کپتان سرفراز کے ارادے اور بابا بشیر کے صدمے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بابا بشیر احمد ہمارے نئی پڑوسی ہیں، وہ حال ہی میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہوئے ہیں، بابا جی کسی سرکاری محکمے سے ریٹائرڈ ہیں، اکثر آتے جاتے میری ان سے علیک سلیک ہوجاتی ہے، انہوں نے ایک دودفعہ میرے ہاتھوں میں کتابیں، میگزین اور اخبارات وغیرہ دیکھے تو پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا، چنانچہ تب سے وہ قابل مطالعہ مواد مستعار لیتے اور واپس کرتے رہتے ہیں، بعض دفعہ تو مجھے پاس ہی بٹھا لیتے ہیں اور اخبارات وغیرہ پڑھ کر رواں تبصرہ بھی کرتے جاتے ہیں، دو دن پہلے میں ان کے گھر کے سامنے سے گزرا، لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے موصوف اپنی بیٹھک کا دروازہ کھولے بیٹھے تھے، مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے، یار آؤ مل کر کچھ آہ و زاریاں کرتے ہیں۔

میرے ہاتھ میں اس دن کا ایک قومی اخبار تھا، بابا جی نے اخبار پڑھنا شروع کردیا، ورق گردانی کرتے کرتے جب کھیلوں کے صفحہ پر پہنچے تو میں نے ان کے اندر عجیب سی تبدیلیاں آتی دیکھیں، ان کے چہرے پر گہرا تناؤ، ماتھے پر نمی، جسم پر رعشہ سا طاری تھا اور وہ زبان سے بار بار بڑبڑارہے تھے ”“ نہیں۔ نہیں۔ نہیں۔ اب کہ نہیں۔ نہیں۔ اب کہ نہیں ”وہ برابر ہذیانی انداز میں نہیں نہیں چلارہے تھے اور پھر دھڑام سے نیچے گر کر بے سدھ ہوگئے۔

میں بہت پریشان ہوا کہ جانے کیا ہوا اور اب یہ مدعا مجھ پر ہی نہ پڑجائے۔ بابا جی کے گھر والے خاندان کی کسی شادی میں گئے ہوئے تھے۔ میں نے امدادی ایمبولینس کو فون کیا۔ اور بابا جی کو ہسپتال منتقل کیا۔ ان کے گھروالوں سے بھی جیسے تیسے رابطہ ہوگیا۔ وہ بھی ہسپتال پہنچ گئے۔ علاج معالجہ شروع ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے۔ مریض کو کوئی سخت گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ آپ نے اچھا کیا جلدی یہاں لے آئے وگرنہ خطرے کی صورت ہوسکتی تھی۔

ایک دو روز کے علاج کے بعد بابا جی ہوش میں آگئے۔ ان کے خاندان نے پوچھا کہ بابا جی کیا مسئلہ ہوا تو کہنے لگے پتہ نہیں میری سمجھ سے باہر ہے۔ تیسرے روز انہیں ہسپتال سے چھٹی مل گئی۔ ڈاکٹر نے کچھ ادویات اور احتیاطی تدابیر لکھ دیں۔ وہ جب گھر آئے تو میں تیمارداری کو ان کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے پھر بابا جی کو کریدا کہ کیا مسئلہ بنا۔ بابا جی نے بتایا۔ پتر۔ 92 ورلڈ کپ کے موقع پر میں ادھیڑ عمر میں تھا۔ میں کرکٹ اور کپتان کا شیدائی تھا۔

جب میرا کپتان جارحانہ انداز میں بھاگ کر گیند بازی کرتا۔ میرا دل کھینچ کر ساتھ ہی لے جاتا۔ کیا قاتل ادائیں ہوتیں جب وہ بلا تھامے۔ وکٹ پر ایک عجیب سی شان بے نیازی سے کھڑے ہوتے۔ پھر یوں ہوا۔ کہ کپتان کی قیادت میں ورلڈ کپ ہمارے ملک میں آگیا۔ حالانکہ ہماری ٹیم رُلتی کھُلتی آخری مراحل تک پہنچ پائی تھی۔ ماہرین اور تجزیہ کار طرح طرح کے قیافے لگارہے تھے لیکن کپتان نے سب قیافے اور قیاس آرائیاں ختم کردیں۔

پھر کپتان نے اعلان کیا وہ ملک میں عالمی درجے کا جدید ترین ہسپتال بنائے گا۔ لوگوں نے اس اعلان کو دیوانے کا خواب قرار دیا لیکن چشم فلک نے دیکھا میرے کپتان نے وہ دعویٰ بھی پورا کردیا۔ پتر اس کے بعد کپتان نے میدان سیاست میں قدم رکھنے کا اعلان کردیا۔ مجھے تو سوتے جاگتے ہرسو تبدیلی نظر آنے لگی۔ میں جاگتی آنکھوں خواب دیکھتا کہ پوری دنیا سے لوگ میرے ملک میں نوکریوں کے لیے جوق در جوق چلے آرہے ہیں۔ سارے چور اچکے جیلوں میں جاچکے ہیں۔

ریاست مدینہ کی طرح لوگ اپنی جائدادوں اور املاک میں دوسروں کو بخوشی شریک کررہے ہیں۔ ملک کے ذمے سارا قرضہ کپتان نے عالمی مالیاتی اداروں کے منہ پر دے مارا ہے۔ پولیس جیسے محکمے سے گلو بٹ کلچر ختم ہوچکا ہے اور اس کی جگہ سکاٹ لینڈ یارڈ جیسی شاندار پولیس معرض وجود میں آچکی ہے۔ وہ دور لدگئے جب وزیر اعظم پرچی سے دیکھ کر بات کیا کرتے تھے۔ اب تو فصاحت و بلاغت کے شہکار سننے کو ملیں گے۔ جنہیں سن کر دنیا سر دھنا کرے گی۔

پتر یہ سب میرے خواب تھے لیکن تجزیہ کار اور سیاسی پنڈت کپتان کو سیاسی میدان میں کوئی بھی اہمیت دینے کو تیار نہ تھے لیکن میں جانتا تھا کہ کپتان جو کہتا ہے وہ کردکھاتا ہے۔ اس لیے میں نے جی جان سے کپتان کے قافلے میں جدوجہد شروع کردی۔ جب لگا کہ کپتان کی جدوجہد ثمر آور ہونے کو ہے تو ہمیں لگا کہ کچھ نئی قسم کی تبدیلی آرہی ہے۔ یہ تبدیلی بالکل ایسی نہ تھی۔ جس تبدیلی کے کپتان نے ہمیں خواب دکھائے تھے۔ جماعت میں ایسے لوگ گروہ در گروہ آرہے تھے۔ جن کے خلاف کپتان نے جدوجہد شروع کی تھی۔ یہی وہ ہمارے نظام کا ناسور تھے۔ جنہوں نے ہردور میں ہمارے پورے ملکی نظام کو یرغمال بنارکھا ہے۔ ہم نے اس بات پر بے چینی محسوس کی۔ ہمیں کہا گیا کہ گھبرانے کی بات نہیں۔ ان الیکٹیبلز کے بغیر ہم اپنی منزل ہرگز نہیں پاسکتے۔ ویسے بھی جب اوپر بندہ ٹھیک ہوتا ہے۔ تو نیچے والے کچھ نہیں کرسکتے۔ ہم اور زور سے گانے لگے۔ بنے گا نیا پاکستان۔ خیر ہماری حکومت اقتدار میں آگئی۔

ہمیں بتایا گیا کہ اسحاق ڈار ہمارے تمام مسائل کا سبب تھے۔ ہم تو اسے کبھی اسحاق ڈالر اور کبھی کچھ اور کہتے۔ اسد عمر کس اعتماد سے معاشی مسائل کا حل بتاتے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ پٹرول مہنگا ہونے کی صورت میں وقت کا حکمران اپنی جیبیں بھرتا ہے۔ اب اسدعمر ایسے تبدیلی اور انقلاب کو پیارے ہوئے ہیں کہ ہمارے کڑاکے نکال کر چلتے بنے ہیں۔ اب تو اسحاق ڈار پیارا پیارا سا لگتا ہے۔ پہلے وزیراعظم پرچی دیکھ کر پڑھتے تھے لیکن جو بھی پڑھتے تھے۔ شاید درست ہی ہوتا تھا لیکن اب ہنڈسم کپتان جب بات کرتے ہیں ملکوں نے فاصلے پلک جھپکتے ہی ختم ہوجاتے ہیں اور طرح طرح کی ایجادات اور طلسمات کے درواء ہوتے ہیں۔ پتر۔ قائد اعظم کے سنہری اصولوں میں سے ایک اصول اتحاد بھی ہے۔ اتحاد کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے جزولازم ہے۔ وہ ہماری تنظیم میں کہیں نظر نہیں آتا۔ آئے روز ایسی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں کہ جماعتی قائدین آپس میں ہی گھتم گھتا ہیں۔

ماضی میں پڑوسی ملک کا وزیراعظم ہمارے وزیر اعظم کے گھر میں آ جایا کرتا تھا۔ ہمیں بہت غصہ آتا تھا کہ مودی کا یار ہمارے ملک کو پلید کررہا ہے۔ اب کرتار پور بارڈ کا راستہ کھولتے وقت ہماری حکومت نے کیا کیا منتیں نہیں ڈالیں لیکن وہ بدبخت اس تقریب میں نہ آیا۔ چنانچہ ہم نے ایک ایم پی سدھو کی بلائیں لے کر انہیں برصغیر کا مہان قائد مان کر دل کو تسلی دی۔ پتر کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں۔ ہماری امیدوں کے مینار کوئی دن ہے کہ مکمل چکنا چور ہونے کو ہیں۔ یقین ہوچلا ہے کہ یہ تبدیلی محض سراب ہے۔

ٹرک کی بتی ہے۔ منزل ہرگز نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم نے الٹے قدموں سے سارا سفر طے گیا۔ جتنا آگے جانے کی خواہش کی ہے اتنا ہی پیچھے کو پلٹے ہیں۔ اللہ نہ کرے کپتان مکمل ناکام ہو۔ اگر مکمل ناکام ہوگیا تو پتر۔ جب پہلے والے آئیں گے۔ تو پہلے سے بھی زیادہ کروفر کے ساتھ آئیں گے۔ ان کے غرور کا کیا عالم ہوگا۔ ہمارا کپتان اب بھی کسی کو صاحبہ کہتا ہے۔ کسی کو ڈیزل کے طعنے دیتا ہے۔ لوگ اس کے حسن کے چرچے کرتے ہیں اور ادھر ہم مہنگائی سے مرے جاتے ہیں۔

بابا جی کی طویل بریفنگ سے میں بور ہوچکا تھا۔ لہذا میں جھنجلا کر بولا۔ بابا جی اس سارے قصے کا آپ کی بے ہوشی، طبیعت کی خرابی اور صدمے سے کیا تعلق ہے۔ بابا جی نے ایک سرد آہ بھری۔ اور گویا ہوئے۔ پتر۔ کھیلوں والے صفحے پر موجودہ کرکٹ کپتان سرفراز احمد کی تصویر اور بیان چھپا ہوا تھا۔ وہ کہ رہ تھے کہ۔ ”قوم دعا کرے“، میں بھی عمران خان کی طرح ورلڈ کپ جیت کر لاؤں ”۔ پتر آپ ہی کہو۔ ابھی ہم پہلے ورلڈ کپ کی جیت بھگت رہے ہیں۔ اور نہ جانے کب تک بھگتیں۔ اور اگر۔ ۔ اس کے بعد بابا جی پھر بے ہوش ہوگئے۔ اور میں نے وہاں سے دوڑ لگادی کہ بابا جی کہیں میرے گلے ہی نہ فٹ ہوجائیں اور دوبارہ سے بابا جی کے ساتھ کسی بھی قسم کی گپ شپ سے توبہ کرلی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •