بلاول صاحبہ کی عمرانیات


 استاد غالب کو تو ”تُو کیا ہے“ کے لہجے  پر بھی کافی تحفظات تھے۔ یہاں تو یہ بات اس سے بھی آگے جا چکی ہے۔ آئینِ پاکستان کے مطابق وزیراعظم کا عہدہ ملک کا ایک باوقار اور سینیئر ترین عہدہ ہوتا ہے جو کہ حکمت، دانائی، تدبر اور اعلیٰ اخلاقیات کا متقاضی ہے۔ یہ وہ عہدہ ہے جس کے ذریعے دنیا کے ساتھ ہمارا تعارف ہوتا ہے۔ کیونکہ اس عہدے پر کی گئی ہر بات آگے جا کے کہیں نہ کہیں اثر کرتی ہے۔

عمران خان نے 24 اپریل 2019 بدھ کے دن وانا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کو بلاول صاحبہ کے نام سے پکارا جو کہ سراسر ان کے عہدہ جلیلہ کے شایان شان نہیں۔ تحریک انصاف کی اب تک کی کارگردگی سے یہ لگتا ہے کہ بطور جماعت حکومتی معاملات کو چلانے کے لئے کوئی ہوم ورک سرے سے نہیں کیا گیا اور وزیراعظم بھی اکثر اوقات قومی معاملات اور اپنے عہدے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ وزیراعظم کا عہدہ ایسا عہدہ ہے جس کے کہے ہوئے ہر ایک لفظ کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور قومی سیاست اور معاشرے پر اس کا اثر لازمی ہوتا ہے۔ اپوزیشن کا کام ہی وزیراعظم کی چھوٹی سی غلطی کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنا ہوتا ہے۔

بلاول بھٹو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہ بیان دیا کہ عمران خان نے صاحبہ کا لفظ استعمال کر کے قوم کو پیغام دیا کہ عورت ہونا ایک ذلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ایسا لفظ استعمال کر کے خود اپنے اور اپنے عہدے کی بے عزتی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرد کو ایسے لہجے میں عورت کہنا مرد کے لئے تو شاید اتنا نقصان دہ نہ ہو لیکن عمران خان مجھے یہ بتائیں کہ وہ ایسا لفظ استعمال کر کے پاکستان کی عورتوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ کیونکہ ایسے بیان کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ عورت ہونا ایک بے عزتی کی بات ہے۔ یہ پاکستان ہے یہاں عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا ہے۔ اگر فاطمہ جناح نہ ہوتیں تو پاکستان کیسے بنتا َ؟ اگر فاطمہ جناح نہ ہوتیں تو صدر ایوب کی مخالفت کون کرتا؟ پاکستان پہلا مسلم ملک ہے جس نے ایک عورت کو بطور وزیراعظم پاکستان منتخب کیا۔ ہمیں اپنے ملک کی عورتوں پر فخر ہے۔ عمران خان ایسا لب و لہجہ استعمال کر کے خود اپنی تضحیک کر رہے ہیں۔ وہ اس ملک کے وزیراعظم ہیں اور ان کو اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے۔ بلاول بھٹو کو جب یہ کہا گیا کہ وزیراعظم کے مطابق ان کی زبان کے سلپ ہونے کی وجہ سے صاحبہ کا لفظ ادا ہوا تو بلاول بھٹو نے جواب دیا کہ ہمارے اس وزیراعظم کی زبان مسلسل بجلی کی رفتار سے سلپ ہو رہی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کی وومن ممبرپارلیمنٹ نے جمعرات 25 اپریل 2019 کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی بلاول بھٹو کو صاحبہ کہنے والی بات پر شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا۔ نفیسہ شاہ ایم این اے پی پی پی نے کہا کہ ایسے الفاظ کہنا وزیراعظم کے عہدے کی بے عزتی ہے۔ اگر وہ اپنے الفاظ واپس نہیں لیتے تو وہ میرے وزیراعظم نہیں۔

سیاست کا شعبہ بھی اخلاقیات کا متقاضی ہے بلکہ سب سے زیادہ اخلاقیات کا برتاؤ سیاست میں ہونا چاہیے۔ سیاست برداشت پیدا کرتی ہے، ایک دباؤ والے ماحول میں کام کرنا سکھاتی ہے لیکن وزیراعظم ان خصوصیات سے عاری دکھائی دیتے ہیں۔ تحریک انصاف کو عورتوں نے کثیر تعداد میں پورے ملک سے ووٹ دیا تھا۔ یہ ووٹ اس دن کے لئے نہیں دیا گیا تھا کہ ملک کے سب سے بڑے عہدے پر پہنچ کر ان خواتین ووٹر کی بھی تضحیک کی جائے جن کے ووٹ کی پرچی کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ وزیراعظم پاکستان کے نزدیک عورت ہونا باعث شرم ہے۔

پاکستان کی آدھے سے زیادہ آبادی عورتوں پر مشتمل ہے اور پاکستانی سیاسیات میں عورتوں کے کردار کو نظرانداز کر کے اب سیاست کا عمل ممکن ہی نہیں رہا۔ ہمیں عورتوں کو ان کا مقام دینا ہوگا، ان کو احترام دینا ہوگاتاکہ وہ ملکی سیاست، معیشیت اور تعلیم میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے پاکستان کی ترقی کے لئے عملی کوششوں میں شامل ہوں۔ وزیراعظم پاکستان کے اس طرح کے بیانات پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی میں صرف اور صرف مایوسی پھیلائیں گے۔ اس طرح کے عمل سے پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی کا راستہ روکا جا رہا ہے اور انہیں یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ اس معاشرے میں ان کے لئے کوئی احترام نہیں۔ وزیراعظم کے عہدے پر رہتے ہوئے عمران خان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ملک کی ترقی میں ہر فرد کا کردار لازم ہوتا ہے۔ ہر فرد کو جب آئینی احترام ملے گا تو ہی ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا۔

وزیراعظم پاکستان کے تخیل میں عورت کا جو مقام ہے وہ تو ان کے بیان سے ہی واضح ہو چکا ہے۔ پھر بھی وزیراعظم ہونے کے ناطے ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ عورتوں کی تعلیم، روزگار، قانونی امداد اور معاشرے میں ان کا جائز آئینی مقام دلانے کے لئے حتی الوسع کوشش کریں۔ یہ بات تحریک انصاف کے بنیادی منشور میں شامل ہے اور اس تبدیلی کے لئے ہی سارے ملک سے تحریک انصاف کو ووٹ پڑا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایسا معاشرہ ہے جہاں پر پہلے ہی سے خواتین ظلم و جبر اور تعصب کا شکار ہیں۔ وزیراعظم ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے ان کے لئے مرہم کا بندوبست کریں۔ وزیراعظم اپنے دھرنے میں موجود عورتوں کے خلوص، ان کے دن رات کی محنت، تحریک انصاف کے حق میں نعرے بازی اور ان کے جذبے کو تو نہیں بھولے ہوں گے ۔ اب جب کہ عمران خان اقتداراعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہیں تو پاکستان کی آدھی آبادی جس کو ہمارے معاشرے نے گونگا بنا دیا ہے، اپنا حق مانگ رہی ہے۔ وزیراعظم اس کے لئے عملی کام کریں۔ اس سے خود وزیراعظم اور ان کی جماعت کا فائدہ ہوگا۔

Facebook Comments HS