حکومتی کارکردگی۔ اپوزیشن پر تبرا !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کار سیاست کو اگر معاشرے کی آشیاں بندی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ چونکہ معاشرے اور سماج کی اکائی انسان ہے اور انسان رنگ، نسل، زبان، علم اور اپچ کے اعتبار سے متنوع ہوتے ہیں۔ اس لیے اہل سیاست بھی سماج کو انہی انسانی تحدیدات کی روشنی میں دیکھتے ہیں اور دل و دماغ کو وسعت دیتے ہوئے عامتہ الناس کی فلاح و بہ بود کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

کار سیاست اور اہل سیاست نے بھی بتدریج ویسے ہی ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ جیسے انسان اور سماج نے وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب و شایستگی سیکھی ہے۔ ازمنہ قدیمہ میں مسند اقتدار شاہی خاندان کی جاگیر مانی جاتی تھی اور ولی عہد کی اہلیت پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی تھی۔ اہل سیاست ہمیشہ سے وسیع القلب اور معاشرے کو جیسے ہے جہاں ہے کی صورت قبول کر کے اس میں بہتری لانے کی سعی کرتے ہیں۔ اہل سیاست معاشرے کو اچھے برے نیک بد امیر غریب کے خانوں میں نہیں بانٹتے بلکہ قدرتی طور پر بٹے ہوئے انسانوں کو مل جل کر زندگی کرنے کا گر سکھاتے ہیں اور انسان کو سماج کی تسبیح میں پروتے ہوئے سماج کو بحیثیت مجموعی آگے لے جاتے ہیں۔

سیاست اور اہل سیاست کی اسی وسعت قلبی اور وسیع المشربی کے پیش نظر یہ مانا جا تا ہے کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔ اور شدید ترین مخالفین کے لیے بھی دل ودماغ اور گفتگو کے در ہمیشہ وا رکھے جاتے ہیں۔ مملکت خدا داد میں بھی سیاست کا یہی چلن تھا۔ جب تک کہ ہماری ممدوح پی ٹی آئی نے خار زار سیاست میں قدم نہیں رکھا تھا۔ مخالفین پر وقت بے وقت طعن، تشنیع، اور کرپشن کی الف لیلوی داستانوں کی بنا پر تمام مخالفین کو چور ڈاکو قرار دینا ہو یا جلسہ عام میں اوئے ابے تو تکار کی بازاری زبان کا استعمال ہو۔ ہماری حکمران جماعت نے ہر شعبے میں خاص درک پایا ہے۔ قبل از الیکشن یا دوران انتخابی مہم تو ایسی زبان کے استعمال کو انتخابی حربے کے طور پر استعمال کرنے کا عذر لنگ پیش کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سریر آرائے مسند اقتدار ہونے کے بعد اپوزیشن کے خلاف اس واہی تباہی کی کیا تک ہے۔

لیکن ہماری ممدوح پی ٹی آئی حکومت سے کارکردگی کا سوال کرنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ عوامی توقعات جو بھی ہوں اور لوگوں کی نظر میں حکومت ہر میدان میں جتنی بھی نا کام ہو۔ وہ مقتدر حلقوں کی منظور نظر ہے، کیونکہ وہ اپوزیشن پر بالخصوص اور سیاست پر بالعموم تیرا کرنے کی اپنی تفویض کردہ ڈیوٹی تن دہی سے کر رہی ہے۔ اسی لیے سوال مہنگائی کا ہو یا ڈالر کی اڑان کا، ایک کروڑ نوکریوں کا پوچھیں یا پچاس لاکھ گھروں کا۔ گھڑا گھڑایا جواب یہی ہے کہ نواز شریف چور ہے زرداری ڈاکو ہے۔ فضل الرحمن کو نہیں چھوڑیں گے۔ اپوزیشن نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>