کانا شہنشاہ اور لنگڑی حکومت


شہنشاہ کے روبرو اسے ”کانا“ کہنا بیشک اپنی موت کودعوت دینا ہے مگر سب جانتے ہیں کہ ایک ماہر بھانڈ نے کس طرح شہنشاہ کے روبرو اسے بار بار کانا کہا اور شہنشاہ سے انعام بھی وصول کر لیا۔ میں وثوق سے کہتا ہوں وزیراعظم عمران خان نے دانستہ بلاول صاحبہ نہیں کہا اورنہ اس وقت انہیں احساس ہوا تاہم بلاول زرداری سے معذرت کر کے کپتان کا قد مزید بڑا ہو گا۔ عمران خان نے جب سے بلاول صاحبہ کہا اس کے بعد سے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار وں نے مزے لے لے کر بلاول صاحبہ کہنا شروع کر دیا اور بلاول زرداری سے خوب داد وصول کررہے ہیں۔ اس وقعہ کے بعد جو مختلف ویڈیو کلپ منظرعام پرآئی ہیں ان میں آصف زرداری، خورشید شاہ سمیت پیپلزپارٹی کے اہم عمائدین بلاول زرداری کے لئے مونث کاصیغہ استعمال کر رہے ہیں بلکہ ایک ویڈیوکلپ میں بلاول زرداری نے خود بھی اپنے لئے مونث کاصیغہ استعمال کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رانا ثناء اللہ خاں نے بلاول زرداری کے لئے جو کچھ کہا وہ تو سپرد قرطاس بھی نہیں کیا جا سکتا۔ میں سمجھتا ہوں اس بحث کا فوری اختتام پیپلزپارٹی کے اپنے فائدے میں ہے۔ باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”الفاظ انسان کے غلام ہوتے ہیں مگر زبان سے ادا ہونے کے بعد انسان اپنے الفاظ کا غلام بن جاتا ہے“۔ جس طرح بدعنوان قابل گرفت ہیں اس طرح بدزبان طبقہ بھی قابل نفرت ہے۔ عوام ووٹ سے نمائندوں جبکہ نمائندے ایوانوں میں بات کرتے وقت الفاظ کے ”چناؤ“ میں اختیاط نہیں کرتے۔

ہمارے کچھ سیاستدان مسلسل کئی دہائیوں تک حکومت کے لئے سیاست کرتے ہیں مگر حکومت میں آنے کے باوجود خود کو سیاست سے نہیں روکتے۔ ہر کسی کو اور ہر بات کا جواب دیا جائے یہ ناگزیر نہیں ہوتا۔ عمران خان کووزیراعظم منتخب ہوئے نو ماہ ہو گئے مگر وہ ابھی تک سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ وہ گڈگورننس کے لئے سیاست نہیں حکومت کریں، سیاست کے لئے زندگی پڑی ہے۔ عمران خان پر تنقید ہونا فطری امر ہے مگر وہ خود جواب دیں یہ ضروری تو نہیں، کپتان کے ٹیم ممبرز کس مرض کی دوا ہیں۔

عمران خان نے حالیہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ”وہ تنہا متحدہ اپوزیشن کا مقابلہ کریں گے“، میں سمجھتا ہوں وہ انتخابی مہم سے اب تک تنہا مقابلہ کر رہے ہیں۔ جہانگیرترین، شیخ رشید، میاں اسلم اقبال سمیت پی ٹی آئی کے دوچار عمائدین کے سوا کوئی اپوزیشن کے کسی حملے کا دفاع اور جوابی وار نہیں کر رہا۔ سردارعثمان بزدار کے ہوتے ہوئے تخت لاہور ایک طرح سے خالی ہے۔ پنجاب میں بلے بازوں کی بہترین بلے بازی کے بغیر وفاق میں کپتان کی بلے بلے نہیں ہوسکتی۔

سردارعثمان بزدار کے پلے کچھ نہیں، موصوف اوپننگ بلے باز کی حیثیت سے کریز پر آئے تھے مگر وہ بلے بازی نہیں کرسکتے۔ عثمان بزدارکی حالیہ آنیاں جانیاں اور ان کے احکامات پر سرکاری افسر ز کی ”تبدیلیاں“ شعبدہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ کامیابی کے لئے وکٹ روکنا کافی نہیں زیادہ رنز بنانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو سودوزیاں سے بے نیاز ہو کر ”مقبول“ نہیں ”معقول“ فیصلے کرنا ہوں گے، سردارعثمان بزدار کی تبدیلی بیشک دشوار مگر گڈگورننس کے لئے ناگزیر ہے۔

عمران خان اپنے معتمد جہانگیر خان ترین، سردارذوالفقارعلی خان کھوسہ، ہمایوں اخترخان، میاں اسلم اقبال اورچوہدری پرویزالٰہی کو پنجاب میں ”تبدیلی“ کا مشن دیں انہیں مایوسی نہیں ہوگی۔ معیشت کی بحالی کے بغیر خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ ایٹمی پاکستان کا بار بار آئی ایم ایف کی دہلیز پرجانا اور دست طلب درازکرنا قومی حمیت پر ڈرون حملے کے مترادف ہے۔ مستعفی ہونے والے وزیرمالیات اسدعمر کا حلقہ انتخاب ہے اور وہ قوم کوجوابدہ تھے لیکن ان کے بعد آنے والے مشیرمالیات (زرداری کی باقیات) ریاست پاکستان کی بجائے آئی ایم ایف کے تنخواہ دار اور وفادار ہیں لہٰذا ان کے ہاتھوں پاکستان اور پاکستانیوں کو ریلیف ملنا خارج ازامکان ہے۔

بہتر ہو گا کپتان کسی باصلاحیت اورنیک نیت پارلیمنٹرین یاپاکستانیت کے علمبردارماہرمعیشت کووزیرمالیات کاقلمدان دیں۔ پاکستان کو خوددداری پرسمجھوتہ کیے بغیر معاشی خودانحصاری کاسفرطے کرناہوگا۔ پاکستان کومقامی طورپرزیادہ سے زیادہ وسائل پیداکرنے کے لئے مختلف تجربات کرناہوں گے۔ ہم ایک زرعی ریاست ہیں، ہم گندم سمیت وہ اجناس پیداکریں جوبیرون ملک ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوں۔ ”تبدیلی“ کاسن کر بیرونی سرمایہ کار پاکستان آرہے ہیں مگر انہیں وزیراعظم تودرکنار کسی سنجیدہ وفاقی وزیر تک رسائی نہیں دی جاتی، وہ کچھ دن خوار ہونے کے بعد ناکام ونامراداپنے اپنے ملک واپس چلے جاتے ہیں۔

وزیراعظم انوسٹمنٹ کی نیت سے پاکستان میں آنے والے بیرونی سرمایہ کاروں کوبھی اپنے آفس میں رسائی دیں یا اس کے لئے کسی با اختیار وفاقی وزیرکی ڈیوٹی لگادیں جو وزیراعظم اورسنجیدہ سرمایہ کاروں کے درمیان پل یعنی سہولت کار کا کردارادا کرے۔ پچھلے دنوں پاکستان کے ممتازانڈسٹریلسٹ اورمحسن پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے معتمد ساتھی میاں محمدسعید کھوکھر نے مادروطن کی محبت میں دوست ملک چین سے سرمایہ کاروں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کو اسلام آباد میں مدعو کیا مگر وزیراعظم کو بار بار پیغام دینے کے باوجود ہنوز ان کی ملاقات نہیں ہوئی، کیا ہماری مقروض ریاست اس مجرمانہ غفلت کی متحمل ہوسکتی ہے۔

عمران خان غلطیاں کررہے ہیں کیونکہ جو کام کرے گ یقیناً اس سے غلطیاں بھی ہوں گی تاہم عمران خان غلطی دہرانے والے نہیں بلکہ اپنی خطاؤں سے سیکھنے والے ہیں۔ قوم کو اپنے منتخب وزیراعظم کے ”سیاسی بیانات“ نہیں آئینی وقانونی ”اقدامات“ میں دلچسپی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کی زبانیں چلتی ہیں جبکہ حکمرانوں کا کام بولتا ہے۔ اپوزیشن کیمپ سے عمران خان پر سیاسی اور ذاتی حملے ہورہے ہیں مگر وہ اشتعال میں آئے بغیر اپنے منشور پر فوکس کریں۔

انہیں ”ڈنڈا“ نہیں ”ایجنڈا“ کامیابی وکامرانی سے ہمکنارکرے گا۔ عمران خان شروع سے جذباتی ہیں مگر یہ جوش نہیں ہوش کاوقت ہے، پاکستان میں قومی سیاست کا ماضی دیکھا جائے تو ہمارے فوجی اور منتخب حکمران مصلحت پسندی کے تحت سمجھوتہ کرتے رہے ہیں لیکن عمران خان نے ایک نڈرلیڈر کی طرح ”طاقتور“ وفاقی وزراء سے قلمدان واپس لیا، انہیں وفاقی کابینہ میں ”تبدیلی“ کے سیاسی اثرات سے ڈرایا گیا مگرانہوں نے خطرات کی پرواہ نہیں کی اوراپنے ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔

انہوں نے تخت لاہور میں جس کسی کو ”تبدیل“ یا سبکدوش کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ مناسب وقت پرکرگزریں گے، وہ اپنے کسی فیصلے پر پچھتاتے ہیں اورنہ انہیں پیچھے مڑکر دیکھنے کی عادت ہے۔ پی ٹی آئی کے کئی مرکزی رہنماؤں کی سیاسی ”سروری“، ”سرداری“ اور ”برتری“ کے پیچھے کپتان کسی مہربان کی طرح کھڑے ہیں مگر ا س کا کیا، کیا جائے جو سیاست میں ”بردباری“ کی بجائے ”برادری“ کا علمبرداربن جائے۔ ہماری ریاست برادری ازم کی سیاست کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔

عمران خان یاد رکھیں کسی بحران یا امتحان میں ”بزدار“ نہیں ”بردبار“ کام آتے ہیں۔ عمران خان کے طرزحکومت اور طرزسیاست میں برادری ازم کا دوردور تک کوئی نام ونشان نہیں ہے۔ عمران خان کے چند سیاسی طور پر قدآور نیازی کزن ان سے ناراض بلکہ ان کی سیاست کے سخت نقاد ہیں، تاہم انہیں منانے کی ضرورت ہے۔ عمران خان اپنے اقتدار کے ابتدائی نوماہ میں کچھ غلطیوں کے باوجود عالمی شخصیت بن کرابھرے میں اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، تاہم ان کی طرف سے بار بار اپوزیشن رہنماؤں بالخصوص بلاول زرداری پر براہ راست تنقید ناقابل فہم ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں پر تنقید کے لئے وزیراعظم کی توانائیوں کا ضیاع میرے نزدیک قومی سانحہ ہے، یہ رویہ اور روش وزیراعظم کے منصب کے شایان شان نہیں۔ انہیں جس کسی نے سیاسی اجتماعات اوراپوزیشن رہنماؤں پر جوابی حملے کرنے کا مشورہ دیا وہ ان کادوست نہیں بدترین دشمن ہے۔ قوم نے ووٹ سے عمران خان کوحکومت کا مینڈیٹ دیا لہٰذا وہ حکومت کریں، سیاست کے لئے تو زندگی پڑی ہے۔ وہ سیاست کے معاملات کو جہانگیرخان ترین، سردارذوالفقارعلی خان کھوسہ، ہمایوں اخترخان، میاں اسلم اقبال، سیّدصمصام بخاری سمیت اپنے معتمد پارٹی اکابرین پرچھوڑدیں۔

کپتان کا پی ٹی آئی کے بزرگ سیاستدان اور زیرک پارلیمنٹرین سردارذوالفقارعلی خان کھوسہ کی سیاسی بصیرت، فہم وفراست اورصلاحیتوں سے مستفید نہ ہونا ایک بڑاسوالیہ نشان ہیں۔ وزیراعظم عمران خان فوری طورپرمیاں محمد سعید کھوکھر اور ان کی دعوت پر پاکستان آنے والے چینی وفد سے ملاقات کریں، پاکستان کے محب اور ماہر مائنزمیاں محمد سعید کھوکھر کوعلم ہے پنجاب کے دریاؤں سے سونا کس طرح نکلے گا۔ حکمران یاد رکھیں ہمارے ملک میں تبدیلی یاخوشحالی ”انڈے یا ڈنڈے“ سے نہیں ”ایجنڈے“ سے آئے گی۔

Facebook Comments HS