میاں نواز شریف صاحب کا دور ختم ہو گیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دور تو ویسے ہمارے ہینڈسم وزیرِ اعظم، جناب عمران نیازی صاحب کا بھی ختم ہو گیا ہے۔ مگر اس پر آنے والے چند اک دنوں میں سہی!

میاں نواز شریف صاحب کی اٹھان بہت دلچسپ کہانیاں لیے ہوئے ہے۔ اندرونِ خانہ ان کے جنرل جیلانی اور بعد میں جنرل ضیاءالحق کے ساتھ کیا معاملات رہے، یہ صرف وہ یا ان کے چھوٹے بھائی، جناب شہباز شریف صاحب ہی جانتے ہیں۔ آپ کے اور میرے پاس تو بس سینہ گزٹ ہی ہے۔

مثلا، اک کہانی یہ ہے کہ بھٹو صاحب نے اپنے کھوکھلے اور پاپولسٹ اسلامی سوشلزم (ویسے “اسلامی سوشلزم” ہوتا کیا ہے؟) کے چکروں میں پاکستانی صنعت اور صنعتکاروں کا ایسا کباڑہ کیا، جو آج تک جاری ہے، اور نامعلوم کب تک جاری رہے گا۔ اس کباڑے میں جناب میاں محمد شریف مرحوم کی صنعتیں بھی آ گئیں، اور بھٹو خاندان سے نفرت، جی ہاں، شروع میں یہ نفرت ہی تھی، میاں نواز شریف صاحب کو جنرل جیلانی اور ان کے توسط سے جنرل ضیاءالحق کے قریب لے آئی۔

اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ میاں نواز شریف صاحب نے اپنے تقریبا تمام سیاسی کرئیر میں خوفناک اور بھرپور اندرونی طاقت رکھنے والی اسٹیبلشمنٹ سے بے پناہ معاملات کیے۔ پنجاب کے وزیرخزانہ کے دور سے لے کر، 1997 کے الیکشنز تک، ہمارے جراتوں کے نشان، ان کے آس پاس ہی رہے۔ میاں صاحب بھی پاکستانی سیاست میں طاقت کے کھیل کے کھلاڑی بن کر ابھرے۔ نظریے کے نہیں۔

ان کی سیاسی سمت میں تبدیلی شاید محترم بوبی کمانڈو کے ہاتھوں اپنی تذلیل کی انتہا کیے جانے کے بعد شروع ہوئی، اور انہوں نے اک آزاد اور تعمیری سیاست کی جانب قدم بڑھانے کی کوشش کی۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے ساتھ ان کا چارٹر آف ڈیموکریسی، ان کا تعمیری سیاست کرنے کی جانب جھکاؤ کی اک عمدہ دلیل ہے۔ مگر للعجب کہ، اس چارٹر سے اولین روگردانی محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے اس وقت کی جب انہوں نے محترم بوبی کمانڈو کے مشیران کے ساتھ دبئی اور لندن میں پاور-شئیرنگ کے فارمولا ڈسکس کرنے شروع کیے۔

پیپلز پارٹی، جس کا نظریہ بھٹو صاحب کے دورِ حکومت کے پہلے برس ہی ٹائیں ٹائیں فش ہو چکا تھا، نے پھر یہ دن بھی دیکھا کہ جناب زرداری صاحب نے کہا کہ وعدے، احادیث اور قرآنی آیات نہیں ہوتے کہ ان سے پھرا نہ جا سکے۔

بی بی محترمہ کی شہادت کے بعد، میاں صاحب نے اک پاکستان میں اک اجتماعی سیاسی شعور کی جانب تعاون کی فضا بنانے کی خاطر، جناب زرداری صاحب کے ساتھ اک مخلوط حکومت بھی کچھ عرصہ چلائی، مگر پھر اسی حکومت کے خلاف، میمو گیٹ کے گندے انڈوں کے آملیٹ کا حصہ بھی بنے۔

پاکستانی ریاست کی مقتدرہ نے انہیں اک طویل Procedural Manipulation کے بعد طاقت کے کھیل سے باہر نکالا ہے۔ “ذہین ترین” پاکستانی قوم کی ذہن سازی اک نئے پولیٹیکل آرڈر کی صورت میں، انہیں اور دوسری سیاسی جماعتوں کو کرپٹ ثابت کر کے کی ہے۔ سیٹھ میڈیا کے عظیم پاکستانی دانشور “صحافیوں” نے اس نئے پولیٹکل آرڈر میں حصہ بقدر جثہ ڈالا ہے، اور یہ وار اتنی شدت والا ہے کہ اگر اس کا زخم بھر بھی جائے تو نشان رہ جائے گا۔ اس نشان میں سے اگر کبھی ٹیس اٹھے بھی تو انہیں یہ سمجھنا چاہئیے کہ دنیا میں پاکستانی سٹیج پر، ان کا وقت اب اختتام کے قریب ہے۔ یا پھر ختم ہو چکا ہے۔

پاکستانی سیاست میں یہ رِیت رہی ہے کہ بھلے بوائی اور اٹھان مخصوص گملے میں ہوئی ہو، اگر پودے نے اپنی جڑیں بنانے کی کوشش کی تو پھانسی، جلاوطنی، دھماکہ اور نااہلی مقدر ٹھہری۔ بھٹو صاحب اور بی بی محترمہ جتنی بڑی اور وزنی تو نہیں، مگر میاں صاحب نے بھی بہت قیمت ادا کی ہے۔ اس قیمت کی ادائیگی وہ اپنے سیاسی عروج کے ایڈوانس کی شکل میں پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔ اب ادائیگی شاید ممکن نہیں۔

تیسری مرتبہ برطرف کر دئیے جانے کےبعد، ان کی جگہ میں ہوتا تو اس زمین پر اپنی گزاری گئی زندگی کی بےثباتی کو جان جاتا۔ خاموشی سے اپنی ضعیف والدہ کی خدمت کرتا، اپنی صحت کا خیال رکھتا، اور خود سے کہتا کہ اک بھرپور ذاتی اور سیاسی زندگی گزری۔ زندہ ہوں، حیات ہوں تو باقی ماندہ زندگی میں وہ کر لوں جو میں کبھی اپنے اوائل جوانی میں کرنا چاہتا تھا۔

 سیاسی جماعتیں نظریہ سے عوام میں جڑیں بناتی ہیں، جو انہیں پھر مہیب طاقت کے تاریک استعمال کے خلاف اصولوں کی بنیاد پر کھڑا ہونے کی طاقت فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان میں کسی مین اسٹریم سیاسی جماعت کا کوئی سیاسی نظریہ نہیں۔ مسلم لیگ نواز کا بھی نہیں ہے، تو لہذا نظریہ کی غیر موجودگی میں سویلین بالادستی کی بحث اک بےبنیاد بحث ہے۔

بحثیت اک پاکستانی شہری، میں کسی ادارے کے ہاتھوں، کسی بھی سیاستدان کی نااہلی کو جبری نااہلی سمجھتا ہوں۔ مگر میرا ایسے سمجھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بالکل ویسے ہی کہ جیسے مسلم لیگ کے کارکنان انہیں چوتھی مرتبہ وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہوں گے، مگر ان کی اس خواہش سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

پس تحریر: راقم کو ہم سب پر لکھے گئے تقریبا ہر مضمون پر ہی کہیں نہ کہیں سے الٹی سیدھی سننا پڑتی ہیں۔ داڑھیاں اور ساڑھیاں اوڑھے رجعت اور ترقی پسند، تمام دوستوں کا دلی شکریہ۔ اس سے میرا ہاضمہ ٹھیک رہتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>