قصیدہ در مدح عمران خان معروف بہ موجد اعظم (تاریخ جدید)


نیرنگئی سیاستِ دوراں کی ستم ظریفی کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ آپ جس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے آئے ہوں وقت آنے پر آپ کو اسی نظام کا ایک پرزہ بن کر پھر وہی کام کرنے پڑیں جن پر آپ پہلے حلق پھاڑ پھاڑ کر تنقید کرتے رہے تھے۔ نیرنگی سیاست کی یہ مجبوریاں ہمارے مدبر، دیانت دار، عقلِ کل اور شیرِ نر وزیراعظم کے ساتھ بھی ہیں جسے ان کے مخالف سمجھتے نہیں اور لگے رہتے ہیں کلوخ اندازی کرنے۔ ان کوتاہ بینوں سے کوئی یہ پوچھے کہ بھائی اس شیر دلیر وزیراعظم نے یہ کب کہا تھا کہ میں اقتدار میں آنے کے بعد بھی وزیراعظم کے منصب کی مجبوریوں کا پاس نہ کروں گا؟

حزب اختلاف کی بات تو اور ہوتی ہے وہاں آدمی کی تولہ بھر کی زبان ہی تو ہلتی ہے۔ منہ کو مخرج بنا کے جو چاہو اگلتے رہو۔ اسمبلی کو جعلی بھی قرار دو اور استعفے دے کر مہینوں تک اسمبلی میں ایک دن بھی حاضر نہ رہو اور پھر تھوکا چاٹی کر کے تنخواہیں بھی وصول کرتے رہو۔ بڑے سے بڑے شخص کو اوئے، ابے فلاں فلاں کہہ کر مخاطب کرنا تو اپوزیشن کا حق ہوتا ہے لیکن ضروری تو نہیں نا کہ آپ جب اقتدار میں آجائیں تو دوسرے آپ کو طعنوں کی زد پہ ہی رکھ لیں!

بات یہ ہے کہ حزب اختلاف کے تقاضے اور ہیں اور حکومت کے تقاضے اور۔ اس لیے ہمارے اس وزیراعظم کے اپوزیشن کی دور والی باتوں کا مقابلہ کسی اپوزیشن والے سیاستدان کے ساتھ ہی ہونا چاہیے۔ اب جب کہ وہ وزیراعظم بن گئے ہیں تو ان کا مقابلہ سابقہ وزرائے اعظم کے طورطریقوں کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ ہمارے وزیراعظم کی اس نازک پوزیشن کو ان کے قصائی خانے والے مداح خوب سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل جب وہ اپنے اس مدبر اور شیر نر وزیراعظم کے بعض کاموں کا، ان کے سابقہ اصولوں کی روشنی میں، کوئی جواز نہیں پاتے تو اگرچہ نجی محفلوں میں اس پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں مگر پھر دانشوری زور مارتی ہے تو اس کا موازنہ سابق نا اہل وزیراعظم کے فیصلوں کے ساتھ کر کے ان کا جواز مہیا کرتے ہیں اور قصاب خانے والوں سے داد پاتے ہیں۔

ہمارے خیال میں وہ یہ بالکل درست کرتے ہیں کہ زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔ یہ تو ان مداحوں کی دانش و بینش کا کمال ہے کہ وہ اپنے وزیراعظم کے فیصلوں کو ایسی ایسی سخن سازیوں اور تاویلوں سے باجواز ثابت کر دکھاتے ہیں کہ نواز شریف کے پٹواریوں کے پاس انگشت بدنداں رہ جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ وہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ شیر دلیر وزیراعظم نے جب سابق نا اہل وزیراعظم کے نقش قدم پر چلنا تھا تو پھر اس وقت اتنی چیخم دھاڑ کیوں کی تھی!

آل عمران کے بعضے بعضے یوتھیے تو اتنے ذہین واقع ہوئے ہیں کہ وہ عقل و دیانت کے پتلے اپنے وزیراعظم کے برے سے برے حکومتی عمل کا جواز کرپٹ زرداری اور نا اہل و مودی کے یار نواز شریف سے نکال دکھاتے ہیں۔ آدمی یہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ قدرت نے زرداری و نواز شریف سے یہ بد افعالیاں شاید سرزد ہی اس لئے کروائی تھیں کہ بعد کے ایمان دار اور عقل کل وزیراعظم کے اعمال (حاسدوں کے نزدیک بداعمالیوں ) کی گنجائش ثابت رہے۔ یقین نہ ہو تو پچھلے تین چار ماہ کے دوران شیر وزیراعظم کے ہر عمل کے جواز کے لیے پچھلے نا اہل اور کرپٹ وزیراعظم کے فیصلوں کو بطور نظیر استعمال ہوتا ہوا دیکھ لیجیے۔ عمران خان پر ہونے والے ہر اعتراض کے جواب میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ ایسا تو فلاں نے بھی کیا تھا، یوں تو فلاں نے بھی کیا تھا۔ یہ سب کرنے کے باوجود اگر وہ غلط نہیں تھے تو عمران کیوں غلط ہے؟ یہ جواب سن کر یہ نونیے یہ پٹواریے، قسم سے، اپنا سا منہ لے کے رہ جاتے اور ہمیں مزہ آتا ہے۔

مثلاً دیکھیے عمران خان پہلے سابق وزیراعظم پر اعتراض کیا کرتے تھے کہ وہ مہینوں اسمبلی میں نہیں آتے۔ لیکن وزیراعظم بننے کے بعد شروع کے چند دنوں کے سوا اب ان کا وطیرہ بھی یہی ہے۔ اسمبلی میں آنا اب وہ اتنا ضروری نہیں سمجھتے۔ اب اگر کوئی اس پہ اعتراض کرے تو اس کا بہترین جواب تو یہی ہو سکتا ہے نا کہ سابق وزیراعظم بھی تو یہی کرتے تھے حالانکہ وہ تو کرپٹ اور نا اہل بھی تھے۔ لیکن اگر عمران بھی ایسا کرتے ہیں تو کیا ہوگیا؟ وہ اہل اور ایماندار تو ہے نا، اور خوبصورت بھی سابق وزیراعظم سے زیادہ ہیں۔ سابق وزیراعظم تو پرچیاں پکڑ پکڑ کر تقریر کیا کرتے تھے، موجودہ وزیراعظم کا تدبر دیکھیے کہ وہ فی البدیہہ کلام کرتے ہیں اور ایسی ایسی تاریخ ایجاد قسم کی سخن آرائیاں کرتے اور ہذیان بولتے ہیں کہ ناطقہ سربگریباں ہو جاتا ہے

پہلے پہل یہ ممدوح وزیراعظم ہر دوسرے چوتھے روز تھوبڑا نکالے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب فرمانے آجاتے تھے مگر رموزِ سلطنت والوں نے انھیں سمجھایا کہ ایسا کرنا کوئی ضروری نہیں ہوتا۔ اس لیے اب یہ مہینوں تک نہ ٹیلیویژن کا رخ کرتے ہیں نہ اسمبلی کا۔ الٹا میڈیا کو ان کے پیچھے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس طرح وزیراعظم کی وقعت اور وقار میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

ہماری تو یہ ہمیشہ سے اور سوچی سمجھی رائے ہے کہ قوم کو اب اس صورت حال سے ہم آہنگ ہو جانا چاہیے اور ایسے چھوٹے چھوٹے اعتراضات کرکے تنگ دلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ بفضل خدا ہمارا وزیراعظم بہت خوبصورت ہے۔ دماغ میں اگر بھس بھرا ہے تو کیا ہوا ان کی ایمانداری کے ڈنکے تو چار سو بجتے ہیں۔

باقی رہیں چھوٹی موٹی غفلتیں اور لغزشیں، تو وہ کس سے نہیں ہوتیں! قوم اگر دل بڑا کرلے اور ازخود ایک عدد ریفرنڈم برپا کر کے پچھلے تیس پینتیس برس کا گند صاف کرنے کے لئے اس شیر دل، کتابی چہرے اور یونانی سورماؤں کے سے خدوخال رکھنے والے سیّاسِ مدبر کو آئندہ دس پندرہ سال کے لیے وزیراعظم بنائے رکھے تو بالیقین اس ملک کی تقدیر سنور جائے گی کہ ایسے تاریخ ایجادِ اعظم اب ملتے کہاں ہیں۔

شاید کسی نے ایسوں کے لئے ہی کہا ہے

شوقین مزاجوں کے رنگین طبیعت کے

وہ لوگ بلا لاؤ نمکین طبیعت کے

اس عمر میں ملتے ہیں کب یار نشے جیسے

دارو کی طرح تیکھے کوکین طبیعت کے

ملاحیاں سنانے والے تو سناتے رہتے ہیں ان کا کیا ہے، اس لئے ہماری وزیر اعظم اور ان کے قصاب خانے والے مداحوں سے پرزور گزارش ہے کہ وہ ان کی باتوں کو یکسر نظر انداز کریں اپنی ہر ناکردگی کے جواز کے لیے نواز شریف اور زرداری کو پیش کیا کریں اور خود ہاتھی کے کان میں پڑے سویا کریں۔ قوم کا سفینہ کبھی نہ کبھی کسی کنارے جاہی لگے گا کہ اس کے مفادات کے حقیقی نگہبان ہر لحظہ چوکنے بیٹھے ہوتے ہیں!

وما علینا الالبلاغ!

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3