سری لنکا میں ہجوم کے ہاتھوں پاکستانیوں کی جان خطرے میں


بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاوں گھنی ہوتی ہے
ہائے! کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

آج بروز ہفتہ میرا ارادہ تھا کہ ذرا دیر تک نیند پوری کروں، لیکن سری لنکا میں پناہ گزین ایک پاکستانی دوست کا فون آیا کہ اُسے گھر سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور وہ فی الوقت اپنی اہلیہ کے ہمراہ مقامی تھانے میں محصور ہے، کیونکہ حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ تھانوں کے علاوہ کہیں اور بھی آپ کی جان کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

یہ دوست، قائد اعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور اپنے شعبے میں ماہر ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ایک غیر ملکی کمپنی میں ایک بہترین عہدے پر فائز تھا اور لاکھوں کما رہا تھا، لیکن شمع رسالت کے پروانوں نے جب علم شہادت اٹھایا اور جنت کی یک طرفہ ٹکٹ بُک کروا لی تو اسے کسمپسری کی حالت میں ملک چھوڑنا پڑا، مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے سری لنکا پہنچ گیا۔

وہاں بہت سے دوستوں کی کاوشوں اور مہربانیوں کی وجہ سے اُس کی رہائش کا بندوبست ہو گیا، اب امید تھی کہ وہ قدرے ذہنی سکون میں ہوگا کہ سری لنکا میں بھی مذہبی انتہا پسندوں نے امن کے مذہب کا ایسا بیڑہ غرق کیا کہ سینکڑوں لوگوں کی جان گئی۔ پھر یہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ 100 میں سے ننانوے دہشت گرد حیران کن طور پر مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے نکلتے ہیں۔

ابھی سری لنکا میں موجود انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں سے ہنگامی طور پر بات کی ہے تو پتہ یہی چلا ہے کہ اس وقت سب سے محفوظ جگہ پولیس اسٹیشنز ہی ہیں، جس علاقے میں فسادات عروج پر ہیں، وہاں کے چھوٹے سے تھانے میں تقریبا ڈیڑھ سو افراد جمع ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں مہاجرین اور پناہ گزین اس وقت تھانے کے اردگرد مختلف سڑکوں پر موجود ہیں۔

سری لنکا کے مقامی دوستوں سے التماس کر چکا ہوں کہ اس دوست کو اپنے گھر میں کچھ روز کے لیے مہمان کے طور پر رکھ لیں، لیکن وہ بھی مجبور ہیں، کیونکہ جیسے ہی بلوائیوں کو پتہ چلتا ہے کہ اس گھر میں کوئی غیر ملکی موجود ہے تو وہاں پہنچ جاتا ہے، عارضی طور پر ہوٹلز اور مہمان خانوں میں پولیس کسی بھی غیر ملکی کو رکنے کی اجازت نہیں دے رہی، اور پھر غیر ملکی بھی ایسے جن کے پاس دنیا بھر میں امن کی علامت سمجھا جانے والا سبز ہلالی پاسپورٹ ہو۔

امن کے داعیوں سے، متلاشیان جنت سے گزارش ہے اس دنیاکو جہنم بنانا بند کریں، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہنگامی بنیادوں پر ان افراد کی حفاظت کے لئے کارروائی کرنی چاہیے۔ حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ اپنے شہریوں کی جان کے تحفظ کے لئے فوراً اقدامات اٹھائے۔

Facebook Comments HS