کمرہ نمبر 29، قائد اعظم یونیورسٹی شعبہ ریاضی

کچھ مقامات، عمارتیں یا راستے ایسے ضرور ہوتے ہیں جن سے آپ کی زندگی کی گہری یادیں وابستہ ہوتی ہیں، اور جب بھی آپ دانستہ یا غیر دانستہ ان جگہوں سے گزرتے ہیں، وہاں وہ مجذوب یادیں ہیولے بن کر آنکھوں کے سامنے خود کو دہرانے لگتی ہیں۔ گزرا ہوا اچھا وقت اکثر ایک سرد اداسی ہی دیا کرتا ہے۔ میری ایسی بہت سی یادیں قائد اعظم یونیورسٹی، شعبہ ریاضی کے کمرہ نمبر 29 سے جڑی ہوئی ہیں۔ پہلی بار

Read more

ہم اپنی ہی زمین پر عذاب بن کر اترے ہیں !

میں راولپنڈی میں خواتین کی ایک یونیورسٹی میں تدریسی شعبے سے منسلک ہوں، ڈیپارٹمنٹ میں غیر نصابی سرگرمیوں کے انعقاد کے حوالے سے اکثر مجھے ذمہ داری سونپی جاتی ہے، اسی حوالے سے ماسٹرز اور بی۔ ایس کی کچھ طالبات جامعہ کی رِیت کے مطابق فئیر ویل کے حوالے سے معاملات طے کرنے میرے پاس پہنچیں، اور جامعہ کی موجودہ پالیسی کے مطابق میں نے انھیں معاملات سے آگاہ کر دیا۔ نا چاہتے ہوئے بھی میرا دھیان پروفیسر خالدحمید کے ظالمانہ قتل کی طرف گیا، انھیں بھی یہ ذمہ داری ایک ڈیوٹی کی حیثیت سے ہی دی گئی ہو گی، المیہ تو یہ ہے کہ بیمار ذہنیت صرف اس قاتل ہی کی نہیں تھی بلکہ اس گروہ کی بھی تھی جس نے کچھ بھی ثابت ہوئے بغیر ایک ذہنی طور پر مفلوج طالب علم کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کی اپنی مرضی سے تشریح کر لی تھی۔

Read more