حرافہ۔ سرآئینہ بھی، پس آئینہ بھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‎گلاب اُس کی آنکھوں کے سامنے تھے ؛ گُل دان میں سجے تازہ گلابوں کا دستہ، جادوئی رنگ لیے مہک رہا تھا۔ وہ بستر پہ یوں چِت لیٹی تھی، کِہ بائیں پہلو پر جھکاؤ تھا۔ ایسے جیسے نڈھال ہو کے گری ہو۔ اس پہلو سے پھُولوں کا نظارہ، اُسے گلابی مناظر دِکھا رہا تھا۔ کیا اُس کا محبوب جانتا تھا، کِہ گلاب اُس کی کم زوری ہیں؟ نہیں جانتا تھا، تو کیسا حسیں اتفاق ہے، کہِ پہلی خفیہ ملاقات میں اُسے مہکتے گلاب پیش کیے! نثار اُس کی نا جائز محبت تھا۔

کیا محبتیں بھی نا جائز ہو سکتی ہیں؟ اُس نے خود سے سوال کیا۔ خود ہی جواب دِیا کِہ جن محبتوں کو زمانے سے چھپایا جائے، وہ نا جائز ہی تَو ہوتی ہیں۔ لیکن جائز محبت نے اُسے کیا دیا؟ اتھاہ تنہائی؟ آج وہ اکیلی ہے۔ ساتھی ہے، لیکن اکیلی! جس کا ساتھ چاہا تھا؛ جسے ٹُوٹ کے پیار کیا تھا، وہ کیا ہوا؟ وہ اِس لمحے کرب سے بے نیاز تھی، مگر یہ آنسو کیوں بَہ نکلے؟ آنسووں کا کیا ہے، انھیں بہنے کی عادت ہو گئی ہے۔

‎نثار کمرے میں آیا، تَو اُسے چِت پڑا دیکھ کر، ایک لمحے کو ٹھِٹھکا۔
‎ ”کیا ہوا؟ کہاں کھوئی ہوئی ہو؟ “

‎مسفرہ کو خواب کی دُنیا سے واپسی اچھی نہ لگی، لیکن اُس نے زبرد ستی مسکرانے کی اداکاری کرتے، اپنا رُخ نثار کی جانب موڑ دیا۔ نثار کسی اور ہی دھُن میں تھا، ورنہ اُس کے آنسووں کی نمی کو پا لیتا۔ ہاتھ میں پکڑی شیشے کی بوتل کا کارک کھولا، اور میز پر رکھے گلاسوں میں احتیاط سے انڈیلنے لگا۔

‎ ”اسٹرانگ؟ “
‎مسفرہ نے اثبات میں سر ہلایا، نثار اُس کا اقرار دیکھ پایا، لیکن اُس کے تبسم میں چھُپی کرب ناکی کو نہ پا سکا۔ مرد بھی کیا ذات ہے، کِہ اپنے آپ ہی میں کھوئی رہتی ہے۔ اپنے سوا کسی کا ادراک نہیں کر پاتی۔ بستر میں ایک عورت تھی، وہ جو مستعار محبت تھی۔ اُس کا خیال ہو گا، مسفرہ جسم کی بھُوک مٹانے آئی ہے۔ کیوں نہ مٹائے، مرد عورت کی کیا تخصیص، بھوک مٹانے کے لیے ہوتی ہے، مٹانی چاہیے۔

‎ ”چیرز“
‎شیشے سے شیشہ ٹکرایا۔ مسفرہ نے ایک ہی سانس میں ساری تلخی حلق سے اُتار لی۔
‎ ”ارے؟ ایسے تو یہ اُلٹا دے گی؛ ذرا دھیرج مہا راج۔ “

‎نثار نے یوں ٹوکا، جیسے داد دی ہو۔ مسفرہ نے بتا دیا تھا، کِہ وہ ہوش میں وہ سب کچھ نہ کر سکے گی، جو کرنے کے لیے، وہ یہاں ایک ساتھ ہیں۔ مسفرہ کے لیے بِن پیے، یہ آسان نہ تھا، کِہ اُس کے شوہر کے علاوہ کوئی اُسے چھُوئے۔ بے ارادہ اُس کی نگاہ گلاب گُل دان میں سجے گلابوں پہ جا اٹکی۔ پھولوں کے ساتھ ہی سنگھار میز پر رنگ برنگے کاسمیٹکس بھی دھرے تھے۔ یہ اس کی بیوی اور اس کا کمرہ تھا۔ وہ اٹھی اور اس نے اک خوشبو کی شیشی اٹھائی اور خود پر سپرے کرنے لگی۔ اس کو لگا جیسے اس کا وجود خوشبو میں گھل مل رہا ہے اچانک اس کی نظر آئینے پر پڑی آئینے میں اس کو جمیلہ کا چہرہ دکھائی دیا وہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی۔ جمیلہ یہاں بھی آگئی۔ وہ اچانک آئینے میں نظر آنے والی عورت سے دھیمے لہجے میں کہنے لگی۔

جمیلہ چلی جاؤ یہ میرا کمرہ اور میرا گھر ہے مگر جمیلہ نہیں گئی۔ مسفرہ پلٹی اور نثار کو چیخ کر کہنے لگی یہ میرے کمرے میں کیا کر رہی ہے۔
تم اس کو میرے کمرے میں کیوں لائے میں۔ میں واپس نہ آتی امی کے گھر سے تو مجھے پتہ ہی نہ چلتا کہ میری غیر موجودگی میں یہاں کیا ہو رہا ہے۔

مسفرہ نثار کی طرف پلٹی اور اس کا گریبان پکڑ کر ہسٹریائی انداز میں چیخ کر کہنے لگی نکالو اس کو تم نے اچھا نہیں کیا اصغر۔
بولو تم نے ایسا کیوں کیا میرا بستر ناپاک کر دیا اپنی بیوی کے بستر پر دوسری عورت کو لے آے۔ نکالو اس حرافہ کو۔ اسی وحشت کے عالم میں مسفرہ چلاتے چلاتے بے ہوش ہو گئی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>