امریکہ نے پاکستانیوں پر نئی ویزہ پابندیاں لگا دیں


امریکہ نے اپنے ملک سے ڈی پورٹ ہونے والی شہریوں کو واپس نہ لینے پر پاکستان پر ویزہ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے 10 ایسے ممالک پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جنہوں نے ڈی پورٹ ہونے والوں یا ویزے کی مدت سے زیادہ عرصہ امریکہ میں قیام کرنے والے اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قونصلر آپریشن فی الحال تبدیل نہیں کیا جائے گا تاہم امریکہ پاکستانی شہریوں کو ویزوں کا اجرا روک سکتا ہے۔ امریکہ پاکستان سے قبل 9 ممالک پر ویزہ پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ امریکہ نے گھانا اور گیانا پر 2001 میں، گیمبیا پر 2016، کموڈیا، اریٹیریا، گنی، سیرالیون پر 2017 اور برما اور لاﺅس پر 2018 میں پابندیاں عائد کی تھیں۔

امریکہ کے امیگریشن اینڈ نیشنیلٹی ایکٹ کے سکیشن 243 ڈی کے تحت امریکی وزیر خارجہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ کسی ایسے ملک کو جس نے ہوم لینڈ سیکرٹری کے کہنے پر اپنے شہری کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہو اسے امیگریشن یا نان امیگرنٹ ویزہ کا اجرا بند کرے۔

نئی ویزہ پابندی کے بعد امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں قونصلر آپریشن جاری ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جبکہ ویزا پالیسی دونوں ممالک کا باہمی معاملہ ہے جس پر بات چیت جاری ہے، ابھی اس معاملے کی زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔

امریکہ کی جانب سے ویزہ پابندیوں کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کچھ ممالک پر جب پابندیاں لگائی جاتی ہیں تو ان آفیشلز کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے جو ان وزارتوں سے متعلق ہوتے ہیں جو امریکہ سے ڈی پورٹ ہونے والے لوگوں کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان آفیشلز کے اہل خانہ اور پھر دوسری وزارتوں کے لوگوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔

امریک امین پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا کہ نئی پابندیوں کے باعث پاکستانی شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ’امریکہ کا یہ قدم ان پاکستانیوں کو متاثر کرے گا جو امریکہ کا سفر کرنا چاہتے ہیں، پاکستانی حکام اس پابندی سے بچ سکتے تھے اگر وہ امریکہ کی درخواست پر غور کرتے اور قانونی تقاضے پورے کرتے‘۔ حسین حقانی نے بتایا کہ امریکہ سے ڈی پورٹ کیے جانے والے شہریوں کو قبول نہ کرنے کا واقعہ نیا نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کرچکا ہے۔

Facebook Comments HS