پنجاب کی تباہی میں خالصہ فوج کا کردار (دوسرا حصہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہاراجا شیر سنگھ اور وزیر دھیان سنگھ میں رنجش دن بدن بڑھنے لگی۔ دھیان، شیر سنگھ کو ہٹا کر تخت پر کسی اور کو بٹھانا چاہتا تھا جبکہ شیر سنگھ وزیر دھیان سنگھ کا خاتمہ چاہتا تھا۔

دوسری طرف سندھاوالیے سردار لہنا سنگھ اور اجیت سنگھ یہ قسمیں کھائے بیٹھے تھے کہ جب تک وہ مہاراجا شیر سنگھ اور وزیر دھیان سنگھ کا خاتمہ نہیں کر لیتے تب تک دائیں ہاتھ سے کھانا نہیں کھائیں گے۔

ایک دن دھیان سنگھ سردار لہنا سنگھ کو بلا کر کہنے لگا: ”بلاشبہ مہاراجے نے آپ کے عہدے اور جاگیریں بحال کر دی ہیں لیکن اس کا دل آپ کی طرف سے صاف نہیں ہے۔ اسے ڈر ہے کہ اجیت سنگھ انگریزوں کو بھڑکا کر کوئی مصیبت نہ کھڑی کر دے۔ اب وہ آپ سندھاوالیوں کو مروا دینا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں مہاراجے نے مجھ سے بھی مشورہ مانگا لیکن میں نے یہ بات سن کر خاموشی اختیار کر لی۔ آپ پر یہ راز اپنا قریبی دوست سمجھ کر ظاہر رہا ہوں۔ “

لہنا سنگھ نے اس کا حل پوچھا۔

دھیان سنگھ نے کہا: ”اس سے پہلے کہ مہاراجا آپ کو مروا دے، آپ مہاراجے کو قتل کر دیں۔ “

”اس کے بدلے ہمیں کیا ملے گا؟ “ لہنا سنگھ نے پوچھا۔

دھیان سنگھ نے جواب دیا: ”سچی بات تو یہ ہے کہ میں اب راج کے کاموں سے اکتا گیا ہوں۔ جی چاہتا ہے کہ سب کچھ تیاگ کر کانشی چلا جاؤں گا۔ وہاں روز گنگا ماتا کے درشن ہوں گے اور دھو دھو کر اپنے پاپ اتاروں گا۔ یہ بات آپ کے بھلے کے لیے ہی شروع کی ہے۔ شیر سنگھ کو قتل کر کے شیرِ پنجاب کے چھوٹے بیٹے دلیپ سنگھ کو مہاراجا بنا کر خود، لہنا سنگھ جی! وزیر بن جاؤ۔ پھر راج کے مالک آپ ہوں گے۔ ہمیں بس جموں جاگیر کے طور پر دے دینا۔ “

سندھاوالیے سردار مہاراجا شیر سنگھ کے پاس پہنچے۔ ڈوگروں کی ساری چال بتاتے ہوئے لہنا سنگھ نے کہا: ”ہم اس لیے آئے ہیں تاکہ آپ کو خبردار کر دیں۔ آج اس نے ہمیں بھیجا ہے۔ آپ کو اپنا سمجھ کر ہم نے خبردار کر دیا۔ اس کے سامنے کوئی بہانہ گھڑ لیں گے۔ لیکن کل اگر اس نے اسی کام کے لیے کوئی دوسرا شخص بھیجا تو؟ سو مہاراجا جی! اب وقت ہے۔ اپنا بچاؤ ہو سکے تو کر لیجیے۔ “

آخر مہاراجے نے انھیں وزیر دھیان سنگھ کے قتل کا حکم لکھ دیا کہ ”دھیان سنگھ کا قتل کر دو۔ خون معاف! اس کی جگہ لہنا سنگھ وزیر بنا لیا جائے گا۔ سندھاوالیوں کی جاگیریں دگنی کر دی جائیں گی۔ “

انھوں نے یہ اقرار نامہ لکھوا کر وعدہ کیا کہ 15 ستمبر کو ’ہماری فوج‘ کو حاضری کی اجازت دی جائے۔ ( خالصہ فوج کے علاوہ جاگیرداروں کے ماتحت ان کی اپنی فوجیں بھی ہوا کرتی تھیں، جیسے جموں کے ڈوگروں کی ’ڈوگرا فوج‘ وغیرہ، جبکہ ’خالصہ فوج‘ براہ راست لاہور دربار کے تحت تھی۔ جاگیرداروں کے ماتحت فوجیں ضرورت پڑنے پر خالصہ فوج کے ساتھ جنگ میں شامل ہوتیں تھیں ) ۔ ہم اسی دن دھیان سنگھ کو قتل کر دیں گے۔

اگلے دن دونوں سردار لاہور میں دھیان سنگھ کو ملے۔ مہاراجے کا لکھا حکم اس کے سامنے رکھا۔ جب اپنے قتل کا حکم پڑھا کر دھیان سنگھ کی اندر کی سانس اندر اور باہر کی باہر رہ گئی۔

وہ لہنا سنگھ کے قدموں میں گر پڑا اور جان بخشی کی درخواست کی۔ دھیان سنگھ نے کہا کہ ’گرونانک کے واسطے میری جان بخش دو۔ مجھے جموں بھی نہیں چاہیے۔ پنجاب سے ایک گز زمین بھی نہیں چاہیے۔ دیس سے نکل کر مانگ تانگ کر گزارہ کر لوں گا۔ گرونانک کے واسطے میری جان بخش دو۔ ‘

لہنا سنگھ نے جواب دیا: راجا جی آپ نے ہمارے ساتھ کبھی نیکی نہیں کی۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’کر بھلا سو ہو بھلا‘ ۔ سو ہم آپ کو معاف کرتے ہیں۔ ”

معافی کا سن کر دھیان سنگھ کی جان میں جان آئی۔

کہنے لگا: ”آپ میرے ساتھ بھلا کر رہے ہیں تو آپ کا برا میں نے بھی کبھی نہیں چاہا۔ مجھے تو رب نے بنایا ہی نیکی کے لیے ہے۔ مجھے کیا معلوم کہ برائی کسے کہتے ہیں۔ میری تو نیکی کرنے کی عادت پک چکی ہے، میں آپ کے ساتھ کیسے دھوکا کر سکتا ہوں۔ بے شک آپ میرا برا سوچ کر آئے لیکن میں آپ کا بھلا ہی سوچتا ہوں۔ آپ شیر سنگھ کی چالوں سے واقف نہیں۔ اگر جینا چاہتے ہیں تو شیر سنگھ کو مار دیں۔ ’

وہیں فیصلہ پکا ہو گیا۔ سندھاوالیوں نے مہاراجے والی شرط دھیان سنگھ سے بھی لکھوا لی اور وہی اقرار اس سے بھی کیا کہ 15 ستمبر کو اپنی فوج کی حاضری کے وقت مہاراجے کو قتل کر دیں گے۔

مہاراجے اور وزیر دونوں سے اقرار نامے لکھوا کر دونوں بھائی راجہ سانسی چلے گئے۔

15 ستمبر کو شیر سنگھ لاہور سے 3 میل دور کھلے میدان میں کیمپ لگا کر بیٹھا تھا۔ لہنا سنگھ اور اجیت سنگھ 5 ہزار فوج لے کر حاضری کے لیے آئے۔ فوج کا ایک دستہ توپوں کے پاس چھوڑ کر دونوں مہاراجا شیر سنگھ کے خیمے کی طرف بڑھے۔ اندر داخل ہوتے ہی شیر سنگھ کو گولی مار دی۔

اب دونوں قلعے کی طرف بڑھے تو سامنے مہاراجا شیر سنگھ کا بڑا بیٹا ’ٹکا پرتاپ سنگھ ”نظر آیا۔ وہ اس وقت پنڈتوں میں خیرات تقسیم کر رہا تھا۔ لہنا سنگھ نے اس کا سر کاٹ لیا۔

دونوں باپ بیٹوں کو مار کر سندھاوالیے قلعے پر قبضہ کرنے کے لیے قلعے کی جانب چلے۔ قلعے کے باہر ہی دھیان سنگھ مل گیا۔ وہ اس کے ساتھ ہی قلعے میں داخل ہوئے۔

سندھاوالیوں کی فوج قلعے کے باہر پہرا دے رہی تھی۔

لہنا سنگھ اور دھیان سنگھ ایک دوسرے کے بازؤں میں بازو ڈالے چل رہے تھے۔ گیانی گرمکھ سنگھ اور اجیت سنگھ ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ شیش محل کی باہر والی ڈیوڑھی کے قریب پہنچے۔

لہنا سنگھ نے پوچھا: ”راجا صاحب! اب راج پربندھ کس طرح ہو گا؟ تخت پر کون بیٹھے گا؟ “

”دلیپ سنگھ“

”وزیر کون ہو گا؟ “

بڑے ہنکار کے ساتھ دھیان سنگھ نے کہا: ”لہنا سنگھ جی! میرے خیال میں ابھی کسی ماں نے وہ لعل نہیں جنا، جو دھیان سنگھ کی جگہ پنجاب کا وزیر بن سکے۔ “

گیانی گرمکھ سنگھ نے کہا: ”یہ کہاں کا نیاں ہوا۔ جب کڑاہی نئی ہے تو کڑچھا کیوں پرانا رہنے دیا جائے“۔

اجیت سنگھ کے ہاتھ میں بندوق تھی۔ اس نے وہیں دھیان سنگھ کو گولی مار کر ڈھیر کر دیا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>