پاکستانی مسیحیوں کا عالمی دہشتگردی پر موقف
سوال یہ ہے کہ کیا سری لنکا میں ہونے والے چرچ دھماکوں اور نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی میں کوئی فرق ہے، سوال توویسے یہ بھی ہے کہ کیا پاکستانی مسیحیوں کی اکثریت کیا اپنے آپ کو کسی عالمگیر مسیحی تحریک کے ساتھ وابستہ سمجھتی ہے۔ نیوزی لینڈ میں ایک دہشتگرد نے فارنگ کی اور پچاس سے زائد لوگ اپنی جانیں ہار گئے۔ ساری دنیا نے اس کی مذمت کی۔ نیوزی لینڈ کی وزیرِاعضم بالکل واضح سوچ کے ساتھ منظرِ عام پر آئی اور وہی ردِعمل دیا جو کسی بھی مہذب انسان کا ردِعمل ہو سکتا تھا، تا ہم سوشل میڈیا پر واضح طور پر دیکھنے میں آیا کہ پاکستانی مسیحی دہشت گردی کی اس ہیبت ناک واردات پر وزیرِاعظم نیوزی لینڈ کے ردِعمل کو مسیحی تعلیم وتربیت کا نتیجہ قرار دیتے رہے، اور فخر کے ساتھ اس طرح کے سٹیٹس لگائے گئے جیسے وزیرِاعظم نیوزی لینڈ ان کے خاندان کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ بڑے فخر کے۔ ساتھ یہ کہا گیا یہ ہوتا ہے دہشت گردی پر موقف، ”ہم“ تو اسی طرح دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ
اس کے بعد ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں دہشت گردی کا افسوس ناک واقع ہوا تو ہمارے مسحی دوستوں کو موقع مل گیا۔ اور سری لنکا میں ہونے والے اس افسوس ناک واقع کو یوں بیان کیا گیا جیسے یہ پاکستانی اداروں کی غلطی سے ہوا ہے، یہاں تک کہا گیا کہ پاکستانی وزیرِاعظم کو سری لنکا جانا چاہیے، یہ ٹھیک ہے بہت بڑی دہشت گردی ہوئی اور معصوم لوگ اس کی بھینٹ چڑھے اور اگر وزیرِآعظم سری لنکا جاتے تو پاکستان کا دنیا میں اچھا امیج بنتا لیکن وزیرِ اعظم کے نہ جانے کو ایسے سمجھنا جیسے وہ ہمارے کسی عزیز کے دہشت گردی کا شکار ہونے پر ہمارے گھر افسوس کرنے نہیں آئے یہ طرزعمل بھی کسی انتہا پسندی سے کم نہیں۔
میرے علم کے مطابق دنیا میں ایسی کوئی مسیحی تحریک نہیں جو سیایس بنیادوں پر عالمگیر کلیسیا جیسی کسی بنیاد پر کھڑی ہو۔ جب ہم دوسروں کو اس طرزِعمل پر طنز اور تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو ہمیں اس پرغور کرنا ہو گا کہ ہم بھی دنیا بھر کے مسیحیوں کے مامے نہیں بن سکتے اور یہ طرزعمل کسی طرح بھی حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔
دہشت گردی ایک قبیح فعل ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کو ایک ہی طرح سے امن وسلامتی کے لیے خطرہ سمجھنا ہو گا۔
یہ بھی ٹھیک ہے کہ بطور اقلیت پاکستان میں رہنے والے مسیحیوں کو بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے، سمجی طور پر بھی مسائل ہیں اور ریاستی طور پر بھی قانون سازی کا عمل بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے ایک چیلنج ہے، پاکستان میں رہنے والے مسیحیوں نے ان مشکلات کا اگر حقیقت پسندانہ تجزیہ نہ کیا تو ان مسائل کے حل کے لئے کی جانے والی کاوشیں ثمرآور نہیں ہوں گی۔ ذرا غور کریں کہیں ایسا تو نہیں جن باتوں پر ہم دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے وہ اب خود بھی کر رہے ہیں۔ جس طرزِعمل پر ہم اکثریت کو غلط کہا کرتے تھے اس کا اب ہم خود بھی شکار ہو گئے ہیں۔
اگر ہم اپنے آپ کو دنیا کے دوسرے حصوں میں رہنے والے مسیحیوں کے ساتھ وابستہ کریں گے تو یہاں کس سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گے، پاکستانی مسیحیوں کو تو پہلے ہی مغربی دنیا کے ساتھ جوڑنے کا عمل سماجی اور ریاستی سطح تک ہو رہا ہے، تو کیا ہم اس تاثر کو مضبوط تو نہیں کر رہے۔
مجھے ایسے لگتا ہے کہ ہمارا موجودہ رویہ انتہا پسندی کی بریکٹ میں آ رہا ہے۔ جس میں ہم مزید آگے کی طرف جا رہے ہیں ایک بات بالکل واضح ہے، یہ سفر آگے کا نہیں پیچھے کا ہے۔ چوٹ لگنے پر تڑپنا بالکل قدرتی ہے لیکن ایک چوٹ لگی کس کو ہے، یہ دیکھنا بھی ہمارا ہی کام ہے۔ سری لنکا میں دہشت گردی ہوئی یہ بہت ہی بڑا ظلم ہوا، ہر کسی کو اس کی مذمت کرنی چاہیے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کو ہمارے ساتھ ہوئی دہشت گردی کہنا درست نہیں ہے۔
یہ ہمارے جیسے انسانوں کے ساتھ ہوئی لیکن وہ انسان کسی اور جغرافیائی حدود، میں رہتے ہیں اور کسی اور ریاست کی ذمہ داری ہیں اور وہ ریاست ہی ان کے مسائل کے حل کی ذمہ دار ہے۔ ہمیں ردِعمل دینا ہے کہ ہم مہذب دنیا کے انسان ہیں لیکن اس ہمارے ساتھ ہونے والی دہشتگردی کہنا مذہبی انتہا پسندی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس طرزِعمل سے ہم ہمارے حقیقی مسائل سے لاتعلق بھی ہو سکتے ہیں۔
میرا احساس ہے کہ ہم اپنی مشکلات کی وجہ سے بہت سارے مغالطوں کا شکار ہو گئے ہیں اور ردِعمل دیتے ہوئے محض مذہبی بنیادوں پر سوچتے ہیں اہنے ارد گرد موجود دیگر حقائق کو نظر انداز کر دیتے ہیں، نیوزی لینڈ والے واقعہ کو بھی ہم نے اسی طرح دیکھا، وزیرِاعظم نیوزی لینڈ، کے موقف کو مسیحی بنانے کی کوشش کی حالانکہ وہ صرف ایک مہذب انسان کا دہشت گردی ہر ردِعمل تھا۔ وہ تو مسیحی ہے بھی نہیں اور باقاعدہ اعلان کر کے مسیحیت چھوڑ چکی ہے۔ ہو بھی تو اس کے ردِعمل سے نیوزی لینڈ کے لوگوں کا قد کاٹھ بڑھا ہے، ہمارا کیا تعلق اس سب سے۔
کیا ہم نہیں جانتے کہ آئے روز ہمیں سماجی سطح پر ہمارے ہی جاننے والے مغربی دنیا کے ساتھ جوڑتے ہیں، اور ہمیں کہتے کہ آپ لوگوں کو ویزے وغیرہ کا کوئے مسئلہ نہیں وہاں تو آپ کے لوگ بیٹھے ہیں۔
اور ہم ان کو یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بھائی ہم تو صدیوں سے اسی دھرتی پر مقیم ہیں کسی گورے کی اولاد نہیں۔ لیکن ہمارا یہ طرزِ عمل کہ ہم نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کی مذنت سے زیادہ اس کی وزیرِاعظم کے ردِ عمل کو اپنی گفتگو کا حصہ بنائیں اورسری لنکا میں ہونے والی دہشت گردی پر اپنی حکومت سے وزیرِاعظم نیوزی لینڈ جیسے ردِ عمل کی توقع رکھیں
پاکستان بننے کے بعد گوروں کو جو عہدے ملے وہ اس وقت کی صورتِحال کا نتیجہ تھے لیکن ہمارے لوگوں نے ان گوروں کو بھی اپنا ہیرو ثابت کرنے کے لیے کتابیں تک لکھ ماری ہیں۔
ہمیں ہر حال میں اپنے اس طرزِ عمل سے رجوح کرنے کی ضرورت ہے۔ اور وہ حکمتِ عملی بھی جو ہمیں پورے زور کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنے کے قابل بنا سکے۔ اور یہ بھی کہ ہمارے مسائل کیا ہیں، چلتے چلتے ایک لطیفہ سن لیجیے۔ کہتے ہیں گوروں سے آزادی کے تحریک چل رہی تھی، اور روزانہ جلوس وغیرہ نکلتے تھے۔ ایسے ہی ایک جلوس کو دیکھ کر سڑک پر جھاڑو لگاتی مارتھا نے ایگنس سے پوجھا کہ کیا مانگتے ہیں یہ لوگ تو ایگنس نے جھاڑو ایک طرف رکھ کر ماتھے سے پسینہ پونچھا اور بولی ہم سے آزادی مانگ رہے ہیں۔


