ہوشیار خبردار نوجوان! آگے انگلی نہیں کھائی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاول نے بلآخر ”انگلی“ کردی۔
پیچھے کھڑے مصاحبوں نے شاہ کے جملے پر قہقہہ لگایا۔
گُڈ گُڈ کہا۔
بہت سوں نے سر پیٹ لیا۔

بلاول سے امید کا دیا پیپلز پارٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس امید پر جل رہا ہے کہ بلاول نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والی ماں کی گود میں پرورش پائی ہے، جو بلاول سے بھی کم عمری میں آگ کے دریا سے گزر گئی مگر جس نے اپنی زبان نہ پھسلنے دی اور نہ اپنے مشورہ دینے والوں کی گرفت میں دی۔

خود بلاول بھی آنکھ کھولتے ہی اس ماں کا ہاتھ تھام کر ایک اور آگ کے دریا سے گزر ہی رہا تھا کہ وہ اسے اس دریا کے بیچ منجھدار چھوڑ گئی۔
اس یاد کے آنسو بلاول کی آنکھوں میں دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے کہ یہ نوجوان حساس اور غمگسار بھی ہے۔
ہاں عوام کی طرف بڑھتے اس کی ماں کا راستہ روکنے والے اور کسی سے بھی نہ ڈرنے والے کمانڈوز ضرور کمر درد میں مبتلا ہوکر سسکتے دکھائی دیے۔

بلاول اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ نوجوان ہے۔ آج کے جدید زمانے کی نسل ہے۔ پڑھا لکھا ہے۔ خود اعتماد ہے۔ اسے بیرونی دنیا کے سامنے بولنا بھی آتا ہے اور اپنے ملک کے میلے اور پسینے میں شرابور عوام کو گلے لگانا بھی آتا ہے۔

اس کا زمانہ ابھی شروع ہوا ہے۔ اس کی نگاہ آنے والے زمانوں پر ہونی چاہیے۔ یہ جدید زمانہ ہے ہی نوجوانوں کا۔ نئی سوچ، نئے راستوں اور نئی منزلوں کا۔ اس کا فوکس آئین، 18 ترمیم اور پارلیامنٹری نظام کا تحفظ ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر ایمپائر کو صاف شفاف کھیل پر آمادہ کرتے رہنا چاہیے۔ ملک کو درپیش سنگین مسائل کے ساتھ ساتھ سندھ کو بھی اپنے مخبروں کی عینک سے نہیں اپنی ذاتی نگاہ سے دیکھنا چاہیے اور جمہوریت پر ڈٹے کھڑے سندھ کے مسائل کا حساب خود کھولنا چاہیے۔

مجھے یقین ہے کہ جس نوجوان کی اردو کی گرائمر ہی درست نہیں اس کے منہ میں انگلی والا بیہودہ اور قطعی دیسی مذاق اس کے مصاحبوں نے دیا ہے جو اس کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے ہیں اور دانت نکوسے ہنستے ہیں۔

اسے اگر انگلی کے معنی کھول کر بتائے جائیں تو یقیناﹰ وہ اسی منہ پر قے کردے گا جس نے اسے یہ مذاق رومن میں نہ صرف لکھ کر دیا ہے بلکہ اس کی ادائگی بھی سکھائی ہے۔

اگر اس نے خود سے یہ الفاظ کہے ہیں تو بھی اسے پتہ ہونا چاہیے کہ یہ کتنا غلیظ مذاق ہے، جس کی غلاظت کی گھن اور ذائقہ بے شک مرد حضرات آپس کی گپ شپ میں انجوائے کرتے ہوں، لیکن ایک سیاسی لیڈر کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اسمبلی بلڈنگ کے سائے میں کھڑے ہوکر پورے ملک کے سامنے یہ مذاق کرے۔
چاہے وزیراعظم نے اپنی زرد دستار کیوں نہ داغدار کردی ہو۔

اسے یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اس وقت ملک میں ایک خاموش اکثریت ایسی بھی ہے جو مکمل غیرجانبداری کے ساتھ سیاست میں پھیلتے بڑھتے خلا میں کھڑی گہری خاموشی کے ساتھ بلاول کو ابھی غور سے دیکھ اور پرکھ رہی ہے (پیپلز پارٹی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک نوجوان سیاستدان کی حیثیت سے )

یہ اکثریت بڑی افسردگی کے ساتھ تبدیلی کی ناؤ کو سونامی میں ڈوبتا ہوا دیکھ رہی ہے اور ن لیگ کی خودکشی کرتی خاموشی سے مایوس ہے اور پیپلزپارٹی کی بیڈ گورننس پر ناراض ہے۔
اس اکثریت نے اب ووٹ مٹھی میں دبا لیے ہیں۔ اب یہ مٹھی آنے والے زمانوں کے لیے کھلے گی۔ ان نوجوانوں کے لیے جو یا تو ان کے ہم عمر ہوں گے یا ان کی نسلوں کے ہم عمر ہوں گے۔

منظور پشتین کے گرد جمع ہوتا ہجوم اس کی مثال ہے۔
نتائج نیوزی لینڈ کی جیسنڈا آرڈن کی صورت میں سامنے ہیں۔

شیخ رشید سمیت بوڑھے ہوچکے سیاستدانوں کی زبانیں اب بڑھاپے میں ویسے بھی قابو میں نہیں آئیں گی۔ یہ سب آخری بازی کھیل رہے ہیں اور آخری بازی ویسے بھی پاگل کردیتی ہے اور بندہ اول فول بولنے لگتا ہے۔

مگر نہ صرف بلاول کے جوان اور نوجوان ساتھیوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ بدلہ لینے اور زبان کی لذت لینے کے چکر میں اس کھائی کا راستہ اپنے نوجوان لیڈر کو دکھاکر وہ اپنا سیاسی مستقبل بھی داؤ پر لگائیں گے۔

بلکہ مرادسعید جیسے نوجوانوں کو بھی پتہ ہونا چاہیے کہ آنے والا زمانہ ننگے بادشاہوں کے نظر نہ آتے لباس کی تعریف کا نہیں بلکہ ان نوجوانوں کا ہے جو بے اختیار سچ کہہ اٹھیں گے کہ بادشاہ ننگا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 89 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah