ایپی وہ مُلا ہے جس نے ایک کم عمر ہندو لڑکی کے اغوا کار لوفر میر ولی شاہ بنوچی کو ہیرو پیش کر کے وزیری پشتون ولی کی بے عزتی اور استحصال کیا۔ پشتون ولی کے دشمن فقیر ایپی کو ہیرو پیش کرنا جہالت ہے۔ “

ڈاکٹر گل مرجان جیسے کئی دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ پشتونوں میں باچا خان اور عبدالصمد خان اچکزئی سمیت ایسے بہت سارے ہیروز ہیں جو پشتونوں کو اعلی کردار اور پیار کرنے والے لوگوں کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود بھی پاکستان میں پٹھانوں کو کند ذہن، بیوقوف اور ناشائستہ کے طور پر پیش کر کے اک قوم پر ظلم کیا جاتا ہے۔ مختلف آراء کے باوجود فقیر ایپی اس وقت بھی ہزاروں لوگوں کی دلوں میں زندہ ہیں اور ان کے تین بہادر سپاہی  وزیرستان کی نگہبانی کرنے سے نہیں ہٹے۔

ہمارے ساتھ وزیرستان جاتے ہوئے سپین وام کے نوجوان حفظ اللہ خان کی آنکھیں اس وقت بھی چمک رہی تھیں جب وہ کہہ رہا تھا کہ ”اب ہم اس باتوں کو نہیں مانتا کہ مجسمہ نظر آنے والا پتھر کا ٹیلہ کوئی ہمارا حفاظت کرے گا، پھر بھی جب بھی ہم اس کو دیکھتا ہے، بہت خوشی محسوس کرتا اے۔ “
ہماری دعا ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان ہمیشہ کے لئے پر امن رہیں۔ یہاں پر سکون اور امن والی زندگی پورے پاکستان کے لئے امن اور آشتی کا سبب ہوگی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •