ہم اپنی ہی زمین پر عذاب بن کر اترے ہیں !


میں راولپنڈی میں خواتین کی ایک یونیورسٹی میں تدریسی شعبے سے منسلک ہوں، ڈیپارٹمنٹ میں غیر نصابی سرگرمیوں کے انعقاد کے حوالے سے اکثر مجھے ذمہ داری سونپی جاتی ہے، اسی حوالے سے ماسٹرز اور بی۔ ایس کی کچھ طالبات جامعہ کی رِیت کے مطابق فئیر ویل کے حوالے سے معاملات طے کرنے میرے پاس پہنچیں، اور جامعہ کی موجودہ پالیسی کے مطابق میں نے انھیں معاملات سے آگاہ کر دیا۔ نا چاہتے ہوئے بھی میرا دھیان پروفیسر خالدحمید کے ظالمانہ قتل کی طرف گیا، انھیں بھی یہ ذمہ داری ایک ڈیوٹی کی حیثیت سے ہی دی گئی ہو گی، المیہ تو یہ ہے کہ بیمار ذہنیت صرف اس قاتل ہی کی نہیں تھی بلکہ اس گروہ کی بھی تھی جس نے کچھ بھی ثابت ہوئے بغیر ایک ذہنی طور پر مفلوج طالب علم کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کی اپنی مرضی سے تشریح کر لی تھی۔

پروفیسر صاحب ناحق اپنی جان دے کر بھی خود کو بے قصور ثابت نا کر پائے اور ان کے دوست احباب، بیمار ذہنیت کے اس گروہ کی سوچ پر روز جیتے مرتے رہے۔

ہمارے معاشرے میں سوچ کو آخر ایک دیوار کے پار دیکھنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی، ہم کیوں شک میں مبتلا ہیں؟ کسی کے ساتھ برا ہوتا ہے تو وہ برا ہی ہو گا اور اگر کسی کے ساتھ اچھا ہے تو وہ تب بھی برا ہے، کیونکہ وہ کامیاب انسان ہم خود نہیں ہیں، ملالہ کو ہی لے لیجیے وہ کامیاب یا ذہین نہیں ہو سکتی وہ ہماری قوم کی بیٹی ہو کر بھی اگر نوبل انعام کی حق دار ٹھہری ہے تو صرف اس لئے کہ اس نے دماغ میں گولی بخوشی کھائی تھی، وہ غدار ہے کیونکہ وہ زندہ بچ گئی۔ یہاں خود کو ثابت کرنے کے لئے بے نظیر بھٹو کی طرح شہید ہونا پڑتا ہے۔ 18 اکتوبر 2007 کو جب بی بی کے کاروان پر حملہ ہو تو بیمار ذہنیت کے اسی گروہ نے اس کا الزام بی بی پر ڈالنے کی کوشش کی، کہا گیا کہ ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، تاوقتیکہ کہ 27 دسمبر 2007 کو بی بی کو شہید ہو کر بے گناہی ثابت کرنا پڑی،

شک کی حالت تو یہ ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کومذاق بنایا گیا اور ایک بیمار ذہن تحقیق کے لیے چور راستے سے مرحومہ کمرے میں جانے کی کوشش میں پکڑا گیا، مخالفین منہ پھاڑ پھاڑ کر ایک بیمار ماں کی تضحیک کرتے رہے اور ان کی وفات کے بعد ڈھٹائی جاری رکھی گئی گویا موت جیسا عذاب ان کے لئے نہیں ہے۔

افسوس تو یہ ہے کہ یہ بیمار ذہنیت ہمارے آس پاس کثرت سے موجود ہے، کسی پر بھی راہ چلتے توہین کا الزام لگا دیجئے، ایسے الزامات میں تحقیق کی کیا ضرورت، کسی بھی ملزم کو جو خدا کا بنایا ہوا اشرف المخلوقات ہے، اسے ننگا کر کے انسانیت کے پرخچے اڑاتے ہوئے لاش کو جامعات میں گھسیٹ لیں یا سرعام کسی محافظ سے اس کے دماغ میں گولی اتروا دیں، اور تو اور اگر کوئی خوش قسمتی سے ریاست کے ہاتھوں بے گناہ ثابت ہو بھی جائے تو تب بھی اس کے اور اس کے خاندان کی زندگی اجیرن کر دیں، کتنے ہی پرہیز گار لوگ جو خدا کی بارگاہ میں نجانے ان بیماری زدہ ذہنوں سے بہتر مقام رکھتے ہوں ان الزامات اور جھوٹ کی بھینٹ چڑھ کر ملک بدر ہونے پر مجبور ہیں۔

خدارا شک اور جھوٹ سے نکل کر مثبت انداز میں سوچیں، حسد خود پسندی، الزام تراشی اللہ اور رسول اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں عاجزی سکھاتا ہے، جنونیت نہیں۔ خدا آپ کی اور میری حفاظت فرمائے آمین۔

کبھی کھل کے لکھ جو گزر رہا ہے زمین پر
کبھی قرض بھی تو اُتار اپنی زمین کا

(افتخار عارف)

Facebook Comments HS