آج بروز ہفتہ میرا ارادہ تھا کہ ذرا دیر تک نیند پوری کروں، لیکن سری لنکا میں پناہ گزین ایک پاکستانی دوست کا فون آیا کہ اُسے گھر سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور وہ فی الوقت اپنی اہلیہ کے ہمراہ مقامی تھانے میں محصور ہے، کیونکہ حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ تھانوں کے علاوہ کہیں اور بھی آپ کی جان کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
ابھی سری لنکا میں موجود انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں سے ہنگامی طور پر بات کی ہے تو پتہ یہی چلا ہے کہ اس وقت سب سے محفوظ جگہ پولیس اسٹیشنز ہی ہیں، جس علاقے میں فسادات عروج پر ہیں، وہاں کے چھوٹے سے تھانے میں تقریبا ڈیڑھ سو افراد جمع ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں مہاجرین اور پناہ گزین اس وقت تھانے کے اردگرد مختلف سڑکوں پر موجود ہیں۔
سری لنکا کے مقامی دوستوں سے التماس کر چکا ہوں کہ اس دوست کو اپنے گھر میں کچھ روز کے لیے مہمان کے طور پر رکھ لیں، لیکن وہ بھی مجبور ہیں، کیونکہ جیسے ہی ہجوم کو پتہ چلتا ہے کہ اس گھر میں کوئی غیر ملکی موجود ہے تو وہاں پہنچ جاتا ہے۔
Read more