عسکری عملداری تو اب پرانی خبر ہو چکی

\"fawadhasan\"نواز لیگ کی حکومت آتے ہی ملکِ خداداد پاکستان میں اِس بحث نے زور پکڑ لیا تھا کہ کب یہاں عوام کی منتخب کردہ جمہوریت پر نادیدہ قوتیں شب خون مارتی ہیں۔

یہ بحث ہنوز جاری و ساری ہے اور پانامہ پیپرز کے انکشافات کے بعد اسکی شدت میں اضافہ بھی ہوگیا ہے۔

لیکن مدعا کچھ یوں ہے کہ اِس قسمت کے مارے اور غریب الغرباء ملک میں تو کب سے ہی عسکری عملداری کا نفاذ ہو چکا ہے اور گویا ایک معصوم، سہمی ہوئی جمہوری حکومت ہے جو فقط مغربی آقاؤں اور دیگر بین الاقوامی قوتوں کو رام کرنے کے لئے بطور کٹھ پتلی بٹھا دی گئی ہے تا کہ اور بھی کھائیں اور سویلین سرکار بھی موجیں کرے۔

اس بیان کردہ عسکری عملداری کی داغ بیل تب ڈالی گئی جب لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ نے 2014 کو کراچی ہوائی اڈے پر ہونے والے مبینہ حملے کے بعد سوشل میڈیا پر اپنا تسلط جمانا شروع کیا۔ باجوہ صاحب نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسا منظم طریقہ کار بنایا جائے کہ افواجِ پاکستان کے تعلق رکھنے والی ہر خبر کو عوام تک رسائی حاصل ہوسکے۔ درحقیقت اس کے پیچھے یہ سوچ بھی تھی کہ سوشل میڈیا ایک جدید آلہ ہے جسے موثر پیغام رسانی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے در حالانکہ بہت سے معاملات میں عسکری اور سولین قیادتوں میں محاذ آرائی پائی جاتی ہے۔

بس اس دن کے بعد سے تمام تر اخبارات، ٹی وی چینلز نے باجوہ صاحب کی  ٹویئٹز (سوشل میڈیا پر کئے گئے اعلامئے) کو نشر کرنا اپنا اہم فریضہ مان لیا۔ اور جس نے ذرا سی کوتاہی دکھائی تو اس کی حاضری لگوا دی گئی۔

اسی روش پر چلتے ہوئے عسکری حکام نے ریاست کی تمام تر خارجی ذمہ داریاں اپنے سر لیں لی اور سپہ سالار بحثیت سفیر ملکوں ملکوں روانہ ہوئے۔ آپ نے کہیں تمغے جمع کئے تو کبھی گارڈ آف آنر سے نوازے گئے۔  یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ آپ نے بڑے بڑے رہنماؤں کے سامنے ملکی افواج کی قربانیوں کو بیان کیا اگرچہ ملک دہشت گردی کی آگ میں مسلسل جلتا ہی رہا۔

سوال یہ ہے کہ کیا سپہ سالار وزیرِ خارجہ کا کردار ادا کر سکتا ہے اور اس کی طرح دوسرے ملکوں کے دورے کر سکتا ہے؟ ایک جمہوری ملک میں ایسا کرنا زیب نہیں دیتا اور بہت سے سوالات کھڑے کر دیتا ہے۔

اس کے علاوہ ظلم و بربریت کا ایک بازار ہے جو بلوچستان اور سندھ میں اب بھی مسلسل گرم ہے، جس پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ ان علاقوں میں ایسے ہی حالات رکھنے ہے۔

اگر بلوچستان کی بات کی جائے تو مسخ شدہ لاشیں آئے دن ملتی رہتی ہیں۔ سویلین حکومت کے پاس بلوچستان کے کتنے اختیارات ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب سابق وزیر اعلیٰ جناب عبدالمالک بلوچ سے زاہد بلوچ کے بارے میں پوچھا گیا، جن کو پاکستانی خفیہ اینجینسیوں نے چند سال پہلے زیر حراست لے لیا تھا، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملات ان کے بس میں نہیں۔ یہ بات انہوں نے کراچی میں زاہد بلوچ کی رہائی کے لئے لگائے جانے والے کیمپ میں شرکت کے دوران کہی جہاں لطیف جوہر بھوک ہڑتال میں بیٹھے تھے۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق تو بلوچستان میں خفیہ ایجینسیز بلوچوں کو صرف گرفتار ہی نہیں کررہی ہیں بلکہ یہاں آرمی سولین آبادیوں پر بمباری بھی کرتی آرہی ہے۔

سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اِس حوالے سے کسی بھی صحافی ادارے کو لکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ گویا بلوچستان کا مسئلہ ایک ایسا مضمون بنا دیا گیا ہے جس پر بات نہیں ہوسکتی اور جو کرے گا وہ حامد میر و دیگر کی طرح زیر ِعتاب آئے گا۔

 کیا یہ عسکری عملداری نہیں جہاں دسیوں ٹاک شوز سیاستدانوں کے خلاف تو ببانگِ دہل ہوتے ہیں مگر کوئی ایک نہیں جو ماضی کے آمروں کے خلاف لب کشائی کرسکے!

آمریت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اِس میں اقتدار پر قابض طبقہ جوابدہ نہیں رہتا، ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ عسکری حکام کی زیر سرپرستی کراچی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے کئی ایک ممبران کا بہیمانہ قتل ہوا۔ آفتاب احمد نامی ایک نوجوان جو متحدہ کے رہنما فاروق ستار کے خاص آدمی تھے ان کو رینجرز کے اہلکاروں نے تشدد کر کے مار ڈالا۔ اگرچہ اس پر نوٹس بھی لیا گیا مگر ایک شخص کو ماورائے عدالت قتل کرنے پر کسی کی سرزنش نہیں ہوئی۔

چند ماہ پہلے ذرائع سے خبر چلوائی گئی کہ فوج کے پانچ افسران کو کرپشن کی پاداش میں برخاست کر دیا گیا ہے۔ اس پر چہار اطراف سے تعریفوں کے ڈونگرے برسائے گئے۔ مہینوں گزر کئے لیکن اِس خبر کی تصدیق نہ ہوسکی اور نہ ہی کسی نے کوئی ٹوئیٹ دینا مناسب سمجھی۔ آخر کو بادشاہ لوگ ہیں، کون پوچھ سکتا ہے۔

اِس کے بعد مشرف اور کیانی کے غیر قانونی بیرونِ ملک اثاثوں کی خبر ملی۔ ایک بار پھر چپ سادھ لی گئی۔ بھلا کسی کی کیا مجال کہ صاحب بہادر کے خلاف کوئی انگلی اٹھائے اور پوچھے کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے؟

اسامہ کا قتل عسکری چھاؤنی سے چند قدموں کی مسافت پر ہوا، ملا عمر کا علاج مبینہ طور پر کراچی میں ہوتا رہا، طالبان کے رہنماء اِس ملک میں گھومتے پھرتے رہے اور ڈرون کے ذریعے مارے بھی گئے لیکن عسکری حکام پر اس عالمی رسوائی پر ذرہ برابر فرق نہیں پڑا۔

حالیہ دنوں میں خبر آئی ہے کہ کوئی پچاس کے قریب کاروبار ہیں جو افواج ِ پاکستان چلا رہی ہے لیکن ایک ہو کا عالم ہے، ابلاغ ِعامہ خاموش ہے، صحافیوں کی زبان پر تالے ہیں، دانشور اپنا دامن بچائے بیٹھے ہیں اور کسی میں ہمت نہیں کہ آوازِ حق بلند کرے۔

راقم السطور کا سوال صرف اتنا ہے کہ ایسے میں مَیں اِس سرکار کو عسکری عملداری کیوں نا کہوں کہ جب ریاست کے امور چلائے ہی عسکری حکام کی جانب سے جا رہے ہوں، کہ جہاں تمام تر بے ضابطگیوں، ناانصافی، ظلم و جور کے باوجود سپہ سالار کے گن گائے جاتے ہوں اور ایک منتخب پارلیمان کے ہوتے ہوئے بھی طاقت کا سرچشمہ کوئی اور ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words