قصیدہ در مدح عمران خان معروف بہ موجد اعظم (تاریخ جدید)


تعلیم و تربیت کے نئے نئے ادارے بنائے جا رہے ہیں۔ پرانی تعلیم گاہوں اور یونیورسٹیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں ریسرچ کے لیے حکومت نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے ہیں۔ دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ کاٹ کر HEC کو دے دیا گیا ہے اور وہاں کے سخی اس فنڈ کو دن رات تعلیمی اداروں کے طلباء اور اساتذہ کی سہولتوں پر لٹا رہے ہیں۔ کچھ ناہنجار جو یہ پروپیگنڈا کرتے نظر آتے ہیں کہ تعلیمی بجٹ میں 50 فیصد تک کمی کردی گئی ہے یہ بالکل غلط ہے۔ اس بات میں بھی کوئی صداقت نہیں کہ ایچ ای سی کی طرف سے یونیورسٹیوں کے تحقیقی رسالوں کو پیسے لے کر مقالات چھاپنے کی ہدایت کی ہے اور ایسی بھی کوئی بات نہیں کہ سرکاری اداروں کے ملازمین کو تنخواہوں کے لالے پڑنے والے ہیں۔

خارجہ پالیسی میں بھی بڑی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ پہلے کی طرح اب موجودہ وزیراعظم بھارت میں ہونے والی دہشت گردی میں پاکستان کی سرزمین استعمال ہونے کی ہرگز کوئی بات نہیں کرتے بلکہ اس کے برعکس پڑوسی ملک ایران میں ہونے والی دہشت گردی میں بھی پاکستانی زمین کے ملوث ہونے کا اقرار کر کے دوست ملک کی دلجوئی فرماتے ہیں۔ اور جیسا کہ قرائن سے واضح ہے کہ پچھلے وزیراعظم کی طرح موجودہ وزیراعظم کا ایسا بیان اب ہرگز ملک دشمنی کی ذیل میں نہیں شمار کیا جاتا۔

 بھارت کے ساتھ بھی نئے وزیراعظم کا رویہ بڑا دبنگ ہے۔ پاکستان میں درانداز ہندوستانی پائلٹ کو انہوں نے جس پھرتی سے رہا کیا ہے وہ ان کی سیاسی فراست کا منہ چھپاتا ثبوت ہے۔ اس کا مودی سرکا پر اتنا زبردست اثر ہوا ہے وہ اب ہمارے وزیراعظم کی کال تک سننے سے ڈرتا ہے اور خوف کے مارے بات نہیں کرتا حالانکہ ہمارے وزیر اعظم اب اسے ”اوئے مودی“ کہہ کر مخاطب بھی نہیں کرتے۔

اور اندرون ملک کا معاملہ یہ ہے کہ سابقہ وزیر اعظم کے ہندوستان میں کاروبار ہونے اور ملک کے اندر ان کی فیکٹریوں میں ہندوستانی جاسوسوں کے کام کرنے کے خطرناک الزام، بلکہ جرم، پر ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے بجائے کہ اس پر نواز شریف کو بآسانی سزائے موت تک ہو سکتی تھی، پانامہ ہنگامہ کی آڑ میں اقامہ جیسے مسئلہ پر نا اہلی اور اب کرپشن کے چھوٹے موٹے کیسز میں اس کو ’رہائی جیسی اسیری اور اسیری جیسی رہائی‘ کے معاملات میں الجھا کر رکھتے ہوئے ”رحم دلی“ کا ثبوت دیا جا رہا ہے۔ سابق وزیراعظم چونکہ اب کوئی بڑا خطرہ نہیں رہ گیا اس لیے اس کے ساتھ سختی کرنا ویسے ضروری بھی نہیں ہے۔

اسی طرح اصغر خان کیس کا معاملہ ہے۔ پچھلے پانچ سات سال تک موجودہ وزیر اعظم نے اس پر خاصا ہنگامہ اٹھائے رکھا تھا کیونکہ اس وقت حالات کا تقاضا یہی تھا۔ مگر جب سے وہ اقتدار میں آئے ہیں، ایف آئی اے سمیت دیگر بہت سے تفتیشی ادارے ان کی ماتحتی میں ہیں مگر اب انہیں اصغر خان کیس کو انجام تک پہنچانے میں کوئی دلچسپی نہیں کہ مبادا ان پر منتقم مزاجی کا الزام لگ جائے۔ اس معاملے میں رحم دل وزیراعظم کی ہچکچاہٹ کو بعضے بدباطن ان کے آقایان ولی نعمت کا اشارہ گردانتے ہیں کہ اس سے سابقہ جرنیلوں پر بھی زد پڑتی ہے مگر ہم اسے سراسر وزیراعظم کی نیک نیتی اور نرم خوئی جانتے ہیں۔

یہ ہیں تبدیل شدہ پاکستان کی چند جھلکیاں۔ بسرعت آنے والی اس تبدیلی کا سب سے بڑا سبب تو یہ ہے کہ اوپر ایک ایماندار وزیراعظم اپنے تاریخی شعور اور سیاسی فراست کے ساتھ موجود ہے جس کا پرانا بیانیہ یہ تھا کہ اگر اوپر ایک شیر بیٹھا ہو تو نیچے والے کتے بھی شیروں کی طرح لڑتے ہیں۔ اس لیے اب اس شیر سردار کا کوئی ماتحت کتا کسی قسم کی کوتاہی کا مرتکب ہو تو شیرِاعظم بلا لحاظِ دوستی و مروت نیچے والے کو بیک بینی و دو گوش اس طرح نکال باہر کرتا ہے کہ اسے خبر بھی نہیں ہو پاتی کہ ”مجھے کیوں نکالا“۔

 پرانے دوستوں کے ساتھ تو وہ یہ سلوک کرتے ہیں، مگر پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پر ان کی عنایات کے اسرار کوئی بھی نہیں سمجھ پاتا۔ حاسدوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ پنجاب میں کسی اہل، نام ور اور مضبوط شخص کو وزیراعلیٰ بنانے کا خطرہ اس لیے مول نہیں لے رہے کہ وہاں کوئی ان کے مدمقابل نہ کھڑا ہو جائے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ تاثر بے بنیاد ہے۔ عمران خان جیسے مردم شناس جوہری کی نظر وہ کچھ دیکھتی ہے جو دوسروں کے لئے ممکن نہیں۔

 ہمارے وزیراعظم میں ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہ دیکھتے تو سب کو شیر کی آنکھ سے ہیں مگر سونے کا نوالہ کسی کو نہیں کھلاتے بلکہ منہ میں پڑے نوالے تک چھین لیتے ہیں۔ شیر کی چتون کا خوف ایسا ہے کہ نیچے والے سارے کتے بھائی بھائی بن کے رہتے ہیں۔ نہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے درمیان کوئی چپقلش ہے، نہ پنجاب کے گورنر اوروزیراعلیٰ کے مابین کوئی الجھن ہے۔ یہی معاملہ پارٹی کے دیگر لوگوں کے مابین ہے اور وقتاً فوقتاً یہ جو خبریں اڑتی رہتی ہیں کہ پارٹی میں دھڑے بندیاں ہیں اس کی قطعی کوئی حقیقت نہیں۔

پرانے وزیروں کو نکالتے اور نئے وزیر رکھتے ہوئے بھی شیرِ اعظم اس بات کا کبھی خیال نہیں کرتے کہ یہ عوامی ووٹوں سے منتخب ہے یا اوپر والوں کا چنندہ ہے۔ وہ راہ چلتے کسی بھی جوہرِ قابل کو پکڑ کے کابینہ میں شامل کر سکتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ، اپنے انتخاب کنندگان کے علاوہ، صرف آئی ایم ایف کی مانتے ہیں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے کنٹینر پرچڑھ کر وہ آئی ایم ایف کی جس توہین کے مرتکب ہوتے رہے ہیں، اور اس کے پاس جانے کے بجائے خود کشی کو ترجیح دینے کے اعلان کرتے رہے ہیں، اقتدار میں آنے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ آئی ایم ایف نے ان کی بھولپن میں کہی باتوں کو بہت سیریس لے لیا ہے لہٰذا اب وہ اس بھولپن کو سدھارنا چاہتے ہیں۔

اس کا ثبوت انہوں نے مادام آئی ایم ایف کی ساری شرائط بشمول ان کے مہیا کردہ وزیر خزانہ کو قبول کرکے دے بھی دیا ہے اور پھر یہ بھی ہے کہ اس ایماندار شیرِ اعظم کی موجودگی میں پرانا زرداری مارکہ وزیر خزانہ میڈم آئی ایم ایف کے مفادات کی بجائے اب انہی کے مفادات کا خیال رکھے گا اور کرپشن بھی نہیں کر سکے گا جیسے کہ اس نے پیپلزپارٹی کے دور میں کی تھی۔ ہمارا یہ شیر، نواز و زرداری کے علاوہ ضدی کسی معاملے میں نہیں۔ بلاول بھٹو سے جو وہ کبھی کبھار الجھ پڑتا ہے تو یہ صرف تفریح طبع کے لیے ہوتا ہے۔

چونکہ وزیراعظم اپنی پالیسیوں پر ”نظر ثانی“ کرنے، جسے ان کے حاسد یوٹرن لینا کہتے ہیں، کی بے مثال صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے انہوں نے اقتدار میں آنے کے چند روز بعد ہی یوٹرن کو دنیا کے بڑے لیڈروں کی نادر خصوصیات میں سے بتا کر خود کو پلک جھپکنے میں اس طرح بڑے لیڈروں میں شمار کرا لیا کہ ہر دیکھنے والی آنکھ اور سننے والا کان حیران رہ گیا۔ وزیراعظم اپنے سابقہ فیصلوں سے جس ثابت قدمی کے ساتھ بنا سرمائے منحرف ہوتے ہیں، اور جسے ان کے مخالفین اپنا ”تھوکا چاٹنا“ کہتے ہیں، اس سے مثبت اور فوری نتائج کے حصول کے لیے صاحب فراست وزیراعظم کی بے قراریوں کو سمجھا اور بدلتے فیصلوں کی پنہاں حکمتوں کو ماپا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی شیر وزیراعظم کے پاس اب ضروری کاموں میں استعمال کیا جاسکنے والا تھوک بھی نہیں رہ گیا چہ جائے کہ وہ اسے پھر سے چاٹنے کے لئے بھی تھوکا کریں۔

اگلے زمانوں میں ایک محاورہ بیان کیا جاتا تھا ”ہر چہ دانا کند کند نادان و لیک بعد از خرابی بسیار“۔ ہماری تحقیق کے مطابق دانش و دیانت سے بہرۂ وافر پانے والے ہمارے وزیراعظم اس اصول پر بھی ناداں ثابت نہیں ہوتے۔ اصل میں جس چیز کو لوگ ”خرابی بسیار“ کہتے ہیں وہ ہمارے وزیر اعظم کے نزدیک سوجھ اور بوجھ کے درمیان کی آزمائش کا وقت ہوتا ہے، یعنی سوجھ اوپر والوں کی اور بوجھ ان کی قوت فیصلہ کی۔ ویسے بھی جلد بازی کارِ شیطان ہوتا ہے، اس لئے وزیراعظم اس کے کان بہرے کرتے ہوئے صرف اوپر والوں کے حکم سے اپنی رائے کہ ہم آہنگ ہو جانے تک کا وقت لیتے ہیں اور بس فیصلہ صادر فرما دیتے ہیں جو آخرالامر ”انہی“ کی ایما کے مطابق ہونا ہوتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3